25

کیا مالیکیول؟

کیا مالیکیول ،ایٹم اور سب اٹامک پارٹیکلز بھی اپنے ایکسسز کے گرد گردش کررہے ہیں؟

جواب: رضاالحسن صاحب

کلاسیکل فزکس میں کسی جسم کے اپنے ایکسز کے گرد گھومنے کو اس کی روٹیشن یا سپن کہتے ہیں۔ الیکٹران یا کسی بھی دوسرے سب اٹامک پارٹیکل کی جب سپن کی بات ہوتی ہے تو اینالوجی کے طور پر یہی سمجھایا جاتا ہے کہ الیکٹران یا دیگر سب اٹامک پارٹیکلز کی سپن ایسی ہی ہے جیسے سیارے اپنے محور کے گرد گھومتے ہیں۔ فزسسٹس کو اینالوجیز دینا بڑا پسند ہے لیکن اس طرح کی اینالوجیز اصل تصور کو بہت پیچھے چھوڑ دیتی ہیں۔ اب زمین کی اپنے محور کے گرد حرکت اور الیکٹران کی سپن میں بہت فرق ہے۔ اتنا فرق ہے کہ دونوں باتوں کا موازنہ بنتا ہی نہیں ہے۔ لیکن ایسی باتیں تصور بٹھانے کے لئے کر دی جاتی ہیں۔

سب اٹامک پارٹیکلز کی سپن ان پارٹیکلز کی ایک کوانٹم خصوصیت ہے جو ان کے سپن اینگولر مومینٹم سے منسلک ہوتی ہے۔ کوانٹم فزکس کی پیدائش سے بہت پہلے ہم یہ جان چکے تھے کہ اگر کوئی چارجڈ پارٹیکل حرکت میں ہے تو وہ میگنیٹک فیلڈ پیدا کرتا ہے۔ یہ میکس ویل مساواتوں سے ہمیں پتا چلا۔ یعنی اگر ایک الیکٹران حرکت میں ہے اور یوں اسے کسی بیرونی میگنیٹک فیلڈ میں رکھا جائے تو یہ لازمی ڈیفلیکٹ ہو گا۔ کیونکہ یہ بھی اپنا ایک میگنیٹک فیلڈ پیدا کر رہا ہے۔ اسی کلاسیکل تصور کو استعمال کرتے ہوئے سائنسدانوں نے کچھ تجربات کیے جن کا مقصد نیوکلئیس کے گرد حرکت کرتے الیکٹرانز کے میگنیٹک فیلڈز کی پیمائش کرنا تھا۔ لیکن ان تجربات نے حیرت کے دروازے یوں کھولے کہ حاصل ہونے والے نتائج سے یہ لگا کہ الیکٹرانز چھوٹے چھوٹے میگنیٹک فیلڈز بھی پیدا کر رہے تھے جو انکی نیوکلئیس کے گرد حرکت سے آزاد تھے۔ جس کا مطلب یہی نکل رہا تھا کہ یہ پیدا ہونے والے چھوٹے میگنیٹک فیلڈز الیکٹرانز کی روٹیشن کی وجہ سے ہیں اور یہ چھوٹے میگنیٹک فیلڈز الیکٹرانز کی نیوکلئیس کے گرد حرکت سے الگ ہیں۔ اب کلاسیکل دنیا میں دیکھا جائے تو بلکل ایسا ہی تھا کہ کوئی چارجڈ آبجیکٹ اگر روٹیٹ بھی کر رہا ہو تو پھر بھی وہ میگنیٹک فیلڈ تو پیدا کرے گا لہذا یہاں سے بادی النظر میں محسوس ہونے والی الیکٹرانز کی روٹیشن کے لئے “سپن” کی اصطلاح عام ہو گئی۔

لیکن الیکٹرانز اور دیگر سب اٹامک پارٹیکلز کی یہ کوانٹم پراپرٹی (سپن) اور کلاسیکل فزکس کی سپن میں بہت فرق ہے جو ذہن میں رکھنا چاہئے۔ کوانٹم پارٹیکلز کی اسپن کے لئے یہ بلکل بھی ضروری نہیں ہے کہ یہ اپنے محور کے گرد گھوم رہے ہوں۔ یہ پارٹیکلز تو ہوتے بھی پوائنٹ ماس پارٹیکلز ہیں جن کے متعلق یوں محور کے گرد گھومنے کا تصور بہت مبہم اور کنفیوژن پیدا کرنے والا تصور ہے۔ فزکس کے نکتہ نظر سے اہم صرف اتنا ہے کہ ان پارٹیکلز کا سپن اینگولر مومینٹم ہوتا ہے جو انکی intrinsic property کی وجہ سے ہوتا ہے جسے ہم سپن کہتے ہیں۔

مزید یہ کہ ان کوانٹم پارٹیکلز کی سپن کلاسیکل سسٹمز کے برعکس کوانٹائزڈ ہوتی ہے۔ یعنی اگر ایک الیکٹران کی ہی مثال لیں تو الیکٹران کی نیوکلئیس کے گرد حرکت کے دوران دو طرح کے اینگولر مومینٹا ہمیں ملتے ہیں۔ آربٹل اینگولر مومینٹم اور سپن اینگولر مومینٹم۔ چونکہ اس سوال کا موضوع سپن ہے لہذا اگر ہم سپن اینگولر مومینٹم کو دیکھیں تو الیکٹران نہ صرف اس اینگولر مومینٹم کی میگنیچیوڈ کی خاص ویلیوز لینے پر پابند ہے بلکہ اس سپن اینگولر مومینٹم کی سمت (direction) کی بھی خاص ویلیوز ہی لے سکتا ہے۔ جبکہ کلاسیکل سسٹمز میں ایسا نہیں ہوتا۔
الیکٹران کے سپن اینگولر مومینٹم کی ویلیوز صرف وہی ہو سکتی ہیں جن کی اجازت یہ ایک خاص مساوات دے گی۔

S = √s(s+1)ℏ

جہاں s الیکٹران کا سپن کوانٹم نمبر ہے جس کی قیمت 1/2 ہے۔ اسے اگر اوپر مساوات میں لگائیں تو الیکٹران کے اسپن اینگولر مومینٹم کی قیمت
√3/2ℏ
آتی ہے۔ جس کا مطلب کہ الیکٹران چاہے آزاد ہو یا نیوکلئیس کے گرد ہو اس کے سپن اینگولر مومینٹم کی میگنیچیوڈ کی ہمیشہ یہی ویلیو ہو گی۔
ایسے ہی اگر الیکٹران کے اسپن اینگولر مومینٹم کی سمت کو دیکھیں تو اسے بھی نیچے دی گئی مساوات کوانٹائزڈ کر دیتی ہے جو کچھ یوں ہے:

S(z) = m(s)ℏ

جہاں
m(s)
ایک اور کوانٹم نمبر ہے جس کی قیمت
±s
ہوتی ہے۔ یہاں سے اسپن اینگولر مومینٹم کی بھی دو ویلیوز نکلتی ہیں کسی تیسری کی اجازت نہیں۔ اور اس کوانٹائزیشن کے بعد ہم تین ڈائمینشنز میں الیکٹران کو گھومتے visualize کریں تو یہ ایک کونیکل شیپ میں یوں گھوم رہا ہو گا جیسا ساتھ تصویر بنائی میں نے۔ بس اس تصویر کو 3D سپیس میں تصور کریں کہ ایک کونیکل شیپ بن رہی۔

کیا کلاسیکل سسٹمز میں ایسا ہوتا ہے؟ نہیں وہاں تو آبجیکٹس پر کوئی پابندی نہیں ہوتی کہ ان کے سپن اینگولر مومینٹم کی میگنیچیوڈ کتنی ہے اور کس سمت میں ہے۔ اپنے نظام شمسی کو ہی دیکھ لیں۔ یہ ایک کلاسیکل سسٹم ہے جو اس میں موجود اجسام پر کوئی پابندی نہیں لگاتا کہ اس میں موجود کسی جسم کی روٹیشن (سپن) کی میگنیچیوڈ کیا ہو گی یا اس کی سمت کیا ہو گی۔ مختلف سیارے مختلف ویلیوز رکھ سکتے ہیں لیکن کوانٹم سسٹمز میں یہ تصور بہت مختلف ہے۔ اسے کسی طور بھی کلاسیکل میکینکس کے تصورات سے نہیں جوڑا جا سکتا۔

اس مضمون پر اپنی رائے کا اظہار کریں