105

گوگل

منصب علی ورسک

گوگل کی بنیاد امریکی لیری پیج اور روسی نژاد امریکی سرگے برن نے 1998ء میں رکھی۔ شروع میں ایک وقت ایسا بھی آیا جب انہوں نے گوگل بیچنے کا سوچا اور ایکسائیٹ کے چیئرمین جارج بل کو دس لاکھ ڈالر کے عوض گوگل فروخت کرنے کی پیشکش کی، مگر جارج نے یہ سودا ٹھکرا دیا۔ گوگل کا نام لفظ Googol کی بنیاد پر رکھا گیا۔ Googol ایک بہت بڑے نمبر کو کہتے ہیں۔ ایسا نمبر جس میں ایک کے ساتھ سو صفر لگتے ہیں یعنی دس کی طاقت سو۔جلد ہی صارفین گوگل کو اس کے سادہ بناوٹ (Interface) اور تلاش کے بہتریں نتائج کی بدولت پسند کرنے لگے۔
2000ء تک اِس نے اپنے آپ کو ایک مستند سرج انجن کی وجہ سے انٹرنیٹی دُنیا میں مستحکم کر لیا۔
گوگل نے اسی عرصے میں صارفین کے ان الفاظ کو جن کی مدد سے وہ اپنا مطلب تلاش کرتے تھے (Search-Keyword-Ads) کا نام دے کر اشتہارات حاصل کرنا شروع کئے۔
یہ اشہارات صارفین کو اس صفحے پر دکھائی دیتے جہاں وہ تلاش کے نتائج دیکھتے تھے ان اشتہارات کی خوبی یہ تھی کہ یہ صرف لفظوں پر مشتمل ہوتے تھے اور صارفین کی طبعیت پر برا اثر نہیں چھوڑتے تھے۔آج بھی ٹیکسٹ اشتہارات گوگل کی آمدنی کا ایک بڑا ذریعہ ہیں۔گوگل متشرک۔ ایک امریکی عوامی ادارہ ہے اپنے قیام کے وقت گوگل کا مقصد عام صارفین کو انٹرنیٹ پر کسی بھی موضوع پر درکار مواد تلاش کرنے کے لیے سرچ انجن مہیا کرنا تھا۔ اسی وجہ سے گوگل کو مقبولیت حاصل ہوئی اور آج بھی یہ دنیا کا سب سے ذیادہ استعمال ہونے والا سرچ انجن ہے۔وقت کے ساتھ ساتھ گوگل نے خود کو بہت تبدیل کر لیا ہے اور آج کل یہ سرچ انجن کے علاوہ اور بھی کئی مختلف خدمات مہیاء کر رہا ہے۔ ان میں برقی پیغام رسانی(گوگل میل) ، وڈیو شئیرنگ (یوٹیوب) سوشل نیٹ ورک(گوگل پلس ) اور نقشہ جات(گوگل میپس) کے علاوہ بھی بیسیوں دیگر خدمات شامل ہیں۔
اس کا مرکزی دفتر، جوکہ گوگل پلکس (Googleplex) کہلاتا ہے، ماؤنٹین ویو (Mountain View) کیلی فورنیا (California) میں واقع ہے۔گوگل کی آمدنی کا سب سے بڑا انحصار انٹرنیٹ اشتہارکاری (Internet-Advertising) اور چند کمپیوٹر سوفٹوئیر (Computer-Software) کی فروخت پر ہوتا ہے۔اِس وقت گوگل کے کل ملازمین کی تعداد بیس ہزار کے قریب ہے۔جبکہ کل سالانہ آمدنی سولہ ارب امریکی ڈالرز سے زیادہ ہے
جوں جوں گوگل ترقی کرتا گیا اس نے دیگر شعبوں میں بھی قدم رکھنا شروع کیے اور چھوٹے موٹے اداروں کو خرید کر ان کی خدمات بھی صارفین کی طرف منتقل کرنے لگا۔
گوگل کا تحرک (Moto) شیطان مت بنو (Don’t be Evil) یہ واضح کرتا ہے کہ ادارہ کا بنیادی مقصد اپنے صارفین کی خدمت کرنا ہے نہ کہ اسے لوٹنا۔
اسی تحرک کو بنیاد رکھتے ہوئے جہاں تک ہو سکا گوگل نے اپنے صارفین کو مفت خدمات پیش کیں اور جن اداروں کو خریدا ان میں سے اکثر ایسے تھے جو اپنی مصنوعات صارفین کو فروخت کرتے تھے جیسا کہ کی ہول (Keyhole Inc) کا کمپیوٹر پرگرام ارتھ ویور (Earth-Viewer) جسے ادارہ سمیت گوگل نے خریدا اور اس کا ایک مفت حصہ اپنے صارفین کو مہیا کیا۔
مندرجہ ذیل لسٹ ان اہم اداروں کی ہے جسے وقتاً فوقتاً گوگل نے خریدا اور ان کی مفت خدمات صارفین کو پیش کیں۔
اپریل 2003 میں اپلائڈ سمینٹکس (Applied Semantics) نامی ادارے کو دس کروڑ بیس لاکھ ڈالر 102,000,000$ کے عوض خریدا۔ اس ادارے کی اہم خدمت لفضی اشتہارات (AdSense, AdWords) کی وصولی اور تشہیر ہے۔
جون 2004 میں بیدو (Baidu) جوکہ چائینز زبان کا سرچ انجن ہے کا 6 فیصد حصہ پچاس لاکھ ڈالر 5,000,000$ کے عوض خریدا۔
جولائی 2004 میں پکاسا نامی ادارے کو خریدا۔ یہ ادارہ تصاویرکو ترتیب دینے اور سنورنے کا کاروباری پرگرام بناتا تھا۔ گوگل نے اسے صارفین کے لیے مفت کر دیاہے۔
اکتوبر 2004 میں کی ہول نامی ادارے کو خریدا۔ اس ادارے کی اہم خدمت ارتھ ویور (Earth-Viewer) نامی پروگرام کی فروخت تھی۔ گوگکل نے اسے خرید کر گوگل ارتھ (Google Earth) کا نام دیا اور ایک حصہ صارفین کے لیے مفت کر دیا۔
جولائی 2005 میں کرنٹ کیمونیکیشن گروپ (Current Communications Group) نامی ادارے کو دس کروڑ 100,000,000$ کے عوض خریدا۔ اس ادارے کی اہم خدمت تیزرفتار حصول انٹرنیٹ (Broadband internet access) کی فراہمی ہے۔
دسمبر 2005 میں مشہور امریکہ آن لائن (AOL) نامی ادارے کا 5 فیصدحصہ ایک ارب ڈالر 1,000,000,000$ کے عوض خریدا۔ اس ادارے کی اہم خدمات صارفین کو برقی خط کی سہولت اور پیغام رساں (AOL-Messenger) نامی پروگرام کی فراہمی ہے۔
مارچ 2006 میں لاسٹ سافٹ وئر (Last Software@) نامی ادارے کو خریدا۔ اس ادارے کی اہم خدمت سہ سمتی نمونہ نگاری(3D modeling) پروگرام کا بنانا اور فروخت تھی۔ گوگل نے اسے خرید کر گوگل سکیچ آپ (Google Sketchup) کا نام دیا اور ایک حصہ صارفین کے لیے مفت کر دیا۔
اکتوبر 2006 میں مشہور یو ٹیوب نامی ادارے کو ایک ارب ساٹھ کروڑ ڈالر 1,650,000,000$ کے عوض خریدا۔ اس ادارے کی اہم خدمت انٹرنیٹ پر وڈیو کو دیکھنا اور دکھانا ہے (Video-Sharing) گوگل نے اسے مزید بہتر کیا۔
اپریل 2007 میں ڈبل کلک (DoubleClick) نامی ادارے کو تین ارب دس کروڑ ڈالر 3,100,000,000$ کے عوض خریدا یہ اب تدصولی اور تشہیر ہے جسے صارف اپنے مقام رابط (Website) پر دکھا سکتا ہے اور گوگل سے اس کے عوض معاوضہ لے سکتا ہے۔
جولائی 2007 میں پوسٹنی (Postni) نامی ادارے کو باسٹھ کروڑ پچاس لاکھ ڈالر 625,000,000$ کے عوض خریدا۔ اس ادارے کی اہم خدمت جی میل (Gmail) کی فراہمی ہے۔چونکہ گوگل صارفین کے بارے ہر قسم کا ڈیٹا اکٹھا کرتا ہے، برقی ڈاک کو پڑھتا ہے، اس لیے ذی ہوش صارفین اخفائے راز (privacy) کے حوالے سے گوگل سے شاکی رہے ہیں۔ بالآخر گوگل کے مالک نے ان اندیشوں کے برحق ہونے کا ان الفاظ میں اعتراف کر لیا: If you have something that you don’t want anyone to know, maybe you shouldn’t be doing it in the first place
Eric Schmidt, CEO Google
ماخذات:Securities and Exchange Commission۔ فروری 12, 2014۔
↑ “Google Inc. Announces Fourth Quarter and Fiscal Year 2014 Results”۔ Google۔ مورخہ 9 جنوری 2019 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
↑ “Google Inc. Annual Reports”۔ Google Inc.۔ جولا‎ئی 28, 2014۔ مورخہ 7 جنوری 2019 کواصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ اگست 29, 2014

اس مضمون پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں