150

کیا سوچ کو پڑھا جا سکتا ہے ۔۔۔ ترجمہ ۔۔ زاہد آرائیں

سائنسدانوں نے انکشاف کیا ہے کہ سوچنے کے عمل کے دوران دماغ میں بننے والی لہروں کو نہ صرف پڑھا جا سکتا ہے بلکہ دماغ سے گفتگو بھی کی جا سکتی ہے۔

سائنسی رسالہ نیچر کے مطابق خاص تکنیک کے ذریعے انسانی دماغ سے مکالمہ کرنے کا انکشاف کیا گیا ہے۔

یہ تحقیق امریکہ کی مشہور کولمبیا یونیورسٹی کے ماہرین نے کی ہے۔

ماہرین نے دعویٰ کیا ہے کہ دماغ میں سوچنے کے عمل کے دوران پیدا ہونے والی لہروں کو ترتیب دی گئی جس کی مدد سے دماغ سے بات کی جا سکتی ہے۔

ماہرین کو امید ہے کہ اس طریقے سے دماغی سرگرمیوں کو لہروں اور کے سگنلز ذریعے جملوں میں تبدیل کیا جا سکے گا۔

اس وقت تک کے تجربات میں آڈیو کوالٹی ذیادہ بہتر نہیں ہے مگر مستقبل میں اس میں ضرور انقلابی تبدیلیاں رونما ہوں گی اور ایک دن انسان سوچنے کے عمل کو سن سکے گا۔

ماہرین اس میں کچھ ترامیم کے بعد فالج سے متاثر مریضوں کی جسمانی بحالی کے لیئے بھی پر امید ہیں۔

مزید اس ٹیکنالوجی کو ذہنی، دماغی بیماریوں کے لیئے بہت بڑی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔

اس مضمون پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں