25

کیمیکل بانڈنگ۔۔قسط سوم

کیمیکل بانڈنگ۔۔قسط سوم

تحریر :🌷محمد مصباح شاہ🌷
اب تک ہم جان چکے ہیں کہ کوویلنٹ بانڈنگ الیکٹرونز کی شئیرنگ کی وجہ سے ہوتی ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ یہ الیکٹرونز کی شئیرنگ کیسے ہوتی ہے۔ اس کے لئے ہمیں hybridization کی مدد لینا ہوگی۔hybridization کے معانی ہیں ایٹمز کے آربیٹلز کا مکس ہوکر نئے آربیٹل بنانا جس میں نئے بننے والے آربیٹل اتنے ہی ہوتے ہیں جتنے آربیٹل نئے آربیٹل بنانے میں حصہ لیتے ہیں۔ لیکن نئے بننے والے آربیٹلز کی شکل پرانے آربیٹلز سے مختلف ہوتی ہے۔
الیکٹرونک کانفگریشن میں ہم پڑھ چکے ہیں کہ s آربیٹل اکلوتا آربیٹل ہوتا ہے جبکہ p آربیٹل کے مزید 3 ذیلی آربیٹلز ہوتے ہیں px,py and pz اگر ہم کاربن کے ایٹم کو دیکھیں تو کاربن کی configuration کچھ یوں ہوگی۔
1s2, 2s2, 2p2
کاربن میں کل چھ الیکٹرونز پائے جاتے ہیں۔ ایک اور بات آپ کو بتاتا چلوں کہ الیکٹرونز جب ذیلی آربیٹلز میں ہوتے ہیں جیسا کہ s,px,py,pz میں تو یہ جب جوڑوں کی شکل میں ہوتے ہیں تو ان کی spin ایک دوسرے سے مختلف ہوتی ہے یعنی ایک اگر گھڑی کی طرح سپن کرے گا تو دوسرا گھڑی کی الٹی سمت سپن کرے گا۔اگر آپ نے Hunds rule پڑھا ہوتو Hund’s rule ہمیں بتاتا ہے کہ جب ہمارے پاس دو ایک جیسی انرجی کے آربیٹل موجود ہوں تو الیکٹرونز بجائے ایک ہی آربیٹل میں جاکر مختلف سپن رکھنے کے الگ الگ آربیٹل میں چلے جاتے ہیں اور اپنی سپن ایک جیسی رکھتے ہیں۔
یہاں ایک دلچسپ بات بتاتا چلوں کہ پہلے آربٹ یعنی K کی انرجی سب سے کم ہوتی ہے۔ پھر اس سے زیادہ دوسرے کی اسی طرح تیسرے کی۔ اس کے علاوہ آربیٹلز میں s کی کم p(تینوں ذیلی کی ایک جیسی) کی اس سے زیادہ d (پانچوں ذیلی کی ایک جیسی)کی اس سے زیادہ اور f(ساتوں ذیلی کی ایک جیسی) کی سب سے زیادہ۔
کاربن میں الیکٹرونز دی گئی پہلی تصویر کے مطابق ہوتے ہیں۔
پہلی تصویر میں اگر سب سے پہلی لائن دیکھی جائے تو یہ کاربن کی گراؤنڈ اسٹیٹ یعنی وہ حالت ہے جب کاربن کے ایٹم نے ابھی کوئی بانڈ نہیں بنایا اور وہ اپنی اصلی انرجی والی حالت میں ہے۔ جب کاربن کے ایٹم کو انرجی ملتی ہے تو وہ excite ہو جاتا ہے اور نیچے والی تین لائنوں میں سے کسی ایک صورت میں ہو جاتا ہے۔
پہلی صورت۔۔۔۔سنگل بانڈ
اس صورت میں کاربن کے بیرونی شیل کا ایس آربیٹل اور پی کے تینوں آربیٹل ایک دوسرے سے مکس ہوتے ہیں اسی وجہ سے اس کو Sp3 کہا جاتا ہے۔جب ایسی صورت بنتی ہے تو ان مکس ہونے والے آربیٹلز کی انرجی ایک جیسی بن جاتی ہے اور جیسا کہ ہمیں معلوم ہے کہ جتنے ٹوٹل آربیٹل ملتے ہیں اتنے ہی مزید نئے آربیٹل بنتے ہیں۔اس لئے چار sp3 آربیٹلز بنتے ہیں۔ چونکہ ان آربیٹلز کی انرجی ایک جیسی ہوتی ہے تو الیکٹرونز الگ الگ آربیٹلز میں براجمان ہوتے ہیں۔ جب ایک sp3 کاربن کا ایٹم دوسرے sp3 کاربن کے ایٹم سے ملتا ہے تو ان کے درمیان سنگل بانڈ بنتا ہے۔ہوتا یوں ہے کہ ہر ایٹم میں سے
ایک sp3 والا آربیٹل دوسرے ایٹم کے آربیٹل سے الیکٹرون کی شئیرنگ کرتا ہے۔اور اس طرح ان دو ایٹمز کے درمیان سنگل بانڈ بن جاتا ہے۔جس کو sp3-sp3 overlap کہا جاتا ہے۔ اگر ایک sp3 کسی sp2 سے سنگل بانڈ بنائے تو اس کو sp3-sp2 overlap کہا جاتا ہے اور اگر sp3 کسیsp سے سنگل بانڈ بنائے تو اس کو sp3-sp overlap کہا جاتا ہے۔
سنگل بانڈ کو sigma بانڈ کہا جاتا ہے
دوسری صورت۔۔۔۔ ڈبل بانڈ
اسی طرح اگر ایک ایس اور دو پی آربیٹلز ملیں تو اس کے نتیجے میں بننے والے آربیٹل کو Sp2 آربیٹل کہتے ہیں۔ ایسی صورت میں ایک پی آربیٹل ہائبراڈیزیشن میں حصہ نہیں لیتا۔ جب ایک sp2کاربن دوسرے sp2 سے ملتا ہے تو اس کے نتیجے میں ڈبل بانڈ بنتا ہے۔اس کا طریقہ کار یہ ہوتا ہے کہ اب کاربن کے ایٹم کے پاس تین hybridized آربیٹلز موجود ہیں جبکہ ایک ایسا آربیٹل موجود ہے جس نے hybridization میں حصہ ہی نہی لیا۔ کاربن کے hybridized آربیٹلز سنگل بانڈ بناتے ہیں چاہے وہ کسی دوسرے کاربن کے sp3 آربیٹل سے ملیں یا sp2 سے یا sp سے۔جبکہ جو اکلوتا غیر مکسڈ آربیٹل ہوتا ہے وہ ڈبل بانڈ بنانے میں حصہ لے گا۔
اس ساری تفصیل کو سمجھنے کے دوسری تصویر میں آپ ethane کے کمپاؤنڈ کو دیکھ سکتے ہیں کہ کیسے ایک sp2 کاربن کا ایٹم 3 سنگل بانڈ بناتا ہے۔ ethane کا فارمولا ہے C2H4 ۔یعنی:
H2C=CH2
یہاں ہم ایک کاربن کے ایٹم پر بحث کریں۔ اس کے لئے آپ دائیں جانب والے کاربن کو دیکھ سکتے ہیں کہ دائیں جانب والے کاربن نے 2 ہائیڈروجن کے ایٹمز سے سنگل بانڈ بنایا ہوا ہے۔ جبکہ دوسری کاربن سے اس کا ایک ڈبل بانڈ ہے۔ دونوں کاربن چونکہ sp2 ہیں اس لئے یہ اپنا تیسرا ہائبراڈئیزڈ آربیٹل آپس میں سگما بانڈ بنانے میں استعمال کرتے ہیں۔ جبکہ وہ آربیٹل جو کہ اکلوتا رہ گیا تھا اور اس نے hybridization میں حصہ نہیں لیاتھا دونوں کاربن اپنے اس آربیٹل کے ذریعے سے ڈبل بانڈ بنا لیتے ہیں۔ اس تصویر میں نیلے رنگ سے سگما بانڈز کو ظاہر کیا گیا ہے جبکہ مالٹائی رنگ پائی بانڈ کو ظاہر کرتا ہے جس کی وجہ سے دونوں کاربنز کے درمیان ڈبل بانڈ بن جاتا ہے۔
ان اکلوتے آربیٹلز کے درمیان بننے والے بانڈ کو پائی بانڈ کہا جاتا ہے جبکہ ہائبراڈئزڈ آربیٹل سے بننے والے بانڈ کو سگما بانڈ کہا جاتا ہے۔
اسی طرح تیسری تصویر ٹرپل بانڈ کو دکھاتی ہے۔
جاری ہے۔۔۔

2قسط کا لنک
https://justju.pk/%da%a9%db%8c%d9%85%db%8c%da%a9%d9%84-%d8%a8%d8%a7%d9%86%da%88%d9%86%da%af%db%94%db%94-%d9%82%d8%b3%d8%b7-%d8%af%d9%88%d9%85https://justju.pk/%da%a9%db%8c%d9%85%db%8c%da%a9%d9%84-%d8%a8%d8%a7%d9%86%da%88%d9%86%da%af%db%94%db%94-%d9%82%d8%b3%d8%b7-%d8%af%d9%88%d9%85/

/https://www.facebook.com/ilmkijustju/

https://www.facebook.com/groups/AutoPrince/

http://justju.pk

اس مضمون پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں