42

: کیا روشنی (فوٹان) سپیس ٹائم کو خمیدہ کر سکتی ہے اور کیا گریویٹی روشنی پر اثر انداز ہو سکتی ہے؟

سوال : کیا روشنی (فوٹان) سپیس ٹائم کو خمیدہ کر سکتی ہے اور کیا گریویٹی روشنی پر اثر انداز ہو سکتی ہے؟

تحریر: ڈاکٹر محمد رحمان

جواب
کچھ لوگ اس سوال کا جواب ہاں میں دیتے ہیں اور عام طور پر تین چیزیں اس الجھن کا باعث بنتی ہیں
پہلا نکتہ یہ ہے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ چونکہ E=mc^2 بتاتی ہے کہ کمیت اور توانائی ایک ہی چیز ہے اور کمیت اگر سپیس ٹائم فیبرک میں خم کا باعث بنتی ہے اس لیے انرجی بھی سپیس ٹائم فیبرک میں خم پیدا کر سکتی ہے اور انرجی چونکہ فوٹان ہے اس لیے فوٹان یعنی روشنی بھی سپیس ٹائم فیبرک میں خم پیدا کر سکتی ہے۔
دوسری چیز جو اس غلط فہمی کا باعث بنتی ہے وہ یہ ہے کہ گریویٹیشنل پوٹینشل میں فوٹانز کی فریکوئنسی کم ہو جاتی ہے۔
اور تیسری چیز جو اس غلط فہمی کو پیدا کرنے میں کردارادا کرتی ہے وہ کمیت والے اجسام کے پاس سے گزرتے ہوئے روشنی کے راستے میں خم پیدا ہونا ہے۔
اس سوال کا جواب ہم دو طریقوں سے دے سکتے ہیں۔ ایک الیکٹرومیگنیٹک فورس کے مطالعہ سے اور دوسرا نظریہ اضافیت عمومی کی رو سے۔ الیکٹرومیگنیٹک فورس کے مطالعہ کے لئے استعمال کیا جانے والا موجودہ نظریہ کوانٹم الیکٹروڈائنامکس کہلاتا ہے اور اب تک پیش کئے گئے تمام نظریات میں یہ سب سے قابل اعتبار نظریہ ہے۔ اس نظریے کے مطابق فوٹان صرف ایسے ذرات کے ساتھ تعامل کر سکتا ہے جن کے پاس الیکٹرک چارج موجود ہو۔ اس لئے اگر آپ کسی پارٹیکل فزکس کے طالب علم سے یہ سوال کریں کہ روشنی سپیس ٹائم میں خم کا باعث بن سکتی ہے یا نہیں تو اس کا جواب ہمیشہ نہ میں ہو گا ۔ کیونکہ سپیس ٹائم میں خم پیدا کرنے کے لئے ضروری ہے کہ فوٹان گریویٹیشنل تعاملات میں حصہ لیں جس کی ایک صورت یہ ہو سکتی ہے کہ فوٹان کی کمیت ثابت ہو جائے اور دوسری صورت یہ کہ گریویٹان کے پاس الیکٹرک چارج آ جائے۔ چونکہ یہ دونوں صورتیں تجرباتی طور پر ثابت نہیں اور نظریاتی طور پر بھی یہ دونوں صورتیں ممکن نہیں اس لئے روشنی سپیس ٹائم میں خم کا باعث نہیں بن سکتی۔
تاریخی اعتبار سے بھی دیکھا جائے تو نظریہ اضافیت عمومی پیش کرنے کے بعد آئن سٹائن کی بہت بڑی خواہش تھی کہ وہ ایک ایسی مساوات اخذ کر سکے جو پوری کائنات کی تشریح کے کام آئے۔ یاد رہے کہ یہ اس دور کی بات ہے جب کوانٹم مکینکس ابھی پالنے میں جھول رہی تھی۔ سٹرونگ اور ویک قووتوں کا تصور بھی اتنا پختہ نہیں تھا۔ مگر الیکٹرومیگنیٹک فورس کے لئے میکس ویل کی مساواتوں کی صورت میں مکمل نظریاتی ڈھانچہ موجود تھا۔ چنانچہ آئن سٹائن کے خواب کی تعبیر کی طرف پہلا قدم صرف ان دو قووتوں کو یکجا کر نا تھا۔ مگر ہم جانتے ہیں کہ وہ ایسا نہیں کر سکا۔ اس لئے اگر آپ نظریہ اضافیت عمومی کو نہیں بھی سمجھتے تو یہ بھی سمجھنا مشکل نہیں کہ روشنی کا مطالعہ نظریہ اضافیت سے نہیں کیا جا سکتا اور نہ ہی یہ دعوی کیا جا سکتا ہے کہ روشنی یا فوٹان سپیس ٹائم میں خم کا باعث بن سکتے ہیں۔
اب ہم نظریہ اضافیت عمومی سے اس سوال کا جواب تلاش کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
سب سے پہلے تو یہ بات ذہن میں رکھنا ضروری ہے کہ صرف الیکٹرومیگنیٹک توانائی ایسی ہے جو فوٹان کی شکل میں ہوتی ہے اور اس کے علاوہ بھی توانائی کی کئی اقسام ہیں اس لیے لازمی نہیں کہ جب بھی توانائی کا لفظ آئے تو اس سے مراد فوٹان ہی ہو۔ چنانچہ آئن سٹائن فیلڈ مساواتوں میں سٹریس انرجی ٹینسر یا مومینٹم انرجی ٹینسر کا لفظ آتے ہی اس سے فوٹان مراد لے لینا سراسر غلط ہے۔ یہ بات تو درست ہے کہ سپیس ٹائم فیبرک میں خم کا باعث توانائی ہے۔ مگر اس توانائی کا ذریعہ صرف اور صرف کمیت یعنی مادہ ہے۔ آئیں پہلے یہ دیکھتے ہیں کہ سپیس ٹائم میں خمیدگی سے مراد ہے کیا؟
فرض کریں آپ کے ہاتھ میں پاکستان کا جھنڈا ہے جسے آپ نے ایک بانس کے ذریعے زمیں کے ساتھ نوے درجے کا زاویہ بنا کر کھڑا کیا ہے۔ اگر اب آپ اس جھنڈے کو چند میٹر کے فاصلے تک اس طرح لے کر جائیں کہ وہ زمین کے ساتھ نوے درجے کا زاویہ ہی بنا رہا ہو تو کیا جھنڈے کی سمت تبدیل ہو گی؟ نہیں کیونکہ چند میٹر کے فاصلے تک زمین کی سطح ہموار ہی رہتی ہے ( نیچے تصویر الف دیکھیں)۔ لیکن اسی جھنڈے کو اگر اب آپ لاہور سے فرض کریں پیرس اس طرح لے کر جائیں کہ وہ زمین کے ساتھ نوے درجے کا زاویہ بنا رہا ہو تو اب کیا جھنڈے کی سمت وہی ہو گی جو لاہور میں تھی؟ نہیں وہ بالیقین تبدیل ہو چکی ہو گی( نیچے تصویر ب دیکھیں)۔اس سے ہمیں یہ پتہ چلتا ہے کہ اگر ہم ہموار سطح پر حرکت کریں تو ویکٹر کی سمت تبدیل نہیں ہوتی لیکن اگر کروی سطح پر حرکت کی جائے تو ویکٹر کی سمت تبدیل ہو جاتی ہے دوسرے الفاظ میں وہ پہلے والا ویکٹر نہیں رہتا۔ اب اگر آپ چاہتے ہیں کہ کروی سطح پر بھی ویکٹر کی سمت تبدیل نہ ہو تو آپ کو کروی سطح پر چلتے ہوئے ہر ہر مقام پر اپنے ویکٹر میں ایڈجسٹمنٹ کرنا ہو گی تاکہ آپ کا ویکٹر تبدیل نہ ہو( نیچے تصویر پ دیکھیں)۔ ویکٹر کو اس طرح ایک جگہ سے دوسری جگہ لے کر جانا پیرالل ٹرانسپورٹ کہلاتا ہے اور اس ایڈجسٹمنٹ کو ریاضی کی زبان میں کرسٹوفر سمبلز یا ایفائن کنکشن کہتے ہیں ۔ایفائن کنکشن کی موجودگی آپ کو بتاتی ہے کہ آپ کروی سطح پر ہیں۔ کسی بھی نظام کے لئے ایفائن کنکشن آپ میٹرک ٹینسر کی مدد سے معلوم کر سکتے ہیں۔
آئن سٹائن کی فیلڈ ایکویشنز G=kT (مکمل مساوات نیچے دی گئی ہے مساوات نمبر 1) ڈبل انڈیکس ٹینسر ز پر مشتمل ہے۔ آسانی کے لیے یہ سمجھ لیں کہ اس مساوات میں G جسے آئن سٹائن ٹینسر کہا جاتا اور T جسے سٹریس انرجی ٹینسر یا مومینٹم انرجی ٹینسر کہا جاتا ہے دونوں 4×4 قالب ہیں۔ اس طرح اوپر دی گئی مساوات ایک نہیں بلکہ دس مساواتیں ہیں۔ان مساواتوں کو بیک وقت حل کیا جانا ضروری ہے۔ دوسرے الفاظ میں اگر ہمیں سٹریس انرجی ٹینسر اور آئن سٹائن ٹینسر کی مکمل معلومات ہوں تو ہم ان مساواتوں کے حل کی طرف جا سکتے ہیں لیکن یہاں مسلہ یہ ہے کہ ہمارے پاس نہ ہی سٹریس انرجی ٹینسر کی مکمل معلومات ہیں اور نہ ہی آئن سٹائن ٹینسر کی۔ یاد رہے کہ آئن سٹائن ٹینسر بذات خود ری مین کرویچر ٹینسر اور ری مین سکیلر پر مشتمل ہے ۔ ری مین ٹینسر ایفائن کنکشن کے ایک خاص مجموعے کے برابر ہوتا ہے اور ہم اوپر یہ جان چکے ہیں کہ ایفائن کنکشن کی قیمت میٹرک ٹینسر سے معلوم کی جا سکتی ہے۔ چنانچہ یہ میٹرک ٹینسر ہی ہے جو ہمیں بتاتا ہے کہ سپیس ٹائم میں خم موجود ہے یا نہیں ۔
ان مساواتوں کو تین طریقوں سے حل کرنے کی کوشش کی جا سکتی ہے
نمبر 1
ہم ہٹ اینڈ ٹرائل کےطریقے سے سٹریس انرجی ٹینسر کی مختلف شکلیں ان مساواتوں میں استعمال کر کے میٹرک ٹینسر معلوم کریں جو ہمیں ری مین ٹینسر کی قیمت بتائے جس سے پھر ہم آئن سٹائن ٹینسر کی قیمت معلوم کریں اور پھر ان مساواتوں کو حل کریں۔
نمبر 2
ہم ہٹ اینڈ ٹرائل کے طریقے سے میٹرک ٹینسر آئن سٹائن فیلڈ مساواتوں میں رکھ کر سٹریس انرجی ٹینسر کی قیمت معلوم کریں اور پھر ان مساواتوں کو حل کریں مگر اس طریقے کے مطابق سٹریس انرجی ٹینسر کی ملنے والی قیمت کائنات کی طبعی حالتوں کے لئے استعمال نہیں کی جا سکتی اس لئے یہ طریقہ اتنا مدد گار ثابت نہیں ہوتا۔
نمبر 3
ایک طریقہ یہ ہے کہ جتنی معلومات سٹریس انرجی ٹینسر کی ہیں وہ استعمال کی جائیں اور جتنی معلومات میٹرک ٹینسر کی ہیں انکو استعمال کر کے آئن سٹائن فیلڈ مساواتوں کو حل کیا جائے۔
شوارزشلڈ (Schwarzschild ) نے پہلا طریقہ استعمال کرتے ہوئے کمیت والے ایک ساکن جسم کے لئے سٹریس انرجی ٹینسر اخذ کیا جسے آئن سٹائن فیلڈ مساواتوں میں استعمال کر کے میٹرک ٹینسر معلوم کیا۔یہاں یہ یاد رکھیں کہ جب ساکن کا لفظ نظریہ اضافیت میں استعمال کیا جا رہا ہے تو اس سے زمان اور مکان دونوں میں رکا ہونا مراد ہے۔ کچھ عرصے بعد برکوف نے ریاضیاتی طور پر یہ ثابت کیا کہ شوارزشلڈ (Schwarzschild ) کے معلوم کیے گئے آئن سٹائن فیلڈ مساواتوں کے حل زمان و مکان میں حرکت کرتے اجسام کے لئے بھی استعمال کئے جا سکتے ہیں ۔ ادھر ایک اہم شرط یہ ہے کہ آئن سٹائن کی مساواتوں کا یہ حل صرف اسی صورت میں کام دے گا جہاں توانائی مکان میں قید ہو ۔ دوسرے الفاظ میں یہ صورت حال صرف کمیت والے اجسام کے لیے ممکن ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ بغیر کمیت کے ذرات یعنی شعاعوں کے لئے صورتحال کیا ہو گی۔ یہاں ایک آسانی یہ ہے کہ بغیر کمیت والے ذرات(شعاعوں ) کا سٹریس انرجی ٹینسر میکس ویل فیلڈ سٹرینتھ ٹینسر (نیچے مساوات نمبر 2 ملاحظہ کریں) کو استعمال کرتے ہوئےمعلوم کیا جا سکتا ہے۔ جس کے بعد ہم میٹرک ٹینسر معلوم کر سکتے ہیں۔ اگرچہ ریاضی ہمیں ایسا کرنے کی اجازت دیتا ہے مگر فزکس ہمیں اس چیز کی اجازت نہیں دیتی۔ اور ایسا کرنے میں قباحت یہ ہے کہ اگر میکس ویل فیلڈ سٹرینتھ ٹینسر سے حاصل کئے گئے سٹریس انرجی ٹینسر میں کرویچر (خمیدگی ) آ جائے تو الیکٹرومیگنیٹک چارج کی مقدار مستقل نہیں رہتی یعنی کائنات کا ایک بہت اہم اصول قانون بقائے چارج ٹوٹ جاتا ہے۔ اسی لئے ہم کہتے ہیں کہ روشنی سپیس ٹائم میں خم یعنی گریویٹی کا باعث نہیں بن سکتی۔ یہاں یہ بتاتا چلوں کہ سائنسی ادب میں ایسے مفروضہ جات پائے جاتے ہیں جن میں روشنی کو کسی خاص جگہ پر قید کرنے کے بعد اسکے گریویٹیشنل اثرات کی وضاحت کرنے کی کوشش کی گئی ہے ۔ یہ مفروضہ جات ریاضی کے شوقین حضرات کے لئے تو دلچسپی کا باعث ہو سکتے ہیں مگر عملی طور پر ان مفروضہ جات کی افادیت صفر ہے۔
اب سوال کا دوسرا حصہ کہ کیا گریویٹی روشنی پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔
کچھ شواھد ایسے ہیں جن سے ہمیں لگتا ہے کہ گریویٹی روشنی پر اثرانداز ہو رہی ہے۔ اس ضمن میں پہلا مشاھدہ گریویٹیشنل پوٹینشل میں فوٹانز کی فریکونسی کا کم ہونا ہے۔ اس مشاھدے کی تشریح کچھ لوگ اس طرح کرتے ہیں کہ فوٹانز جب گریویٹی پیدا کرنے والے اجسام سے دور جا رہے ہوتے ہیں تو کشش ثقل سے نمٹے نمٹے ان کی توانائی میں کمی ہوتی جاتی ہے جس کے نتیجےمیں ان کی فریکوئنسی میں کمی واقع ہوتی ہے۔بدقسمتی سے یہ تشریح نہ صرف پاپولر سائنس میں موجود ہے بلکہ فزکس کی کچھ کتابوں میں بھی اس مشاھدے کی وضاحت کے لئے یہی تصور اپنایا جاتا ہے ۔ اس تشریح سے یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ فوٹانز کا گریویٹیشنل فیلڈ میں توانائی کھو دینا یہ ظاہرکرتا ہےکہ فوٹان گریویٹشنل تعاملات میں حصہ لیتے ہیں۔ لیکن حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ اس میں تو شک نہیں کہ فوٹانز کی فریکوئنسی گریویٹیشنل پوٹینشل میں کم ہوتی ہے مگر اس کمی کی وضاحت کے لئے صحیح نکتہ نظر یہ ہے کہ گریویٹی پیدا کرنے والے جسم سے زیادہ فاصلے پر گھڑیوں کی فریکوئنسی زیادہ ہو جاتی ہے ۔ یاد رہے کہ یہاں گھڑیوں سے مراد اٹامک کلاک ہیں جن میں وقت ناپنے کے لئے نیوکلئس کے ارتعاش کا سہارا لیا جاتا ہے ۔زیادہ فاصلے پر یہ ارتعاش تیز ہو جاتا ہے مگر فوٹان کی فریکوئنسی تبدیل نہیں ہوتی اس طرح فوٹان کی فریکوئنسی میں جو کمی نظر آرہی ہے وہ اٹامک کلاک کے لحاظ سے ہے۔
دوسرا مشاھدہ جو اس غلط فہمی کا باعث بنتا ہے کہ روشنی گریویٹیشنل فیلڈ کے ساتھ تعامل کرتی ہے وہ روشنی کے راستے کا خمدار ہو جانا ہے۔ آئن سٹائن نے یہ پیش گوئی کی تھی کہ اگر اس کا پیش کردہ نظریہ اضافیت عمومی ٹھیک ہے تو سورج کے پاس سے گزرتے ہوئے روشنی کے راستےمیں ایک اعشاریہ سات سیکنڈز کا خم پیدا ہو گا۔ یاد رہے کہ زاویے کا ایک سیکنڈ ایک ڈگری کے چھتیس سوویں حصے کے برابر ہوتا ہے چنانچہ یہ زاویہ صرف 0.00047 ڈگری بنتا ہے۔اس خم کی تقریبا آدھی مقدار یعنی صفر اعشاریہ آٹھ سیکنڈ سورج کے پاس سے گزرتے ہوئے روشنی کے میڈیم میں تبدیلی کی وجہ سے ہے اور آدھی مقدار سورج کی گریویٹیشنل فیلڈ کی وجہ سے۔اور اس مشاھدے کی وضاحت یہ ہے سورج کی کمیت کی وجہ سے اسکے گرد موجود جگہ میں خمیدگی پیدا ہو چکی ہے روشنی تو بالکل سیدھی لائن میں ہی گزر رہی ہے مگر یہ سیدھی لائن خم زدہ جگہ ہو چکی ہے۔ چنانچہ روشنی کے راستے کا خم روشنی کے گریویٹی کے ساتھ تعامل کی دلیل نہیں ۔
لگے ہاتھوں ایک اور غلط فہمی کا ازالہ کرتا چلوں کہ کچھ لوگ زاویے کی آدھی مقدار (جو میڈیم میں تبدیلی کی وجہ سے آتی ہے) کا حساب کتاب نیوٹن کے قوانین حرکت کو استعمال کرتے ہوئے لگانے کی کوشش کرتے ہیں مگر اس حساب کتاب کے لئے نیوٹن کے قوانین حرکت نہیں بلکہ روشنی(آپٹکس) کے قوانین استعمال کئے جاتے ہیں ۔
آخری بات کہ اگر قانون بقائے چارج کا وجود خطرے میں نہ پڑ رہا ہوتا تو ہم تو سٹریس انرجی ٹینسر میں ویک فیلڈ سٹرینتھ ٹینسر اور سٹرونگ فیلڈ سٹرینتھ ٹینسر متعارف کروا کر ایک ایسی مساوات لکھ سکتے تھےجو پوری کائنات کو بیان کر سکے۔ بدقسمتی سے آئن سٹائن کا پوری کائنات کو ایک مساوات میں بیان کرنے کا خواب ، خواب ہی رہا۔

https://www.facebook.com/ilmkijustju/

https://www.facebook.com/groups/AutoPrince/

اس مضمون پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں