71

کھاد کی انجینرنگ ۔ ایجادات کی کہانی – وہارا امباکر

کھاد کا پہلا کارخانہ انجنیرنگ کا شاہکار تھا۔ اس کو بنانا کسی عام ادارے کے بس کی بات ہی نہیں تھی۔ نائیٹروجن کو ہوا سے الگ کرنے کے لئے دنیا کا طاقتور ترین ریفریجریشن کا پراسس جو ہوا کو مائع بنا دے۔ پھر اس کو منفی تیس سو بیس ڈگری فارن ہائیٹ پر ابال کر نائیٹروجن الگ کرنا۔ دوسرا مسئلہ اس ری ایکشن کو کرنے کے لئے کیٹیلسٹ ڈھونڈنے کا تھا۔ اس کے لئے بہترین کیٹیلسٹ آسمیم تھا لیکن بہت مہنگا تھا۔ یہ کیسے کسی سستے طریقے سے ہو؟ اس پر بیس ہزار مختلف چیزوں پر تجربات کر کے، ہر قسم کی چیز کو آزما کر بالآخر ایلومینیم آکسائیڈ اور کیلشیم ملا لوہا ڈھونڈا گیا۔ بڑا مسئلہ ابھی رہتا تھا جو پریشر کا تھا۔ اس عمل کو اس قدر زیادہ درجہ حرارت پر ہونا تھا جہاں پر لوہا سرخ ہو جاتا ہے اور اتنے پریشر پر جو سٹیم انجن کے پریشر سے بیس گنا زیادہ ہوتا ہے۔ انجنیرنگ کی کمپنی نے ہاتھ کھڑے کر دئے۔ یہ بنانا ممکن نہیں۔


بوش نے اس کے لئے فوج کے لئے اسلحہ بنانے والے ادارے کا رخ کیا۔ یہ آٹھ فٹ اونچی بگ برتھا توپ بنانے والا کارخانہ تھا۔ جرمنی کا خاص ہتھیار اور اس وقت کے ہتھیاروں میں سب سے جدید اور مشکل انجنیرنگ اس شاندار توپ کی تھی۔ کنکریٹ اور فولاد کی موٹی چادروں سے بنا ان کا ویسل بڑے دھماکے سے تیسرے روز ہی پھٹ گیا۔ بوش کی ٹیم رکنے والی نہیں تھی۔ نئے والو ایجاد کئے گئے، نئے پمپ، نئی سیلز۔ اس نئی انجینرنگ کے ساتھ ساتھ بوش نے سائنس کا نیا طریقے بھی متعارف کروایا۔ اسمبلی لائن کی سائنس جو الگ الگ ٹیموں کے ذریعے کی جائے۔ مین ہٹن پراجیکٹ میں بھی یہی طریقہ استعمال ہوا۔ اور مین ہٹن پراجیکٹ کی طرح امونیا بنانے کے لئے تیزرفتاری سے حیران کن نتائج حاصل کئے۔

بے اے ایس ایف کا امونیا ڈویژن بن چکا تھا۔ جرمنی میں اوپو شہر کے قریب دنیا کی سب سے بڑی فیکٹری بن گئی تھی۔ میلوں لمبے پائپ اور تاریں۔ بڑے بنگلوں کے سائز کے بڑے فریزر جو گیس کو مائع کر دیں۔ اس کی اپنی ٹرین کی پٹڑی تھی جہاں سے خام مال آتا تھا۔ اس کا دوسرا سٹیشن فیکٹری میں کام کرنے والے دس ہزار ملازمین کے لئے تھا۔ لیکن سب سے حیران کن: یہ سب کام کرتا تھا۔ بوش امونیا بنانے میں کامیاب ہو گئے تھے۔ چند سال میں اس کی پروڈکشن دگنی ہو گئی۔ پھر کچھ عرصے بعد مزید دگنی۔ منافع اس سے زیادہ تیزی سے بڑھ رہا تھا۔ ہیبر کی دریافت کو بوش انجنیرنگ کے ذریعے قابلِ عمل بنا چکے تھے۔

اپنی کامیابی کے بعد بوش رکے نہیں۔ بے اے ایس ایف نے اس سے بھی بڑا پلانٹ لیونا شہر میں لگایا۔ زیادہ بڑے سٹیل کے ویٹ، زیادہ لمبے پائپ اور تاریں، زیادہ مزدور۔ دو میل لمبا اور ایک میل چوڑا یہ پلانٹ دوسرا کارخانہ تھا۔ ایک شہر جتنی بڑی مشین۔

مصنوعی کھاد کی صنعت کا آغاز ہو چکا تھا اور یہ پھر رکا نہیں۔ انسان نے ہوا کو روٹی میں ڈالنے کا طریقہ ڈھونڈ لیا تھا۔

اس وقت دنیا کی توانائی کا ایک فیصد صرف اس ایک ری ایکشن پر استعمال کیا جاتا ہے۔ سترہ کروڑ پچاس لاکھ ٹن سالانہ کھاد اس طریقے سے بنتی ہے۔ آپ کے جسم میں ڈی این اے کی اور پروٹینز کا نصف حصہ اسی طریقے سے بنا ہے۔

اس مضمون پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں