41

۔۔ڈارک انرجی اور ڈارک میٹر کے متعلق آکسفورڈ یونیورسٹی کی نئی تحقیق۔۔

۔۔ڈارک انرجی اور ڈارک میٹر کے متعلق آکسفورڈ یونیورسٹی کی نئی تحقیق۔۔
ترجمہ و تحریر ۔۔ اویس احمد

ڈارک انرجی اور ڈارک میٹر طبعیات کی سب سے پراسرار و پریشان کن اور نہ سلجھ نے والی گتھیوں میں سے ہیں۔ سائنس دان ان کے متعلق مشاہدات کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ مانتے ہیں کی ڈارک انرجی اور ڈارک میٹر پوری کائنات میں پھیلا ہوا ہے لیکن ہم اسے دیکھ نہیں سکتے اور اسی وجہ سے ہی انہیں ڈارک انرجی اور ڈارک میٹر کا نام دیاگیا ہے۔ سائنس دانوں کا ماننا ہے کہ اس پوری کائنات کے ماس کا 95 فیصد حصہ انہی پر مشتمل ہے۔
آکسفورڈ یونیورسٹی کی ایک ٹیم نے اس مواد کے متعلق نئی تحقیق پیش کی ہے تاکہ Dark phenomena کو مزید بہتر طریقے سے سمجھا جائے اور اس تھیوری میں ڈارک انرجی اور ڈارک میٹر کو ایک مائع بتایاگیا ہے جسے انہوں نے تاریک مایع (Dark Fluid) کا نام دیا ہے جو یقینن حیران کن ہے۔ اس مائع کو منفی مقدار “Negative Mass” کا حامل مانا گیا ہے۔

یہ پراسرار تاریک مائع موجودہ کائناتی ریاضیاتی ماڈل کے ماتحت نہیں ہے جسے Lambda-CDM Model ماڈل کہتےہیں۔ بلکہ ان کے گریوٹشنل افیکٹ کی وجہ سے ان کی موجودگی کو ثابت کیا گیا ہے.
ڈاکٹر جیمس فارنیس جو کہ اس ٹیم کے سربراہ ہیں ان کا کہنا ہے کہ “اب ہم یہ سمجھتے ہیں کہ ڈارک انرجی اور ڈارک میٹر متحد ہو کر ایک مائع بناتے ہیں جو منفی کشش ثقل (Negative Gravity) کے اثر کا حامل ہے”۔
اس تھیوری نے پہلی بار ڈارک مٹیریل کے متعلق کافی حد تک صحیح پیشن گوئی فراہم کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کے اسی مائع کی وجہ سے کہکشائیں اپنا وجود برقرار رکھے ہوئے ہیں ورنہ جس طرح سے ستارے اور سیارے گھوم رہے ہیں طبیعات کے بنیادی اصول ہمیں یہ ہی بتاتے ہیں کے انہیں خلا میں بکھر جانا چاہیے۔ مگر یہ مائع انہیں آپس میں منفی کشش ثقل کے تحت تھامے ہوئے ہیں۔ اس مائع کی یہ ہی خاصیت جانی گئی ہے کہ اگر اس کو دھکیلا جائے تو یہ بجائے دور جانے کہ یہ اور بھی قریب آتا ہے۔

اس مضمون پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں