70

ہچکی و ہچکیاں Hic n Hiccups

ہچکی و ہچکیاں لگنا ایک ایسی چیز ہے, جس سے ہم سب بچپن سے واقف ہیں.کبھی تو یہ بیٹھے بٹھائے لگ جاتی ہیں اور کبھی کسی چیز کھانے کے ساتھ ہی. فلسفیانہ اور شاعرانہ اذہان اسے کسی کے اپنے آپ کو یاد کرنے سے تعبیر کرتے ہیں اور اسے روکنے کی خاطر ایک ایک کر کے کسی بھی وجہ سے اپنی زندگی میں شامل نا ہونے والی مغرور و مجبورحسیناؤں کے نام لینے لگتے ہیں. خیر بےاختیار لگ جانے والی بلند آواز کی ہچکیاں شدید بھی ہو سکتی ہیں اور یہ بھی ممکن ہے کہ یہ لمبے وقت تک چمٹی رہیں یا پھر چند سیکنڈوں میں غائب ہوجائیں.

🌀 ہچکیاں لگنے کا عمل
ڈایافرام diaphragm ہمارے پھیپھڑوں کے نیچے عضلات یا پٹھوں سے بنی ایک شیٹ ہے اور یہ انسانی جسم میں پیٹ کے اوپری حصے اور سینہ کے درمیان ہوتی ہے, یہی عضلاتی شیٹ سانس لینے کے عمل میں معاونت کرتی ہے. ہم جب سانس اندر کھینچتے ہیں تو ڈایافرام diaphragm میں سکڑاؤ پیدا ہوتاہے ساتھ ہی پھیپھڑوں میں ہوا بھرنے کے لئے پھیلاؤ پیدا ہوتا ہےاور جب آپ سانس باہر چھوڑتے ہیں, ڈایافرام diaphragm کا تناؤ کم ہوتا ہے اور پہلے جیسی حالت میں واپس آجاتا ہے.

📗 ڈایافرام diaphragm پٹھوں کو ہمارا دماغ, اعصاب کے ذریعہ قابو میں رکھتا ہے اور جب ان اعصاب کو کوئی بھی چیز متاثر کرتی ہے تو دماغی brainstem فوراً ڈایافرام اورنظام تنفس کے عضلات کو سگنلز بھیجنے لگتا ہے جس کے نتیجے میں یہ عضلات غیرارادی طور پر سکڑنے لگتے ہیں, جب ہچکیوں کی hiccups اضطراری کیفیت طاری ہوتی ہے تو عموماً اس کا محرک غذائی نالی esophagus یامعدہ stomach کی معمولی نوعیت کی عارضی خرابی ہی ہوتی ہے. ہچکیاں لگنے کے عمل میں ڈایافرام کے پٹھوں میں اینٹھن کھچاوٹ muscular spasm کی کیفیت طاری ہوتی ہے اور ہوا, سانس کی صورت تیزی سے پھیپھڑوں میں کھنچتی چلی جاتی ہے, سانس کی یہی تیز رفتاری حلق کے اندر کی ایک خاص ساخت کی حامل جگہ ایپیگلوٹیس epiglottis کو تیزی سے بند کرنے کا سبب بنتی ہے اور یہ ایسا ہی عمل ہوتا ہے کہ تیز ہوا کے آنے سے کوئی دروازہ دھماکے سے بند ہوتا ہے. ایپیگلوٹیس ٹشوز سے بنا جھلی جیسا ہی ہے جو کوئی چیز نگلنے کے دوران سانس کی نالی کے اوپر بند ہوجاتا ہے بند ہو کر یہ کھانے ، سیالوں یا تھوک کو پھیپھڑوں میں جانے سے روکتا ہے. اسی ایپیگلوٹیس کی اس تیزی سے بند ہونے کی وجہ سے ہچکیوں, ہچیا ’ہچک‘ کی آواز پیدا ہوتی ہے.عام طور پر ، ہچکی چند منٹ کے بعد خود ہی ختم ہوجاتی ہے ، لیکن طویل دورانیے کی ہچکیاں جو دن یا ہفتوں تک چلتی ہے وہ کئی قسم کی خرابیوں کی علامت ہوتی ہے جس کے لئے ماہر ڈاکٹر سے ہی رجوع کرنا دانشمندی ہے.

🌀 ہچکیاں آنے کے محرکات
یوں تو ہچکیاں بے ضرر ہوتی ہیں اور عام طور پر چند منٹوں میں خود بہ خود دم توڑ دیتیں ہیں لیکن کچھ لوگوں کو اچانک ہچکیوں کا دورہ سا پڑجاتا ہے اور ہچکی آنے کی وجہ اکثر معلوم نہیں ہو پاتی ہے. بہرحال بد ہضمی و مرچ مصالحہ سے بھرپور کھانا, سگریٹ نوشی , ذہنی تناؤ سے ڈایافرام پر دباؤ پیدا ہوتا ہے اور یہی ہچکیوں کے آنے کی کی عام وجوہات ہیں. لیکن ایسا اصل میں ایسا کیوں ہوتا ہے اس پر حتمی طور پر کچھ بھی کہنا ابھی ممکن نہیں.

🎓 سائنسدانوں کا ہچکی لگنے بارے میں نظریہ یہ ہے کہ ہچکیاں لگنا , ماں کی کوکھ میں بچے کو سانس لینے کے ہنر کو سکھانے کے لئے اہم ہوتا ہے,شکمِ مادر سے نکل جانے کے بعد کی زندگی میں بھی ہچکیاں بچے کو سانس لینے کی تربیت دینے کے لئے اہم ہی ہوتا ہے اور یہ ایک بےاختیار عمل ہے. محققین نے تجویز کیا ہے کہ انسان کے شیر خوارگی کے دور میں ہچکیاں لینے کا عمل بچے کے دماغ کو سکھاتا ہے کہ سانس لینے میں شامل حصے , جسم کے کس مقام پر ہیں تاکہ دماغ ان پر قابو پا سکے۔ ابتدائی سیکھنے میں سانس لینے کا طریقہ کار میں انسانی سانس لینے کا عمل بیشتر وقت غیر ارادی ہوتا ہے اور یہ دماغ کے سب سے نچھلے حصے برین اسٹیم brainstem (جو جسمانی اعضا اور دماغ کے درمیان پیغامات کا تبادلہ کرتا ہے ) سے سانس کے پٹھوں تک کے آنے والے سگنلز پر منحصر ہوتا ہے۔ بہرحال ہچکیوں کا نوزائیدگی اور بچپن میں ابتدائی کام جو بھی ہو ، محققین کو لگتا ہے کہ بچپن کے بعد ہچکی ایک بے سود عمل ہی ہے۔
👣 سلمان رضا

اس مضمون پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں