29

🔥 آگ کہانی

🔥 آگ کہانی
کبھی فلک کو پڑا دل جلوں سے کام نہیں
اگر نہ آگ لگا دوں، تو داغؔ …….نام نہیں

یونانی اساطیر کے مطابق یونانی اولمپئین دیوتا Zeus نے اپنے لئے دی جانے والی قربانی کے گوشت میں ہیر پھیر کئے جانے پر زمین پر بسنے والوں سے ناراض ہو کر آگ جیسی خطرناک اور کارآمد شے کو ان سے چھین کر وقت کے گھپ اندھیروں میں چھپا لیا, لیکن کچھ وقت بعد پرومیتھئیس (Prometheus) نامی بہادر اور رحمدل نوجوان نے انسانوں کو اس چیز کی محرومی پر سسکتے تڑپتے دیکھا تو دیوتا کو چکر دے کر آخرکار اس قیمتی خزانے کو چرا کر واپس انسانوں میں پھیلا دیا تاکہ وہ اپنی زندگیوں کو بہتر بنا سکیں. دیوتا zeus نے انسانوں کے عظیم ہیرو کو اس جرم کی عبرتناک سزا دینے کے لئے ایک چٹان پر زنجیروں میں جکڑ دیا, جہاں ایک عقاب ہر روز آکر اس کے جگر کی دعوت صدیوں اڑاتا رہا, یہ عجیب و غریب سزا کا سلسلہ اس لئے چلتا رہا ک رات ہی رات میں پرومیتھئیس کا چھلنی جگر واپس پہلے جیسی حالت میں دوبارہ پیدا ہوجاتا. اس کہانی کے سچے جھوٹے ہونے سے اب کسی کو سروکار نہیں مگر جس دور میں کہانیاں بنائی اور سنائی جاتی ہیں اس دور کے لوگ اس کہانی کو کہانی نہیں حقیقت ہی مانتے آئے ہیں گو کہ اب بھی اکثریت کہانیوں کو ہی حقیقت جان کر اپنے اپنے دیوتاؤں اور محسنین کو خوش رکھنے کی سر توڑ کوششیں کرتی آرہی ہے تاکہ سزا یا کسی نعمت کے چھین لئے جانے سے محفوظ رہیں. بہرحال سائنس کا کام کہانیوں اور حقیقت میں امتیاز کرانا ہے اور انسان کو نئی راہوں پر گامزن کرنا ہے.

🔥 سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ آگ, حرارت بھی ہے اور روشنی بھی, جس کی بنیادی وجہ جلنے والی چیز یا ایندھن اور آکسیجن کا تھوڑی سی حرارت پا کر تیزی سے کیمائی ملاپ ہے.آکسیجن کسی دوسرے عنصر یا چیز سے مل کر کیمیائی تعامل reaction کرتی ہے تو یہ آکسیڈیشن oxidationکا عمل کہلاتا ہے. سائنسی اصطلاحات میں کسی چیز کا جلنے کو combustion کہا جاتا ہے اور کسی چیز کا جلنا دراصل آکسیڈیشن ری ایکشن کی ایک قسم ہے, جس کا مطلب آکسیجن کا کسی چیز سے مل کر کیمیائی تعامل کرنا ہے. آکسیڈیشن ایک ایکزوتھرمک ری ایکشن exothermic reaction ہی یعنی ایسا کیمیائی تعامل جس کے نتیجے میں حرارت کا اخراج ہوتا ہے.

🔥 آگ کے ظہور کے لئے آکسیجن کے ساتھ مل کر جلنے والی کسی چیز یا ایندھن کے علاوہ اس قدر حرارت کا بھی ہونا ضروری ہے جس کی وجہ سے ایک ایندھن, آکسیجن کے ساتھ کیمیائی تعامل کرسکے. آگ کا آنکھ کو نظر آنے والا شعلہ مختلف گیسوں کا مکسچر ہوتا ہے, جس میں آکسیجن کے ساتھ ساتھ کاربن ڈائی آکسائیڈ, کاربن مونو آکسائیڈ, ایندھن کے بخارات , آبی بخارات اور ایندھن کی کیمیائی ساخت کے سبب بننے والی کئی دوسری گیسسز شامل ہوتی ہیں اور لگی آگ سے پیدا ہونے والی روشنی دراصل توانائی ہے.جیسا کہ سائنسدان کہتے ہیں کہ جو چیز بھی جگہ گھیرتی اور ماس یا کمیت رکھتی ہے مادہ ہے اور شعلہ خود مختلف گیسسز , ایندھن کے بخارات, آکسیجن کاربن ڈائی و مونو آکسائیڈ آبی بخارات اور دیگر اجزا رکھتا ہے اس لئے مادہ ہے, اور اس سے خارج ہوتی حرارت, توانائی کی ایک شکل ہے. آگ کے شعلے کا گھٹنا بڑھنا ایندھن کی مقدار اور اس کے تیزی سے جلنے پر منحصر ہے بڑی مقدار اور تیزی سے جلتا ایندھن بڑا شعلہ بناتا ہے.

🔥 خلا میں آگ کا شعلہ
جب آگ لگتی ہے تو یہ اپنے ارد گرد کی ہوا گرم کرتی ہے جس کے نتیجے میں ہوا کے مالیکیول ہلکے ہو جاتے ہیں اور یہ اوپر کو اٹھتی ہے کیونکہ گریویٹی ہر چیز کو اپنی جانب کھینچتے ہے ٹھنڈی ہوا بھاری ہوتی ہے اور گرم ہوا ہلکی اس لئے گریویٹی ٹھنڈی ہوا کو نیچے کھینچ لیتی ہے. اوپر اٹھنے والی ہوا میں کاربن ڈائی آکسائڈ کے مالیکیول آگ پر آکر جلتے ہوئے اوپر اٹھتے ہیں یوں ایک بڑا شعلہ بنتا ہے . آگ کو جلتے رہنے کے لئے آکسیجن کی ضرورت ہوتی ہے جب آگ سے گرم ہو کر ہلکی ہونے والی گیس اوپر اٹھ جاتی ہے اور اس کی جگہ تازہ ٹھنڈی آکسیجن سے بھری ہوا آگ کو جلنے میں مدد کرتی ہے. خلا میں زیرو گریویٹی یا مائیکرو گریویٹی میں آگ سے گرم ہونے والی ہوا اوپر نہیں اٹھ پاتی اور آگ مسلسل آس پاس کی ہوا میں موجودآکسیجن استعمال کرتی ہے ,جلنے کے نتیجے میں کاربن ڈائی آکسائڈ چھوڑتی رہتی ہے. جو آس پاس ہی موجود رہتی ہے جس کی وجہ سے شعلے میں وہ بڑائی و لمبائی پیدا نہیں ہو پاتی جو زمین پر رقص کرتی ہے.

👣 سلمان رضا

https://www.facebook.com/ilmkijustju/

https://www.facebook.com/groups/AutoPrince/

اس مضمون پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں