39

کیمیکل بانڈنگ۔۔۔ قسط چہارم

کیمیکل بانڈنگ۔۔۔ قسط چہارم۔۔۔۔۔آخری قسط

تحریر:🌷محمد مصباح شاہ🌷

اب تک آپ آئیونک بانڈ اور کوویلنٹ بانڈ کے بارے میں تفصیل سے پڑھ چکے ہیں اب آتے ہیں ہم کو آرڈینیٹ کوویلنٹ بانڈ کی طرف۔ یہ بانڈ کیمسٹری میں ایک اہم ترین بانڈ ہے مگر اس بانڈ کو نہ جانے کیوں میٹرک اور ایف ایس سی کی کتب میں نظر انداز کر دیا گیا ہے شاید اس لیول پر اس بانڈ کے متعلق کورس نہیں ۔ مگر اس بانڈ کی اپنی افادیت ہے۔
کوآرڈینیٹ کوویلنٹ بانڈ۔۔۔
کوآرڈینیٹ کوویلنٹ بانڈ کا زیادہ تر تعلق تو میٹل کملیکسز کے ساتھ ہوتا ہے مگر کچھ سادہ مالیکویلز میں بھی یہ بانڈ پایا جاتا ہے جس کی مثال امونیا اور بورون ٹرائی فلورائیڈ کے درمیان بننے والے کوآرڈینیٹ کوویلنٹ بانڈ سے دی جاتی ہے۔ یہ ایسا بانڈ ہوتا ہے جس میں الیکٹرونز کی شئیرنگ تو ہوتی ہے اور جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ کوویلنٹ بانڈ میں دونوں ایٹمز کی طرف سے ایک ایک الیکٹرون مہیا کر کے ان کی شئیرنگ سے بانڈ بنتا ہے۔ مگر اس معاملے میں ایسا نہیں ہوتا اس معاملے میں ایک ہی ایٹم کی جانب سے دونوں الیکٹرونز یعنی الیکٹرون پئیر مہیا کیا جاتا ہے اور وہی الیکٹرونز کا جوڑا بانڈ بنا کر دونوں ایٹمز کو آپس میں جوڑ کر رکھتا ہے۔
امونیا میں موجود نائٹروجن 5A گروپ سے تعلق رکھتی ہے جس کا مطلب ہے کہ نائٹروجن کے بیرونی شیل میں 5 الیکٹرونز ہیں۔ امونیا کا فارمولا یہ ہے۔ NH3۔ اس فارمولے کے مطابق نائٹروجن کا ہر ہائیڈروجن کے ساتھ ایک ایک بانڈ پایا جاتا ہے۔یوں نائٹروجن کے تین بانڈ بنے ہیں جبکہ الیکٹرونز کا ایک جوڑا نائٹروجن کے پاس فالتو موجود ہوتا ہے۔
جبکہ کہانی کی دوسری طرف بورون 3A گروپ سے تعلق رکھتی ہے جس کے بیرونی شیل میں تین الیکٹرونز ہیں یہ تین فلورین کے ایٹمز سے ایک ایک بانڈ بنا کر رکھتی ہے لہٰذا اس کے تین بانڈ مکمل ہیں لیکن اس کے بیرون شیل میں الیکٹرونز کی مزید گنجائش موجود ہے اس لئے یہ نائٹروجن کے الیکٹرونز کا ایک فالتو جوڑا حاصل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یوں نائٹروجن اپنا جوڑا دے کر بورون کے ساتھ کوآرڈینیٹ کوویلنٹ بانڈ بنا لیتا ہے۔ اس بانڈ کی تفصیل پہلی تصویر میں بیان کر دی گئی ہے۔
کوآرڈینیٹ کوویلنٹ بانڈ کی سب سے زیادہ اہمیت میٹل کمپلیسز میں ہوتی ہے۔ پیراڈک ٹیبل کا ایک اہم بلاک B گروپ بلاک ہے جس میں ٹرانزیشن میٹلز موجود ہوتی ہیں۔ ان کو ٹرانزیشن میٹلز اس لئے کہا جاتا ہے کیونکہ ان کے d آربیٹلز فلنگ کے عمل میں ہوتے ہیں اور یہ مکمل بھرے ہوئے نہیں ہوتے۔ اس کے علاوہ یہ میٹلز آسانی سے الیکٹرونز کھو دیتی ہیں جس کی بنا پر ان کی کیمیائی خصوصیات یکساں نہیں رہتیں۔
عام طور پر میٹلز کے پاس اضافی الیکٹرونز ہوتے ہیں جس کی بنا پر وہ الیکٹرونز کھو دیتی ہیں مگر کوآرڈینیشن کمپلیکسز میں چونکہ میٹلز کے پاس اضافی آربیٹلز خالی ہوتے ہیں اس لئے وہ اپنے بیرونی شیلز میں الیکٹرونز کے جوڑے حاصل کرنے کے لئے تیار رہتی ہیں۔ liganads ایسے ایٹمز یا کمپاؤنڈز ہوتے ہیں جو کہ الیکٹرونز کے اضافی جوڑے جن کو lone pairs کہا جاتا ہے کے مالک ہوتے ہیں یہ اپنے ان جوڑوں کو میٹلز کے خالی آربیٹلز میں ٹرانسفر کر دیتے ہیں جس کی بنا پر میٹلز اور لیگنڈز کے درمیان کوآرڈینیٹ کوویلنٹ بانڈ بن جاتا ہے۔
بانڈز کو سمجھنے کے لئے اور مالیکولز کی جیومیٹری اور ساخت اور خصوصیات جاننے کے لئے مختلف قسم کی تھیوریز پیش کی گئی ہیں جیسا کہ VSEPR,VBT,MOT and CFT تھیوریز۔ یہ تھیوریز اپنی اپنی خامیوں اور خوبیوں کے ساتھ ہمیں مالیکیولز کی ساخت اور خصوصیات سمجھنے میں مدد دیتی ہیں۔
کوآرڈینشیشن کمپلیکسز کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ یہ روشنی کی مختلف ویولینگتھس کو جذب یا خارج کرتے ہیں اس کی وجہ ان میں موجود الیکٹرونز کی تعداد ہوتی ہے۔ کچھ کوآرڈینیشن کمپلیکسز نیچے دی گئی دوسری تصویر میں اپنے خوبصورت رنگ ظاہر کر رہے ہیں۔
کوآرڈینیشن کمپلیسز کی یہ خصوصیات ہم اس وقت پڑھیں گے جب ہم کیمسٹری کی شاخوں کے موضوع کو ختم کر چکے ہوں گے اور کیمسٹری کے مختلف موضوع زیرِ بحث ہوں گے۔
ہمارا کیمیکل بانڈنگ کا موضوع یہاں پر اختتام پذیر ہوتا ہے۔کیمیکل بانڈنگ کے علاوہ مختلف قسم کی قوتیں ایٹمز کی جیومیٹری پر اثر پذیر ہوتی ہیں جن کو ہم کسی اور موضوع کے لئے چھوڑ دیتے ہیں۔
بشرطیکہ زندگی ہماری اگلی ملاقات بنیادی کیمسٹری کے موضوع پر ہوگی۔
قسط3 کا لنک

کیمیکل بانڈنگ۔۔قسط سوم

https://www.facebook.com/ilmkijustju/

https://www.facebook.com/groups/AutoPrince/

http://justju.pk

اس مضمون پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں