8

کیمیائی بندھن Chemical Bonds

🔗🌀🔗 کیمیائی بندھن Chemical Bonds 🔗🌀🔗

تحریر۔
سلمان رضا اصغر

یوں تو کیمیائی بندھنوں یا کیمیکل بانڈز کی کئی اقسام ہیں اور کئی طریقوں سے مالیکیولز آپس میں جڑتے ہیں لیکن بنیادی طور پر سب سے عام بننے والے کیمیائی بندھن یا بانڈز دو ہی مشہور و معروف ہیں ایک تو شریک گرفتی بندھن covelent bond اور دوسرا آیونی بندھن Ionic bond. کیمیائی بندھن chemical bonds کے سمجھنے سے پہلے آپ کو مادےکے ذرات کو سمجھنا پڑے گا مادے کے ایٹم کے ذرات میں الیکٹرون سب سے اہم اور بے حد خاص ذرہ ہے جو ایٹم کے مرکزے کے گرد حرکت میں رہتے ہیں , یہ الیکٹرونز توانائی جذب بھی کرتے ہیں جس کے باعث نیوکلئیس یا ایٹم کے مرکزے کے گرد قائم کئی توانائی کے مدار یا شیلز میں ایٹم کے مرکزے سے دور ہو کر اپنی حرکت کی رفتار بڑھا لیتے ہیں اس صورت کو الیکٹرونز کا ایکسائیٹ excite ہونا کہا جاتا ہے اور پھر توانائی جذب کرنے کی صلاحیت کی آخری حد کے بعد اس جذب شدہ توانائی کو خارج کر کے واپس اپنی نارمل حرکت میں اپنے مخصوص مدار یعنی گراؤنڈ اسٹیٹ ground state واپس لوٹ جاتے ہیں, جہاں وہ توانائی جذب کرنے سے پہلے موجود تھے. ان پر منفی چارج ہوتا ہے انہیں الیکٹرونز کو کسی تار میں دوڑیں بھی لگوا دی جاتی ہیں جس سے کرنٹ یا بجلی بھی پیدا کر لی جاتی ہے. یہی ایٹم کا ذرہ کیمیائی بندھنوں chemical bonds کی تشکیل کا ذمہ دار بھی ہے.ایک کیمیائی مرکب بنانے کے لئے ایک عنصر کے ایٹم کےالیکٹرونز دوسرے ایٹم میں کلی طور پر انتقال بھی فرما کر اس کا حصہ بن سکتے ہیں اور دوسری صورت میں یہ الیکٹرونز دو ایٹمز کے درمیان شراکت داری یا شیئرنگ sharing کرتے ہوئے اپنی زندگی بھی گزار سکتے ہیں.

➰شریک گرفتی بندھن
Covelent Bond
ایٹموں کے درمیان آپس میں الیکٹرونز کی شراکت داری یا شیئرنگ کرنا کوویلنٹ بانڈنگ کہا جاتا ہے. یہ بانڈنگ یا بندھن تب ہی بنتا ہے جب ایک ہی عنصر کے دو ایٹمز کے درمیان ہوتی یا سیسے عناصر جو عناصر کے ٹیبل میں ایک دوسر کے قریب ہی موجود ہیں زیادہ تر یہ غیر دھاتی عناصر کے درمیان پائی جاتی ہے. اس بانڈنگ میں جو اہم چیز اپنا کردار ادا کرتی ہے وہ ایٹمز کی نظر آنے والی ایک خصوصیت برقی منفیت یا الیکٹرو نیگیٹیوٹی electronegativity ہے, (برقی منفیت ایک ایٹم کی وہ صلاحیت مالیکیولز کی تشکیل میں ابھرتی ہے, جس کے تحت وہ مالیکیول میں بذات خود الیکٹرانز کھینچ سکتا ہے) اگر بانڈنگ کرنے والے ایٹمز کی الیکٹرو نیگیٹیوٹی electronegativity ایک جیسی ہو تو ان میں سے کوئی بھی ایٹم اپنے الیکٹرونز دوسرے کو دینے پر تیار نہیں ہوتا ایسی صورت میں خود کو مستحکم رکھنے کے لئے دونوں ایٹمز آپس میں الیکٹرونز میں شراکت داری قائم کر لیتے ہیں اور شریک گرفتی بند یا کوویلنٹ بانڈ covelent bond تشکیل پاتا ہے.

🌀 قطبی و غیر قطبی بانڈ
Polar & Non polar Covelent Bond
شریک گرفتی بندوں یا کوویلنٹ بانڈز میں ہی مالیکیولز کا قطبی یا پولر ہونا اورغیر قطبی یا نان پولرnon-polar ہونا آپس میں جڑنے والے ایٹمز و مالیکیولز کی بانڈنگ کے دوران نظر آنے والی ایک خصوصیت برقی منفیت یا الیکٹرو نیگیٹیوٹی electronegativity پر منحصر ہے.(برقی منفیت ایک ایٹم کی وہ صلاحیت جس کے تحت وہ مالیکیول میں بذات خود الیکٹرانز کھینچ سکتا ہے)دو ایٹمز کے درمیان الیکٹرونز کی مساوی تعداد میں تقسیم یا ان الیکٹرونز کی دونوں ایٹمز کے درمیان مساوی شراکت داری کرنے سے پولریٹی یا قطبیت پیدا نہیں ہوتی, ایسا تب ہی ممکن ہوتا ہے جب آپس میں جڑنے یا بانڈنگ کرنے والے عناصر کے ایٹمز کی الیکٹرونیگیٹیوٹی کی قدرvalue تقریباً ایک جیسی ہو , لیکن اگر ان ملنے والے عناصر کے ایٹمز میں اگر ایک عنصر کے ایٹم کی الیکٹرو نیگیٹیوٹی دوسرے سے زائد ہو تو وہ دوسرے ایٹم پر زیادہ حاوی ہوتا ہے اور جس کے باعث الیکٹرونز کو اپنی طرف کھینچ کر رکھتا ہے اس کے باعث وہ پولر یا قطب کا رتبہ پا جاتا ہے اگر سمجھو تو قطب کا رتبہ ہے بڑا ہے اور الیکٹرونز پر اس کا اثر و رسوخ زیادہ رہتا ہے, اسی کو قطبیت یا پولریٹی کہتے ہیں, ایسے بننے والا ایک مالیکول پولر ہوتا اور اس قسم کے کوویلنٹ بانڈ کو پولر کوویلنٹ بانڈ کہا جاتا ہے.

پولر کوویلنٹ بانڈ کی جیومیٹری یہ ہے کے مالیکیول کی ایک جانب مثبت چارج پیدا ہوتا ہے اور دوسری جانب منفی جس کے باعث تمام مالیکیولز زیادہ مضبوطی سے جڑجاتے ہیں ایسا ہی کچھ پانی کے ایک مالیکیول میں نظر آتا ہے جس میں آکسیجن کے ایک رخ پر دو ہائیڈروجن کے ایٹمز جڑے ہوتے ہیں اور آکسیجن کے ایٹم کی دوسری جانب یا مخالف رخ خالی ہوتی ہے پانی کے مالیکیولز آپس میں ایسے ہی ایک دوسرے سے جڑتے ہیں اور اسے ہائیڈروجن بانڈنگ کہا جاتا ہے. تو مالیکیولز کی جیومیٹری سمجھنا بھی بے حد اہم ہے.

🔗 آیونی بندھن Ionic bond
باقی دوسری طرح کی بانڈنگ میں مرکب کی تشکیل کے لئے ایک ایٹم سے دوسرے ایٹم میں انتقالِ الیکیٹرونز ہے جس سے دونوں ایٹمز پر چارج پیدا ہوجاتا ہے, الیکٹرون حاصل کرنے والے عنصر کے ایٹم پر مثبت چارج بنتا ہے اور دینے یا دان کرنے والے پر منفی چارج پیدا ہوجاتا جسے پھر آئیونک ionic کہا جاتا ہے جیسا کہ معلوم ہے مخالف چارج آپس میں کشش رکھتے ہیں تو ایٹمز مضبوطی سے جڑ جاتے ہیں , اس طور بننے والے مرکب میں مالیکیولز کا بندھن یا بانڈنگ آئیونک بانڈنگ کہی جاتی ہے دنیا میں پائے جانے والے زیادہ تر مرکبات میں یہی دو قسم کی بانڈنگ پائی جاتی ہے.

👣 سلمان رضا

اس مضمون پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں