53

گراما کی خلیج اور گندی دیواریں ۔ میں بھی تو ہوں – وہارا امباکر

اس دنیا میں ہم سب اپنے نشان چھوڑتے ہیں۔ لیکن کچھ بھی بدل دینا یا اس چیز کا احساس ہونا کہ کچھ بدل دیا ہے۔ یہ ایک بات نہیں۔ بہت بار، یہ محسوس ہوتا ہے کہ تاریخ پر اثرانداز ہونا تو درکنار، ہماری تو آواز سننے والا بھی کوئی نہیں۔ اسی وجہ سے ہم انٹرنیٹ پر اتنی چیخ و پکار کرتے ہیں۔ اپنے ہونے کے اظہار کی آواز سے دنیا میں لہریں بنانا چاہتے ہیں۔ یہاں پر میں بھی تو ہوں، میں بھی تو کبھی تھا۔ تاریخ میں ہم ان کے لئے بھی نقوش چھوڑنے کی کوشش کرتے رہے ہیں، جن کو ہم کبھی دیکھیں گے بھی نہیں۔ دیوراوں پر الفاظ لکھ کر، گیلے سیمنٹ میں اپنے ہاتھ کا نشان بنا کر، درختوں پر دل کا نشان کھود کر، یا پھر البانیہ میں چٹان پر بنائے گئے نقوش جو کہ خلیجِ گراما کی چٹان ہے۔


کہیں پر بس اپنا نام لکھ دینا، بے معنی الفاظ اور تصویریں کر دینا۔ جمالیاتی ذوق سے عاری کام جو خوبصورتی کو بگاڑ دیتا ہے۔ یہ تنہائی میں اور خلا میں ایک چیخ ہے۔ اس کا مقصد ہی کسی چیز کا حلیہ بگاڑنا ہے۔ دنیا میں کہیں پر بھی جائیں، ایسا ملے گا۔ یہ عالمی کلچر ہے۔ انسانی فطرت ہے۔ اور ہزاروں سال سے ہے۔

خلیجِ گراما ایک چھوٹی سی خلیج ہے جو ماضی کے ایسے نشانوں سے بھری پڑی ہے۔ اتنے زیادہ کہ اس کا نام ہی اس حوالے سے پڑ گیا ہے۔ گراما کے معنی حروفِ تہجی کے ہیں۔ یہاں پر تاریخ میں لوگوں کے اپنی نقش چھوڑنے کے نقش ہیں۔ وقت سفر کرتا رہا۔ سمندری سفر کرنے والے طوفانوں سے پناہ لینے یہں اس جگہ پر رکتے تھیں۔ جب تک طوفان نہ تھم جائے اور کشتی واپس سمندر میں لے جانا محفوظ نہ ہو جائے، انتظار کرنے والے اپنے نشان ساحل پر بنا جاتے تھے۔ فوجی، مچھیرے، ملاح اور لیڈر۔ ان کے لکھے لفظ ہزاروں سال بعد بھی ویسے ہی ہیں۔ انہوں نے یونانی زبان میں لکھا، لاطینی میں، البانین میں، ارمانین میں، مساپین میں، ترکی میں۔ تیسری صدی قبلِ مسیح سے آج تک کے ہزاروں نقش اس ایک جگہ پر بنے ہوئے ہیں۔ پومپائی کے میگنس کی لکھائی ہے۔ اس سے کچھ میٹر دور ہوژے کے کمیونسٹ جنگجووٗں کی۔ چوبیس صدیوں سے لکھی گئی عبارتیں۔ یہ ایک چٹان دیکھنے والے کو انسانی فطرت کی گہری جھلک دکھاتی ہے۔ ہر کوئی بس ایک یاددہانی کروانا چاہتا تھا۔ کہ وہ بھی تھا۔ ایک علامتی یاد ہی سہی۔

جب ہم تاریخ کو پڑھتے ہیں تو مختلف زمانوں میں رہنے والے لوگوں میں فرق ڈھونڈنا بہت آسان ہے۔ ٹیکنالوجی بدل گئی۔ ہتھیار جدید ہو گئے۔ ہم نے بالوں اور کپڑوں کے سٹائل بھی بدل لئے۔ نظریات بھی اور طرزِ حکومت بھی۔ تاریخ پڑھتے وقت یہ تصور کر لینا آسان ہے کہ ہم کسی اور ہی دنیا کے لوگوں کو پڑھ رہے ہیں۔ نہ کہ آئینے میں خود اپنا ہی عکس دیکھ رہے ہیں۔ گراما کی خلیج میں اس آئینے کو دیکھنا آسان ہے۔ چوبیس سو سال سے لوگوں کا غیرارادی اظہارِ یک جہتی ہے۔

خلاباز چاند پر جا کر تصویریں چھوڑ کر آتے ہیں، لیڈر افتتاح کرتے وقت اپنے نام کا کتبہ لگا دیکھ کر خوش ہو لیتا ہے۔ ایک بچہ گیلے سیمنٹ میں اپنا ہاتھ ڈال دیتا ہے اور ایک رومی جنرل جو البانیہ کے لائم سٹون پر اپنا نام کھود دیتا ہے، اس کی وجہ تو ایک ہی ہے۔ اسی طرح ہمیں یاد رکھ لیا جائے گا۔ ہم سب کوئی بھی ہوں، کہیں سے بھی ہوں، کسی بھی زمانے سے ہوں، بنیادی فطرت اور خواہشات ایک ہی ہیں۔

لیکن ہم صرف اس لئے نہیں لکھتے کہ ہزاروں سال تک ہمیں یاد رکھا جائے۔ ہم اپنے وقت میں خود اپنے آپ سے بات کرنے کا طریقہ ہے۔ بے معنی سے الفاظ دیواروں پر لکھ دینا احساس دیتا ہے کہ کوئی سننے والا ہے۔ ہم نے دنیا میں حصہ لیا ہے۔ وہ لوگ جو معاشرے سے الگ محسوس کرتے ہیں، اس دنیا میں ان کو طاقت کے ہونے کا احساس دیتا ہے۔ اس پر لکھا نعرہ (خواہ کوئی بھی نہ سننا چاہے)، کہیں پر اپنا نام، کہیں کوئی بے ہودہ فقرہ۔

دیواروں پر کچھ لکھ دینا اپنے ان خیالات پھیلانے کا بھی طریقہ ہے جن کو زبان سے نہیں بیان کیا جا سکتا۔ نامعلوم طریقے سے رائے کے اظہار کا۔ سیاست یا معاشرے سے شکایت کا، خواتین کے بارے میں یا پھر اپنے بارے میں۔ محبت کا اظہار، گندے مذاق؛ یہ اصل انٹرنیٹ ہوا کرتا تھا۔ فیس بُک یا ٹوئٹر کے پیچھے چھپ کر نامعلوم طریقے سے اظہار کرنے کا طریقہ تھا۔ اس پرانے انٹرنیٹ کی دیواروں پر بھی ویسے ہی پیغامات کی بھرمار رہی ہے، جیسی کہ فیس بک کی دیواروں پر۔ ریاستی پراپگینڈا کے خلاف، اشتہاروں کو بگاڑ کر اپنا پیغام پہنچانے کے ذریعے، اپنی آواز اٹھانے کے لئے بھی ، کسی کا مذاق اڑانے کے لئے، جو پسند نہیں اس سے لڑنے کے لئے، اس وقت بھی جب ہمیں پتا ہے کہ اس سے کچھ بھی فرق نہیں پڑے گا۔ کسی حکومتی عہدیدار کے خلاف انٹرنیٹ پر لکھنے سے فرق تو شاید نہ پڑے لیکن چیخ چیخ کر کہہ دینے سے دل کی ایک تسلی ہو جاتی ہے۔ یہ کام نیا نہیں۔ جب دیوارِ برلن موجود تھی، اس پر ہر ایک کی طرف سے بنائے گئے نقوش اس کی مثال ہیں۔

مرنے کے بعد بھی قبر پر ایک نشانی لگانا پسند کرتے ہیں۔ میں کون تھا؟ اس دنیا پر ہمارا چھوڑا گیا آخری نقش۔ جن کے پاس طاقت ہو، وہ اس کو اور بھی شاندار طریقے سے کرتے ہیں۔ فرعون اپنے اہرام چھوڑ گئے، کمبوڈین بادشاہ اپنی عبادت گاہیں۔ ایلون مسک اپنے قدم کا نشان مریخ پر نقش کرنا چاہتے ہیں۔ اس خلیج کے ملک البانیہ کے کمیونسٹ راہنما ہوژے نے تو ایک پورے پہاڑ پر ہی اپنا نام کندہ کروا دیا تھا۔ طاقتور ہو یا کمزور، خواہش ایک ہی ہے۔ یہ خواہش ختم ہونے والی نہیں۔

گراما کی خلیج کی دیوار کے نقش بھی خلا میں کی گئی ایسی پکار ہیں جن کو خلا نے سننے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ کیونکہ ان کو ثقافتی ورثہ قرار دیا جا چکا ہے اور ان کو محفوظ رکھا جائے گا۔ ان کو لکھنے والے مستقبل کا نہیں سوچ رہے تھے۔ لیکن سب افراد کا خودغرض نقصان پہنچانے کا کام اب دیکھے جانے والا آرٹ بن گیا ہے۔ ہماری فطرت کی علامت بن گیا ہے۔ ہمارے لئے اپنے آپ کو پہچاننے کا ایک سبق ہے۔

لیکن اگر دیورایں صاف کر دی جائیں، ہماری اگلی نسل ختم ہو جائے، ہماری یاد مٹ جائے، اس سے فرق نہیں پڑتا۔ ہم اپنا نقش بنا رہے ہیں۔ اس عظیم دنیا میں ہم بطور فرد ناقابلِ ذکر ہی کیوں نہ ہوں، اس عظیم دنیا میں کہیں نہ کہیں فرق ڈالتے ہیں۔ خواہ ریت پر لکھیں یا پتھر پر، ہمارے اعمال سے اور باتوں سے اپنے گرد کی دنیا کو بدلتے ہیں۔ دیواروں پر لکھنے والے، چیزوں کو خراب کرنے والے یا پہاڑوں پر نام لکھ دینے والے ڈکٹیٹر۔ ان سب کا ایک ہی مقصد تھا۔

لیکن یہ مقصد تو پہلے ہی پورا ہو چکا تھا۔ ان کے ایسا کرنے سے کہیں پہلے۔ کیونکہ ہم سب اپنے ارد گرد اپنے نقش مسلسل بنا رہے ہیں۔ یہ آگے بڑھ رہے ہیں۔ ہمارے قریب کے لوگوں پر، ہماری اس دنیا پر، خواہ ہم ان سے واقف ہوں یا نہیں۔ یہ ہمارے زندہ ہونے کی خوبصورتی ہے۔

اس خلیج پر
https://en.wikipedia.org/wiki/Bay_of_Grama

یہ اس ویڈیو سے

اس مضمون پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں