83

۔۔ DNA اور RNA کو خلیات میں سے الگ کرنا ۔۔۔ ترتیب و انتخاب ۔۔ زاہد آرائیں

ڈی این اے میں دو دھاگے نمامالیکیول ایک دوسرے کے گرد لپٹے ہوئے ہوتے ہیں جبکہ آر این اے صرف ایک دھاگے نما مالیکیول پر مشتمل ہوتا ہے۔ ڈی این اے میں یوریسل نہیں ہوتا جو آر این اے میں موجود ہوتا ہے۔ آر این اے میں تھائیمین نہیں ہوتا جو ڈی این اے میں موجود ہوتا ہے۔

بینزین (C6H6) سے ایک ہائیڈروجن ایٹم نکل جانے سے فینائیل گروپ (-C6H5) بنتا ہے۔ پانی (H2O) سے ایک ہائیڈروجن ایٹم نکل جانے سے ہائیڈروآکسل گروپ ۔(-OH) بنتا ہے۔ فینائیل گروپ اور ہائیڈروآکسل گروپ مل کر فینول (C6H5OH) بناتے ہیں۔

فینول ایکسٹریکشن (Phenol extraction)
تجربہ گاہوں میں استعمال ہونے والا ایک طریقہ ہے جس کی مدد سے کسی محلول میں سے مختلف اجزا الگ کیے جاتے ہیں۔ اس طریقے سےڈی این اے اور آر این اے کو خلیات میں سے خالص حالت میں الگ کیا جاتا ہے۔
جب جانداروں کے مردہ خلیات کو کچل کر فینول کے ساتھ ملایا جاتا ہے تو دو محلول حاصل ہوتے ہیں۔ نیچے کے محلول میں فینول کی مقدار زیادہ ہوتی ہے جبکہ اوپر کے محلول میں پانی کی مقدار زیادہ ہوتی ہے۔ چربی (lipids) اور چربی نما مرکبات جو پانی میں حل نہیں ہو سکتے وہ سب نیچے فینول میں حل ہو جاتے ہیں۔ RNA جو پانی میں حل پزیر ہوتا ہے وہ اوپر پانی میں چلا جاتا ہے۔پروٹین ویسے تو پانی میں حل ہو جاتے ہیں مگر فینول کی موجودگی میں وہ de-nature ہو جاتے ہیں یعنی ان کے مولیکیول کے بیرونی قطبی (polar) حصے گھوم کر اندرونی جانب چلے جاتے ہیں جبکہ اندرونی غیر قطبی (non polar) حصے اب باہر آ جاتے ہیں۔ اس نئی ترتیب کی وجہ سے اب پروٹین کا مالیکول پانی میں حل نہیں ہوتا۔ (انڈے کی سفیدی بھی پروٹین ہوتی ہے اور پانی میں حل ہو جاتی ہے مگر گرم کرنے پر وہ بھی ڈی نیچر ہو جاتی ہے اور پھر پانی میں حل نہیں ہوتی)۔ اس کے بعد محلول کو اچھی طرح ہلانے کے بعد کچھ وقفہ دیا جاتا ہے۔ اب اوپر کی پانی والی تہہ احتیاط سے الگ کر لی جاتی ہے جس میں نمک یا ڈیٹرجنٹ ملانے سے RNA محلول سے باہر آجاتا ہے۔
فینول اور پانی جہاں ملتے ہیں وہاں پروٹین اور DNA موجود ہوتے ہیں۔ اس تہہ کو بھی الگ کر کے اور اچھی طرح دھو کر اس میں سے DNA حاصل کیا جا سکتا ہے۔
اکثر اس طریقے میں کلوروفورم بھی ملائی جاتی ہے جس سے کام زیادہ آسان ہو جاتا ہے۔
جینشین وائیلٹ (crystal violet) اور میتھائل اورینج جیسے رنگوں کی مدد سے ڈی این اے کی محض 8 نینوگرام کی مقدار کو بھی شناخت کیا جا سکتا ہے۔

اس مضمون پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں