23

کیا ہم اپنے دماغ کا 10 فیصد حصہ استعمال کرتے ہیں؟

سوال: کیا ہم اپنے دماغ کا 10 فیصد حصہ استعمال کرتے ہیں؟
جواب : “آپ اس کا بلکل بھی استعمال نہیں کرتے”(ارسطو) Aristotle
384BC to 322BC
Winner of Hottest Brain of the year
358BC
انھیں لگتا تھا کہ یہ تو بس ایک ریڈی ایٹر ہے جو ہمیں ٹھنڈا رکھتا ہے۔
لیکن جدید سائنس یہ علم رکھتی ہے کہ بھلے ہی یہ اخروٹ جیسا دکھتا ہو پر آپ ہر لمحہ اس کا پورا استعمال کرتے ہیں۔
وزن کے حساب سے یہ آپ کے جسم کا 2 فیصد ہونے کے باوجود یہ پورے جسم کی 25 فیصد توانائی استعمال کرتا ہے۔
اگر ہم صرف دس فیصد دماغ استعمال کرتے تو ہم ہر وقت جو چیزیں استعمال کرتے ہیں وہ کرنا ناممکن ہوتا۔
ہمارے دماغ بہت توانائی استعمال کرتے ہیں اور اس کی ایک وجہ ہے،اور وجہ یہ ہے کہ ہمارا دماغ بہت زیادہ کام کرتا ہے۔
ارتقائی مراحل میں دماغ کے زیادہ استعمال کی وجہ سے یہ سائز میں بڑا ہوا ہے،اتنا بڑا کہ یہ بچے کو جنم دیتی ماں کو مار بھی سکتا ہے۔
اس وقت ہمارا دماغ سو ارب 100,000,000,000
نیورانز چلا رہا ہے،
جب آپ کچھ نہیں کر رہے ہوتے تب بھی ہمارا دماغ کڑی محنت کر رہا ہوتا ہے،دماغ کے کچھ حصے ہیں جو تبھی کام کرتے ہیں جب آپ کچھ نہیں کر رہے ہوتے،
کوئی عام کام مثلاً
آپ کے مٹھی بند کرنے پر بھی دماغ کے کئی حصے ایکٹیو ہو جائیں گے۔
چائے پینے کے لئے بھی آپ کو پورا دماغ استعمال کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔
پہلے یہ سمجھنا کہ چائے کیا ہے؟
پہلے آپ کی ہیپوکمپس (Hippocampus)
میں آپ کی چائے پینے کی پرانی یادوں کو تازہ کریں گی(یہ پینے کی چیز ہے،اس میں دودھ،چینی،پتی استعمال ہوتی ہے اور کپ کی ضرورت بھی ہوگی)۔
پھر آپ کا وژول کورٹیکس چائے کے کپ کو پہچانتا ہے،
اور پھر آپ کا موٹر کورٹیکس چائے کے کپ کو اٹھا کر آپ کے منہ تک لاتا ہے۔
اور جب دماغ کے یہ حصے چائے کا لطف اٹھاتے ہیں
تب تک دماغ کے باقی حصے اس میں ان کی مدد کرتے ہیں۔
ہمارے پاس نیوران کے لیے گلیئل سیل Glial Cell ہیں۔
جو ایک میسج کو ایک جگہ سے دوسری جگہ بھیجتے ہیں۔
لیکن مدعا یہ ہے کہ اگر آپ کے پاس گلیئل سیل نہیں ہونگے نیوران ٹھیک سے کام نہیں کریں گے۔
گلیئل سیلز کا کام ہوتا ہے نیورانز کی دیکھ بھال کرنا،
یہ نیورانز کی صفائی کرتے ہیں،انہیں ایک جگہ تھامے رکھتے ہیں اور ساتھ میں دوسرے نیورانز سے کنکشن بنانے میں بھی مدد کرتے ہیں۔
کچھ معاملات میں ایسا دیکھا گیا کہ لوگوں کو بہت شدید دماغی چوٹیں آئی تھیں پھر بھی وہ بچ گئے اور اس کے بعد بھی سب کام کر رہے ہیں،تو کچھ لوگ دعویٰ کرتے ہیں کہ دماغ کے وہ حصے کچھ بھی کام نہیں کر رہے تھے اور دماغ میں ایسے حصے ہیں جنکی ہمیں ضرورت نہیں ہے۔
لیکن دراصل اس سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ
دماغ کے کچھ حصے دماغ کے دوسرے حصوں کا بھی کام کرتے ہیں اور ہمارا دماغ سچ مچ غضب کا ہے۔
تحریر و ترجمہ:ہانیہ ملک
نوٹ:یہ بی بی سی کی ایک ویڈیو سے ترجمہ کی گئی پوسٹ ہے۔

https://www.facebook.com/ilmkijustju/

https://www.facebook.com/groups/AutoPrince/

http://justju.pk

اس مضمون پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں