38

۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آکٹوپس ۔۔۔۔۔۔۔۔( Octopus ) ترتیب و انتخاب۔۔زاہد آرائیں

آکٹوپس ایک سمندری جانور ہے جو مچھلی سے بالکل مختلف ہوتا ہے۔ آکٹوپس میں کوئی ہڈی یا اندرونی یا بیرونی ڈھانچہ نہیں ہوتا۔ اس کی دو آنکھیں اور آٹھ ہاتھ ہوتے ہیں جن کے مرکز میں منہ ہوتا ہے جس پر چونچ لگی ہوتی ہے۔
اسکوئیڈ (squid)، کٹل فش (Cuttlefish) اورناٹیلس (Nautilus) آکٹوپس کے ارتقائی رشتہ دار ہیں اور یہ سب مل کر سمندری جانوروں کی کلاس Cephalopoda بناتے ہیں۔

سائنسی جرنل ‘پروگریس اِن بائیو فزکس اینڈ مولیکیولر بائیولوجی‘ میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا ک

ہ سمندری مخلوق آکٹوپس دراصل ایک دُم دار ستارے کے ذریعے زمین پر پہنچا۔
اس انوکھی تھیوری میں کہا گیا کہ ہزاروں لاکھوں سال پہلے جب وائرس، مائیکروبز اور چھوٹی چھوٹی زندگیاں تخلیق ہو رہی تھیں، اُس وقت آکٹوپس کے انڈے ان ہی تخلیقات کے ساتھ ایلین (خلائی مخلوق) ذرائع سے زمین تک پہنچے۔
اگرچہ یہ تھیوری متنازع ہے اور سائنسدانوں کی ایک بڑی تعداد اس سے اتفاق نہیں کرتی، لیکن پھر بھی یہ سائنس پیپر قابل بحث ہے۔
اس انوکھی تحقیق میں یہ تو بتا دیا گیا کہ آکٹوپس شاید خلاء سے زمین پر آئے لیکن اس بات کی وضاحت نہیں کی گئی کہ ان جانداروں نے اپنی موجودہ شکل کیسے حاصل کی۔

سمندر میں رہنے والا آکٹوپس جسے اپنی 8 ٹانگوں کی وجہ سے ہشت پا بھی کہا جاتا ہے، بظاہر ایک بے ضرر جاندار ہے مگر اس سب انواع زہریلی ہوتی ہیں ان میں انسانوں کے لیئے زیادہ خطرناک Blue spotted آکٹوپس ہے۔

اب سے 40 کروڑ سال قبل وجود میں آنے والا یہ جانور زمین کے اولین ذہین جانوروں میں شمار کیا جاتا ہے۔ یعنی جس وقت یہ زمین پر موجود تھا، اس وقت ذہانت میں اس کے ہم پلہ دوسرا اور کوئی جانور موجود نہیں تھا۔
آکٹوپس میں ایک خاصا بڑا دماغ پایا جاتا ہے جس میں نصف ارب دماغی خلیات (نیورونز) موجود ہوتے ہیں۔
ان کے اندر انسانوں سے 10 ہزار زائد جینز موجود ہوتے ہیں جنہیں یہ اپنے مطابق تبدیل بھی کر سکتے ہیں۔
اگر آپ آکٹوپس کو کسی جار میں بند کر کے اوپر سے ڈھکن لگا دیں تو یہ تھوڑی سی کوشش کے بعد اس ڈھکن کو باآسانی کھول کر آزاد ہوجائے گا۔
اسی طرح یہ معمولی نوعیت کے پزل بھی حل کرسکتے ہیں۔
آکٹوپس کو پالتو جانوروں کی صورت میں بھی رکھا جاتا ہے۔ ایسی صورت میں یہ اپنے مالک کو پہچاننے کی حیران کن صلاحیت رکھتے ہیں۔

آکٹوپس موقع کے حساب سے اپنے آپ کو ڈھالنے کی شاندار صلاحیت رکھتا ہے۔
یہ نہ صرف رنگ بدل سکتا ہے بلکہ اپنی جلد کی بناوٹ بھی بدل لیتا ہے اور ایسی شکلیں اختیار کر لیتا ہے کہ دشمن یا شکار نزدیک ہونے کے باوجود بھی دھوکہ کھا جاتا ہے۔
ایک نئی تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ آکٹوپس رنگ بدل کر اپنی نیت کا اظہار کرتا ہے اور اس کے سماجی تعلقات اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہیں جتنا اس سے پہلے سمجھا جا رہا تھا۔
حیاتیات کے ماہرین نے آسٹریلیا کے مشرقی ساحل پر سڈنی کے آکٹوپس پر تحقیق کے دوران ان کے مختلف رویوں پر غور کیا جس سے ان کے پیچیدہ سماجی اشاروں کا پتہ چلا۔
پہلے یہ سمجھا جاتا تھا کہ آکٹوپس تنہائی پسند جانور ہے، اور صرف حملہ آوروں سے بچنے کے لیے یا شکار کرنے کے لیئے جسمانی رنگ بدلتا ہے۔
تحقیق میں شامل پروفیسر پیٹرگاڈفری سمتھ کا کہنا ہے کہ نئی تحقیق آکٹوپس کے رویے کے متعلق تازہ معلومات فراہم کرتی ہے۔
یہ تحقیق کرنٹ بائیالوجی نامی سائنس کے جریدے میں شائع کی گئی، جس میں سائنس دانوں نے 53 گھنٹوں کی فوٹیج کا مشاہدہ کیا تھا۔
پروفیسر گاڈ فری سمتھ کہتے ہیں: ’آکٹوپس جارحانہ انداز میں آ کر اپنے رنگ گہرے کر دیتا ہے، اس طرح کھڑا ہو جاتا ہے کہ اس کا جسم اصل سے بڑا دکھائی دے اور ایسی پوزیشن میں وہ اونچے مقام پر چلا جاتا ہے۔‘
ان کے مطابق آکٹوپس کوشش کرتا ہے کہ اپنے آپ کو جتنا ممکن ہے، اتنا بڑا دکھا سکے۔ اس دوران وہ اپنے بازؤں کو اوپر نیچے پھیلا دیتا ہے اور جسم کے پچھلے حصے کو سر کے اوپر کر دیتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی وہ اپنا رنگ بھی گہرا کر دیتا ہے، جس سے جسامت زیادہ بڑی نظر آتی ہے۔
جب جارحانہ انداز ختم ہو جاتا ہے کہ آکٹوپس رنگ ہلکا کر دیتا ہے۔ یہ اس وقت ہوتا ہے جب وہ لڑائی کے بعد اپنے بل میں واپس آ رہا ہوتا ہے یا جب وہ کسی جارح نر کے سامنے ہوتا ہے۔
پروفیسر گاڈ فری سمتھ کے مطابق: ’فرض کریں کہ وہاں پر کوئی دوسرا بڑا جارح آکٹوپس موجود ہے تو آپ رنگ ہلکا کر کے اپنے بل کی طرف لوٹتے ہیں تا کہ اس سے پیغام جائے کہ آپ ٹکراؤ کے موڈ میں نہیں ہیں۔‘
اسی طرح کی خصوصیات دوسرے اقسام کے سمندری جانوروں، مثلاً کٹل فش، میں بھی پائی گئی ہیں۔ ان میں بھی جارح نر اپنا رنگ لڑائی سے الگ ہوتے وقت ہلکا کرنے لگتے ہیں۔
جب خطرہ محسوس کر کے یہ راہ فرار اختیار کرتا ہے تو اپنے سارے ہاتھ سمیٹ لیتا ہے اور سر کی بجائے دم کی طرف بھاگتا ہے۔
کہا جاتا ہے کہ غیر فقاری (ریڑھ کی ہڈی نہ رکھنے والے) جانوروں میں آکٹوپس سب سے زیادہ ذہین جانور ہے۔
یہ جانور محسوس کرنے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں لہٰذا برطانیہ اور یورپی یونین کے ممالک میں آکٹوپس کو بے ہوش کیے بغیر تحقیقی مقاصد کے لیے ان کے جسم کے ساتھ چیر پھاڑ کرنا قانوناً جرم ہے۔

اس مضمون پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں