47

کیمیکل بانڈنگ

کیمیکل بانڈنگ— قسط اول

تحریر :محمد مصباح شاہ

اگر آپ بنیادی کیمسٹری پڑھ چکے ہیں تو اس لفظ سے آپ کا واسطہ ضرور پڑا ہوگا۔ کیمیکل بانڈنگ درحقیقت کیا ہے؟ کیمیکل بانڈنگ وہ ذریعہ ہے جس کے ذریعے دو یا دو سے زیادہ ایٹم ایک دوسرے کے ساتھ جڑے ہوتے ہیں۔ کیمیکلز بانڈنگ کو سمجھنے کے لئے ہم حیاتیات کے بنیادی اصول “حیاتیات کی تنظیم” سے مدد لیتے ہوئے ایٹمز کی ساخت تک کو جانیں گے۔
یقیناً آپ جانتے ہوں گے کہ آپ کا یا دوسرے جانداروں کا جسم سیلز سے مل کر بنا ہے۔ اور ان سیلز کے اندر مختلف قسم کی آرگینلیز ہوتی ہیں جو مختلف کام سرانجام دیتی ہیں جو کہ زندگی کو تسلسل کے ساتھ برقرار رکھنے کی بنیادی وجہ ہیں۔
ان آرگینیلیز میں نیوکلئیس بہت مشہور ہے اس کے علاوہ مختلف آرگینلیز جیسا کہ مائیٹوکانڈریا جو کہ سیل میں انرجی مہیا کرتی ہے، ایندوپلازمک ریٹیکولم جو کہ پروٹین اور فیٹس کو پیدا کرتی ہے وغیرہ مشہور ہیں۔ اس کے علاوہ بہت سی آرگینیلیز موجود ہوتی ہیں جو اپنے اپنے حصے کا کام سر انجام دیتی ہیں۔
اگر ہم نیوکلئیس کی ساخت کو دیکھیں تو نیوکلئیس میں جینیٹک مادہ موجود ہوتا ہے اس کے علاوہ بھی مختلف ساختیں موجود ہوتی ہیں مگر ہم ان کی تفصیل میں جائے بغیر اپنے موضوع کی طرف بڑھتے ہیں۔
جینیٹک میٹیریل میں RNA اورDNA شامل ہیں۔ DNA میں دو سٹرینڈ ہوتے ہیں جبکہ RNA میں ایک سٹرینڈ ہوتا ہے۔ اگر DNA کو دیکھا جائے تو اس میں بنیادی طور پر نائیٹروجن بیسز ہوتی ہیں جو کہ ہمارے جسم کی تمام معلومات کا ذخیرہ ہوتی ہیں۔ انہی کی ترتیب کی بنا پر لوگوں کا DNA مختلف ہوتا ہے ۔ ان بیسز کو بالترتیب Adenine,Guanine,Cytosine and Thymine کہا جاتا ہے۔
اگر دیکھا جائے تو Adenine-Thymine کا جوڑا ہوتا ہے اور Guanine-Cytosine کا جوڑا ہوتا ہے۔ یہ نیوکلئیر بیسز ایک دوسرے سے ہائیڈروجن بانڈنگ کے ذریعے سے جڑی ہوتی ہیں جو کہ کیمیکل بانڈنگ کا ایک ذیلی موضوع ہے۔
ان بیسز میں سے Adenine کی ساخت کی تصویر نیچے دکھائی گئی ہے۔
یہ بنیادی طور پر دو رنگز پر مشتمل ہے۔ ایک رنگ جو کہ دائیں جانب ہے وہ چھ ممبرز پر مشتمل ہے جن میں چار کاربن اور دو نائیٹروجن موجود ہیں جبکہ بائیں جانب والے رنگ میں 2 نائیٹروجن اور تین کاربن ہیں جن میں سے دو پہلے والے رنگ کا بھی حصہ ہیں۔
آرگینک کیمسٹری میں جب ہم مختلف ساختیں بناتے ہیں تو ہر جگہ کاربن کو ظاہر کرنے کے لئے بجائے C لکھنے کے اس کی جگہ ایک نکر سی بنا دی جاتی ہے جو کہ کاربن کو ظاہر کرتی ہے۔ اور اس کے ساتھ جڑے ہوئے ایٹمز کے جاننے کے لئے اس کے بانڈز کو گنا جاتا ہے۔ کاربن بنیادی طور پر چار بانڈ بناتی ہے۔ اگر اس مالیکیول میں بائیں جانب کی انتہا میں موجود کاربن کو دیکھا جائے تو وہ اپنے سے اوپر والی نائیٹروجن کے ساتھ دو بانڈز بنائے ہوئے ہے اور نیچے والی کے ساتھ ایک بانڈ موجود ہے تو اس کا مطلب کاربن کے تین بانڈ ہیں جبکہ درحقیقت کاربن کے ساتھ ایک ہائیڈروجن بھی جڑی ہے جس کو ظاہر نہیں کیا جاتا۔
اوپر کی گئی گفتگو تھوڑی پیچیدہ ہے مگر بنیادی معلومات کے لئے انتہائی ضروری ہے۔اب آتے ہیں ہم کیمیکل بانڈگ کی اقسام کی جانب۔
بنیادی طور پر دیکھا جائے تو کیمیکل بانڈگ کی تین اقسام ہیں جن میں آئیونک بانڈ، کوویلنٹ بانڈ اور کوآرڈینیٹ کوویلنٹ بانڈ شامل ہیں۔
آئیونک بانڈ
آئیونک بانڈ بنیادی طور پر الیکٹرنز کے تبادلے کے نتیجے میں بنتا ہے جس میں ایک ایٹم اپنا الیکٹرون کھو دیتا ہے اور دوسرا ایٹم اس الیکٹرون کو حاصل کر لیتا ہے۔ جس کے نتیجے میں الیکٹرون کھونے والے ایٹم پر مثبت چارج اور الیکٹرون حاصل کرنے والے ایٹم پر منفی چارج آجاتا ہے۔ کائنات کا یہ ایک اصول ہے کہ مخالف چارج/پول ایک دوسرے کو کشش کرتے ہیں جبکہ ایک جیسے چارج/پول ایک دوسرے کو دفع کرتے ہیں۔
جب یہ دو مخالف چارجز والے ایٹمز ایک دوسرے کے قریب آتے ہیں تو ان کے درمیان کشش کی قوت پیدا ہوتی ہے جس کو کیمیکل بانڈ کہا جاتا ہے اور چونکہ یہ بانڈ دو ایٹمز کے درمیان الیکٹرونز کے تبادلے سے بنتا ہے اور اس کے نتیجے میں ایٹمز آئنز میں تبدیل ہو جاتے ہیں تو اس کو آئیونک بانڈ کہا جاتا ہے۔
اس کی سب سے زیادہ عام مثال سوڈیم کلورائیڈ یعنی گھریلو نمک کی ہے۔ سوڈیم ایک دھات ہے جو کہ الیکٹرونز کو مہیا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے جبکہ کلورین ایک ایسا ایٹم ہے جو الیکٹرون کو حاصل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ دی گئی تصویر میں اس کی وضاحت کی گئی ہے۔
یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ ایٹمز اپنا الیکٹرون کھو کیوں دیتے ہیں یا دوسرے ایٹمز کو ایسی کیا مصیبت آن پڑی ہے کہ وہ دوسرے ایٹمز سے الیکٹرون لیتے پھریں۔
اس کے لئے ہمیں پیراڈک ٹیبل کا رخ کرنا پڑے گا۔ یاد رکھیں بنیادی کیمسٹری کو سمجھنے کے لئے پیراڈک ٹیبل کو سمجھنا اتنا ضروری ہے جتنا ایک گاڑی کے چلنے کے لئے اس کو پہیوں کی ضرورت ہوتی ہے۔جدید پیراڈک ٹیبل میں ایٹمز کو ان کے پروٹانز کی تعداد کی بنا پر ترتیب دیا گیا ہے۔ پیراڈک ٹیبل میں 7 قطاریں اور 18 کالمز ہوتے ہیں 7 قطاروں کو پیرئیڈز کا نام دیا گیا ہے اور کالمز کو گروپ کا نام دیا گیا ہے۔
ہر پیرئیڈ کے ساتھ ایٹمز کے شیل میں اضافہ ہوتا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر پہلے پیرئیڈ میں ایک شیل ہوتا ہے اسی طرح دوسرے میں دو اور تیسرے میں تین۔
شیل ایٹمز کے نیوکلئیس کے گرد ایک مخصوص خلا ہے جہاں پر الیکٹرونز کے ہونے کی probability زیادہ سے زیادہ ہوتی ہے۔ پہلے شیل میں 2 الیکٹرونز آ سکتے ہیں اور دوسرے میں آٹھ الیکٹرونز آسکتے ہیں۔
اسی طرح ہر گروپ کے ساتھ الیکٹرون کی تعداد میں اضافہ ہوتا جاتا ہے اگر ایک ایٹم پہلے گروپ سے تعلق رکھتا ہے تو اس کے سب سے باہر والے شیل میں ایک الیکٹرون ہوگا اسی طرح دوسرے گروپ میں بیرونی شیل میں دو الیکٹرون ہوں گے اور باقی مزید اسی طرح بڑھتے جائیں گے۔
سب سے آخر والا گروپ جو کہ گروپ نمبر 18 ہے اس کے ایٹمز کے بیرونی شیل مکمل بھرے ہوتے ہیں۔ ان کو نوبل گیسز کا نام دیا گیا ہے اور چونکہ ان کے آخری شیل مکمل طور پر بھرے ہوتے ہیں تو یہ Stable ایٹمز ہوتے ہیں۔ جبکہ باقی گروپ کے ایٹمز میں بالترتیب الیکٹرونز کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہوتا ہے۔ ایٹمز کی کیمسٹری کچھ اس طرح ہے کہ ایٹمز اپنے آپ کو Stable کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور یہ stability ان کو تب حاصل ہوتی ہے جب یہ اپنے سے قریب والی نوبل گیس کی طرح اپنے آخری شیل کے الیکٹرونز کی تعداد کو بنا لیں۔ اسی وجہ سے ایٹمز اپنے الیکٹرونز یا تو کھو دیتا ہے یا کسی دوسرے ایٹم سے حاصل کر لیتا ہے۔
اگر ہم پیریاڈک ٹیبل میں دیکھیں تو سوڈیم تیسرے پیرئیڈ سے تعلق رکھتی ہے اور اس کا گروپ پہلا ہے تو اس کا بیرونی شیل کا نمبر تین ہے اور اس شیل میں ایک الیکٹرون موجود ہے اس سے پچھلے پیریئڈ کے آخر میں نیون گیس موجود ہے جو کہ نوبل گیس ہے اور اس کے آخری شیل میں آٹھ الیکٹرون موجود ہیں۔جب سوڈیم اپنے تیسرے شیل کا آخری الیکٹرون کھوتا ہے تو اس کا آخری شیل دوسرا بن جاتا ہے جس میں آٹھ الیکٹرون موجود ہوتے ہیں تو اس طرح سوڈیم میں الیکٹرونز کی تعداد نوبل گیسز کی طرح بن جاتی ہے۔ اسی طرح کلورین تیسرے پیرئیڈ میں موجود ہے اور اس کا گروپ نمبر 7A ہے اس لئے اس کے آخری شیل میں 7 الیکٹرون موجود ہوتے ہیں اگر یہ ایک اور الیکٹرون حاصل کر لے تو یہ اپنے ساتھ والی نوبل گیس آرگون جیسی الیکٹرونز کی تعداد پورا کر لے گی اور اس طرح یہ سوڈیم سے الیکٹرون حاصل کر لیتی ہے۔
اب ایک اور مسئلہ پیدا ہو جاتا ہے کہ ایٹمز میں جتنے پروٹانز ہوں اتنے ہی الیکٹرونز ہوتے ہیں ۔ الیکٹرون پر منفی اور پروٹان پر مثبت چارج ہوتا ہے جب ایک ایٹم سے الیکٹرون نکل جاتا ہے تو اس میں الیکٹرونز کی کمی ہو جاتی ہے اور اس پر مثبت چارج پیدا ہوجاتا ہے کیونکہ پروٹانز کی تعداد الیکٹرونز سے زیادہ ہو جاتی ہے۔ اسی طرح جو ایٹم الیکٹرون کو حاصل کرتا ہے اس پر منفی چارج آجاتا ہے۔ جب کوئی ایٹم یا مالیکول چارج رکھتا ہے تو وہ unstable ہوتا ہے اپنے آپ کو متوازن کرنے کے لئے وہ اپنے مخالف چارج والے آئن کو اپنی طرف کھینچتا ہے اور اس کے ساتھ آئیونک بانڈ بنا لیتا ہے۔
جاری ہے۔۔۔

https://www.facebook.com/ilmkijustju/

https://www.facebook.com/groups/AutoPrince/

http://justju.pk

اس مضمون پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں