250

۔۔ مہاشیر ۔۔ پاکستان کی قومی مچھلی

یہ میٹھے پانیوں میں دستیاب ہوتی ہے۔
یہ پاپلیٹ یا سرمئی پاپلیٹ (Sole) مچھلی کے خاںدان سے تعلق رکھتی ہے۔ یہ کھانے میں انتہائی لذیذ ہے۔ سندھ میں پلہ مچھلی کی طرح مہاشیر کی نسل بھی دریائے سندھ کے خشک ہونے کے باعث اب معدوم ہوتی جارہی ہے۔

کے پی کے میں واقع دریاؤں میں سنہری مہاشیر پائی جاتی ہے جو چھوٹی مچھلیوں کو کھاجاتی ہے اور یہی اسکی غذا بھی ہے۔ بلوچستان کے شمال مشرقی حصوں میں ایک دوسری نوع کی مہاشیر بھی دریافت ہوئی ہے جو ژوبی مہاشیر کہلاتی ہے۔ یہ پاکستان کی خاص الخاص مچھلی ہے کیونکہ صوبہ سرحد اور بلوچستان کے سوا کہیں اور نہیں ملتی۔ پاکستان میں اسے ابھی تک پنجاب، سندھ اور آزاد کشمیر سے ریکارڈ نہیں کیا گیا۔

یہ مچھلی سنہری مہاشیر سے مشابہت رکھتی ہے مگر اس کی مونچھیں بڑی بڑی ، چانے نسبتاً چھوٹے اور سر قدرے چپٹا ہوتا ہے۔ یہ مچھلی دریائے ژوب سے دریافت ہوئی ہے اس لیے اسے ژوبی مہاشیر کا نام دیا گیا۔ اسے دریائے گومل، دریائے کرم اور دریائے کابل میں دیکھا جا چکا ہے۔

مہاشیر ہندووں اور سکھوں کے لیے انتہائی متبرک مچھلی ہے۔ گوردوارہ پنجہ صاحب، حسن ابدال میں بڑی بڑی مہاشیر مچھلیاں تالابوں میں موجود ہیں۔ اسی طرح ہندووں کے متبرک مقامات کے نواح میں مہاشیر بکثرت پالی جاتی ہے۔ بلوچستان کے ضلع خضدار میں ایک مقام ’نال‘ ہے۔ وہاں سے آثارِ قدیمہ کی کھدائی کے دوران مٹی کے برتن دریافت ہوئے ہیں۔ ان برتنوں پر ’مہاشیر ‘ کی خوبصورت تصاویر بنی ہوئی ہیں۔ اس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ قدیم تہذیب کے لوگ بھی اس مچھلی کو متبرک سمجھتے تھے۔

اس مضمون پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں