30

کیمیکل بانڈنگ۔۔ قسط دوم

کیمیکل بانڈنگ۔۔ قسط دوم

تحریر :🌷محمد مصباح شاہ🌷

دو موضوع ایک ساتھ شروع کرنے پر اور دونوں موضوعات میں لوگوں کی دلچسپی دیکھتے ہوئے تذبذب کا شکار ہوگیا کہ کس موضوع پر پہلے لکھا جانا چاہیئے مگر لوگوں کی بڑھتی ہوئی دلچپسی کی بنا پر میں نے کیمسٹری کی شاخوں کو وسعت کے ساتھ بیان کرنے کا ارادہ کیا ہے۔ لہٰذا میں نامیاتی کیمیا پر مزید گہرائی سے گفتگو کروں گا۔ لیکن نامیاتی کیمیا اور غیر نامیاتی کیمیا دونوں کے لئے کیمیکل بانڈنگ کو سمجھنا نہایت ضروری ہے اس لئے اس موضوع پر پہلے لکھنے جا رہا ہوں۔ جس نے کیمیکل بانڈنگ کی قسط اول نہیں پڑھی ان سے درخواست ہے کہ وہ قسط اول کو ضرور پڑھیں کیونکہ کیمیکل بانڈنگ کو تسلسل سے سمجھنا نہایت ضروری ہے۔
کوویلنٹ بانڈ۔۔
کوویلنٹ بانڈ ایک چھوٹا سا لفظ ہے لیکن یہ اپنے آپ میں ایک وسیع کائنات ہے بلکہ یوں کہنا غلط نہ ہوگا کہ کوویلنٹ بانڈ کے بغیر کائنات کا تصور آسان نہیں۔ کوویلنٹ بانڈ کے معانی ہیں ایسا بانڈ جو کہ الیکٹرون کی شئیرنگ سے بنا ہو۔ اس کی مثال ہم ایسے لے سکتے ہیں کہ دو دوست جب ایک دوسرے سے ہاتھ ملاتے ہیں تو دونوں اپنا اپنا ہاتھ بڑھا کر ایک دوسرے کے ہاتھوں میں دیتے ہیں۔ بالکل اسی طرح ایٹمز اپنا اپنا ایک الیکٹرون مہیا کرکے الیکٹرونز کو شئیر کر لیتے ہیں اور اس طرح دونوں ایٹمز کے درمیان کوویلنٹ بانڈ بن جاتا ہے۔
جیسا کہ آپ پچھلی قسط میں جان چکے ہیں کہ ایٹمز Stability کو پسند کرتے ہیں اور وہ اپنے سے قریب والی نوبل گیس کی الیکٹرونک کنفیگریشن کو حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ الیکٹرونک کنفیگریشن ایک الگ موضوع ہے اور کافی تفصیلی موضوع ہے مگر اس کے بغیر کیمیکل بانڈنگ کو سمجھنا مشکل ہے اس لئے اس موضوع پر چیدہ سی گفتگو کر لیتے ہیں۔
ایٹمز کے بارے میں کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ ان کے گرد الیکٹرون ایسے گردش کرتے ہیں جیسے سورج کے گردسیارے اور کچھ یہ سمجھتے ہیں کہ ایٹمز کے گرد الیکٹرون بیضوی مداروں میں گردش کرتے ہیں درحقیقت الیکٹرونز ایٹم کے گرد ایک cloud کی شکل میں ہوتے ہیں اور ہمیں نہیں معلوم ہوتا کہ الیکٹرون شیل میں کس جگہ پر موجود ہوگا مگر physical chemistry کی مدد لیتے ہوئے کچھ پیچیدہ قسم کی کیلکولیشنز کی مدد سے ہم الیکٹرونز کی کسی جگہ پر موجود ہونے کے زیادہ سے زیادہ چانسز جان سکتے ہیں۔
ایٹمز کے گرد مختلف شیلز ہوتے ہیں اور ہر شیل میں الیکٹرونز کی مختلف تعداد ہوتی ہے۔ پہلے شیل میں دو الیکٹرونز، دوسرے میں آٹھ ، تیسرے میں اٹھارہ اور چوتھے میں زیادہ سے زیادہ 32 الیکٹرونز آ سکتے ہیں
ہر شیل کے مزید ذیلی (سب شیلز) ہوتے ہیں۔(یاد رکھیں شیلز کو آربٹ اور سب شیلز کو آربٹلز کہا جاتا ہے)۔ ہر آربٹل کی مخصوص شکل ہوتی ہے۔
پہلے شیل میں صرف ایک آربٹل ہوتا ہے جس کو s آربٹل کہا جاتا ہے۔ اس کی شکل گول ہوتی ہے او اس میں زیادہ سے زیادہ دو الیکٹرونز سما سکتے ہیں۔
دوسرے شیل میں دو آربٹلز ہوتے ہیں ایک s اور دوسرا p آربٹل۔ p آربٹل مزید تین حصوں میں تقسیم کیا جاتا ہے جن کو px,py and pz کا نام دیا جاتا ہے۔ p کے ہر ذیلی آربٹل میں دو الیکٹرونز آسکتے ہیں اس طرح مجموعی طور پر p میں چھ الیکٹرونز سما سکتے ہیں۔ p آربٹل کی شکل ورزش کرنے والے dumbbells سے ملتی ہے اور ان کو ڈمبل شیپ کہا جاتا ہے۔
تیسرے شیل میں تین آربٹلز ہوتے ہیں۔ s,p and d۔ s اور p پہلے کی طرح ہوتے ہیں جبکہ d مزید پانچ ذیلی آربٹلز پر مشتمل ہے جن کو dz2, dxy, dxz, dyz , and dx2-y2 میں تقسیم کیا گیا ہے۔p ہی کی طرح d کے ہر ذیلی میں دو الیکٹرون سما سکتے ہیں تو اس طرح d کے مجموعی طور پر 10 الیکٹرونز بنتے ہیں۔
چوتھے شیل میں چار سب شیلز ہوتے ہیں۔ s,p,d and f۔ اس میں بھی s,p,d پہلے کی طرح جبکہf کے مزید 7 ذیلی آربٹلز ہیں۔f کے آربٹلز کافی پیچدہ ہوتے ہیں اور اس کے بھی ہر ذیلی آربٹل میں 2 الیکٹرون سما سکتے ہیں۔ تو ٹوٹل کتنے الیکٹرون ہوئے؟ 14 الیکٹرونز جی ہاں آپ ٹھیک سمجھے۔
اتنا جاننے کے بعد نیچے دی گئی ایٹم کی تصویر کو دیکھ لیجیے جو کہ حقیقتاً غلط ہے کیونکہ آپ جانتے ہیں کہ ایٹم کے گرد الیکٹرونز سیاروں کی طرح نہیں ہوتے لیکن الیکٹرونز کی تعداد کو سمجھنے کے لئے اس تصویر کا سہارا لیا جا سکتا ہے۔
شیلز اور سب شیلز کے بارے میں جاننے کے بعد اب چلتے ہیں الیکٹرونک کنفگریشن کی جانب اس کے لئے ہم دوالیمینٹس کے ایٹمز کی مثال کو سامنے رکھیں گے اور ایک ٹیبل کی مدد سے سمجھنے کی کوشش کریں گے۔
ہائیڈروجن کے ایٹم کے بارے میں سب جانتے ہیں کہ اس میں ایک الیکٹرون ہوتا ہے تو وہ K شیل کے اکلوتے s آربیٹل میں موجود ہوتا ہے اور اس ایٹم کی کنفگریشن یوں بنتی ہے۔
1s1
یاد رکھیں یہاں پہلا 1 شیل کے نمبر کو ظاہر کرتا ہے جبکہ s کی دائیں جانب والا 1 الیکٹرون کی تعداد کو ظاہر کرتا ہے۔ اس 1 کو s کے اوپر لکھا جاتا ہے جو کہ fb کی لکھائی میں نہیں لکھا جاسکتا۔
اس کے بعد ہم مثال لیں گی آکسیجن کی جس میں 8 الیکٹرونز ہوتے ہیں۔
1s2,2s2,2p4
پہلے شیل کے اکلوتے آربیٹل میں 2 الیکٹرون دوسرے شیل کے s آربیٹل میں 2 اور p میں4 الیکٹرونز ہیں یعنی کہ p میں مزید 2 اور الیکٹرونز کی کمی ہے۔
الیکٹرونک کنفیگریشن کے لئے تصویر نمبر 3 میں ایک ٹیبل دیا گیا ہے۔ بڑھنے والے ہر الیکٹرون کو اسی ترتیب کے ساتھ آربٹلز میں بھرا جاتا ہے۔
الیکٹرونک کنفگریشن کو مزید سمجھنے کے لئے Aufbau principle, pauli’s exclusion principle, hunds rule, کے ساتھ ساتھ کوانٹم نمبرز کا مطالعہ بھی ضروری ہے جن میں Principal Quantum Number (n), Orbital Angular Momentum Quantum Number (l), Magnetic Quantum Number (ml), Spin Magnetic Quantum Number (ms) شامل ہیں۔

اپنے موضوع کی جانب واپس آتے ہوئے ہم ہائیڈروجن گیس کی مثال کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یاد رکھیں کہ ہائیڈروجن ایلیمنٹ اور ہائیڈروجن گیس میں فرق ہے۔ ہائیڈروجن گیس ، ہائیڈروجن کے دو ایٹمز کا مجموعہ ہے۔
جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ ہائیڈروجن ایٹم شئیرنگ سے بانڈ بناتے ہوئے ایک ایک الیکٹرون مہیا کرتے ہیں جو کہ نیچے دی گئی تصویر
نمبر 4 میں بیان کئے گئے ہیں۔
کوویلنٹ بانڈ ایک وسیع موضوع ہے اور میں دریا کو کوزے میں بند کرنے کی ایک ناکام سی کوشش کر رہا ہوں۔ مزید ملتے ہیں اگلی پوسٹ میں۔
جاری ہے۔۔۔

قسط 1 کا لنک

https://justju.pk/%da%a9%db%8c%d9%85%db%8c%da%a9%d9%84-%d8%a8%d8%a7%d9%86%da%88%d9%86%da%af/https://www.facebook.com/ilmkijustju/

https://www.facebook.com/groups/AutoPrince/

http://justju.pk

اس مضمون پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں