30

یاد کی فزکس

فرض کیجئے کہ آپ کوئی خلائی مخلوق ہوتے جو انسانی دماغ کو حرکت میں دیکھنے کی صلاحیت رکھتے اور پہلی بار اسے دیکھتے۔ انسان کو روزانہ کام کرتے وقت اسکا مشاہدہ کرتے۔ اس میں ڈینڈرائیٹ بڑھ اور سکڑ رہے ہوتے۔ کیمیکل پیغامات کی مقدار بدل رہی ہوتی۔ ریسپٹرز کی تعداد میں تبدیلی ہو رہی ہوتی۔ کیمیائی آرائشیں بدل رہے ہوتے۔ نیورون کے اندر آئیون اور مالیکیول کے جھرنوں کے حساب کتاب اور ایڈجسٹ ہونا جاری ہوتا۔ نیورون کے نیوکلئیس میں آپ دیکھتے کہ کیمیائی سٹرکچر ڈی این اے سے کیسے چپکتے ہیں اور جین کا ایکسپریشن تبدیل کر دیتے ہیں۔
اس نظام کی باریکیوں سے آپ کا منہ کھلے کا کھلا رہ جاتا کیونکہ ان میں سے ہر مکینزم میں پلاسٹسٹی ہے۔ ہر ایک لچکدار ہے۔ کسی بھی سطح پر پیرامیٹر بدل سکتے ہیں۔ حتیٰ کہ بالغ دماغ میں بھی نئے نیورون تک پیدا ہو سکتے ہیں۔
دماغ کی امیجنگ دکھاتی ہے کہ تجربات میں شرکاء کی ایکٹیویٹی نہ صرف سائناپس بدلتی ہے بلکہ نئے خلیاتی مواد کا اضافہ بھی ہوتا ہے۔
نیوروجینیسز (یعنی نیورل نیٹورک میں نئے نیورونز کا اضافہ) میں تازہ نیورون پرانے نازک پیٹرن بدل دیتے ہیں۔ ہپوکیمپیس میں پیدا ہونے والے نیورون بالغ کورٹیکس کا رخ کرتے ہیں۔ یہ حادثاتی طور پر نہیں ہوتا۔ اس کا تعلق یادداشت بننے کے فنکشن سے ہے۔ چوہوں پر تجربات دکھاتے ہیں کہ سیکھنے کے ایسے کام جن میں ہپوکیمپیس کا استعمال ہو، نیورونز کی تعداد میں اضافے کا باعث بنتا ہے۔
ایپی جینیات کے نسبتاً نئے شعبے سے پتا لگتا ہے کہ زندگی کے تجربات ڈی این اے کا ایکسپریشن تبدیل کرتے ہیں۔ بائیولوجیکل سسٹم میں اس قدر زیادہ آزادی کا مطلب یہ ہے کہ یادداشت کو سٹور کرنے کی حکمتِ عملی میں ممکنات بہت زیادہ وسیع ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نیوروسائنٹسٹ ہوں یا مصنوعی ذہانت کے انجینیر، نیٹورک میں تبدیلیوں کا مطلب عام طور پر خلیوں کے آپسی کنکشن کو لیتے ہیں۔ لیکن آپ کی تازہ ایلین آنکھیں یہ پہچان لیتی ہیں کہ یہ والا طریقہ ضروری تو ہے لیکن ناکافی ہے۔ اور دماغ تو ہر سطح پر بدلتا ہے۔ جہاں پر بھی ہم دیکھتے ہیں، پلاسٹسٹی پائی جاتی ہے۔ اور اس کا مطلب یہ ہے کہ انفارمیشن سٹور کرنے کے بہت سے دیگر ممکنہ طریقے ہیں۔ اعصابی نظام میں ہزاروں حربوں کا ڈھیر ہے جو معمولی تبدیلیوں کی مدد سے نیٹورک کی حالت اور انفارمیشن سٹیٹ بدل سکتے ہیں۔
تو پھر سائناپس کے کنکشن کی مضبوطی کی وضاحت پر اتنا زور کیوں رہتا ہے؟ اس کا جواب آسان ہے۔ اور وہ یہ کہ اس کی پیمائش آسانی سے کی جا سکتی ہے۔ زندہ دماغ کی تیز رفتار ڈائنامکس کے باقی ایکشن کی پیمائش ہماری موجودہ ٹیکنالوجی کے ساتھ نہیں کی جا سکتی۔ جیسے کوئی اپنی گمشدہ چابی صرف اسی جگہ پر ڈھونڈ رہا ہو جہاں پر سٹریٹ لائٹ کی روشنی ہو، ہم توجہ اسی طرف رکھتے ہیں جس کو دیکھ پاتے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اور یہ ہمیں کہانی کے اگلے حصے کی طرف لے جاتا ہے۔ انفارمیشن سٹور کرنے کے لئے جب اتنی زیادہ چیزوں کی ترتیب بدلی جا سکتی ہیں تو پھر اس سے منسلک ایک اور بڑا مسئلہ پیدا ہو جاتا ہے۔ ایسا کیوں نہیں ہوتا کہ کسی ایک قسم کی تبدیلی کے دوران کچھ اور بالکل ہی خراب ہو جائے؟ تمام حصوں اور ٹکڑوں کی تبدیلی کی انٹرایکشن کا تال میل کیسے ہوتا ہے؟ وہ اصول کیا ہیں جن کی وجہ سے یہ سب کچھ قابو سے باہر نہیں ہوتا؟ سسٹم چیک اور بیلنس میں رہتا ہے؟ ایسا کیا قدغن عائد ہیں؟
اس کیلئے ہمیں اس کو دیکھنے کا ایک بالکل مختلف زاویہ لینا ہو گا۔ اس کی بائیولوجی کو دیکھنے کا سب سے اہم زاویہ وقت کا ہے۔ اور یہ کہانی مکینزم کی اپنی تفصیل کی نہیں بلکہ ان کے وقت کے ساتھ تعلق کی ہے۔
(جاری ہے)

اس مضمون پر اپنی رائے کا اظہار کریں