198

کووڈ 19 ۔ سوال جواب

کرونا وائرس کیا ہے؟
تحریر وہارا امباکر
کرونا وائرس ایک بڑی فیملی ہے جو جانوروں اور انسانوں کو متاثر کرتی ہے۔ انسانوں میں کرونا وائرس سانس کی انفیکشن پیدا کرتے ہیں جس میں عام نزلے سے لے کر زیادہ شدت والی بیماریاں جیسا کہ مڈل ایسٹ ریسپائریٹری سنڈورم اور سارس جیسے مرض شامل ہیں۔ ان میں سے سب سے نیا دریافت شدہ کرونا وائرس جو بیماری پیدا کرتا ہے وہ کووڈ 19 ہے۔

بیماری کی علامات کیا ہیں؟
سب سے عام علامات بخار، تھکن اور خشک کھانسی ہے۔ کچھ مریضوں میں ناک بند ہونا، گلے کی خرابی، جسم میں تکلیف اور پیٹ کی خرابی بھی ہو سکتی ہے۔ یہ علامات آہستہ آہستہ شروع ہوتی ہیں۔ کئی لوگ ایسے ہیں جو اس کا شکار ہوتے ہیں لیکن کوئی علامت ظاہر نہیں ہوتی۔ زیادہ تر لوگوں کو (تقریباً اسی فیصد) کسی میڈیکل توجہ کی ضرورت نہیں پڑتی۔ چھ میں سے ایک مریض کو سنجیدہ علامات ہوتی ہیں اور سانس میں تکلیف ہوتی ہے۔ خاص طور پر زیادہ عمر والے افراد، جنہیں دوسرے میڈیکل مسائل ہیں ۔ جیسا کہ ہائی بلڈ پریشر، دل کے امراض اور ذیابیطس ۔ وہ اس سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔

یہ پھیلتا کیسے ہے؟
دوسرے لوگوں سے جنہیں یہ وائرس ہے۔ منہ اور ناک سے نکلنے والے ذرات سے جو ان کے آس پاس کی چیزوں پر جمع ہو جاتے ہیں۔ اگر کسی شخص کو علامات نہیں تو اس سے وائرس حاصل کرنے کا امکان بہت کم ہے کیونکہ اس میں مریض کھانستا یا چھینکتا نہیں۔ لیکن کئی لوگوں کو بیماری کی ابتدائی سٹیج میں معمولی علامات ہو سکتی ہیں۔ اس سے وائرس کا پھیلنا ممکن ہے۔

کرنا کیا چاہیے؟
ہاتھ کو صابن اور پانی سے باقاعدگی سے صاف کرتے رہیں۔ الکوحل رب سے یا صابن اور پانی سے ہاتھ صاف کرنے سے ہاتھوں پر جمع ہونے والا وائرس ہٹ جاتا ہے۔

کوئی بھی شخص اگر کھانس رہا ہے یا چھینک رہا ہے تو اس سے تین فٹ کا فاصلہ رکھیں۔ اس سے ناک یا منہ سے چھوٹے سے قطرے ہوا میں پھیل جاتے ہیں جن میں وائرس موجود ہو سکتا ہے۔ اگر آپ اس شخص کے زیادہ قریب ہیں تو یہ براہِ راست آپ کے سانس کے ذریعے جسم میں جا سکتے ہیں۔

آنکھ، منہ اور ناک کو چھونے سے احتراز کریں۔ ہم چھونے کے لئے ہاتھوں کا استعمال کرتے ہیں۔ چہرے پر لے جانے سے ہاتھوں پر لگے ذرات کے جسم میں داخل ہونے کا احتمال ہوتا ہے۔

کھانسنے اور چھینکنے کے آداب پر عمل کریں اور دوسروں کو سکھائیں۔ کھانستے اور چھینکتے وقت منہ کو اپنی کہنی سے ڈھانپ لیں۔ اس سے قطرے ہوا میں نہیں پھیلیں گے۔

طبیعت خراب ہونے کی صورت میں گھر سے بالکل باہر نہ نکلیں۔

مجھے کس قدر تشویش کی ضرورت ہے؟
اگرچہ بیماری عام طور پر زیادہ سنجیدہ نہیں ہوتی، خاص طور پر بچوں اور نوجوانوں میں۔ لیکن ہر پانچ میں سے ایک کو میڈیکل توجہ کی ضرورت پڑتی ہے۔ اس لئے اس بارے میں تشویش نارمل ہے کہ بیماری انہیں اور ان کے عزیزوں کو متاثر کر سکتی ہے۔ اس تشویش کو ہم احتیاط کرنے اور دوسروں کو اس کی ترغیب دینے کے لئے استعمال کر سکتے ہیں۔ ہاتھوں کی صفائی اور کھانسنے اور چھینکنے کے آداب کے بارے میں۔ اور مقامی حکومت کی لگائی گئی اجتماعات پر پابندی کا احترام کرنے میں۔

کیا اینٹی بائیوٹک کے استمعال سے اس سے بچا جا سکتا ہے یا محفوظ رہا جا سکتا ہے؟
بالکل بھی نہیں۔ خاص طور پر اگر آپ کو کووڈ 19 ہے تو اینٹی بائیوٹک کوئی فائدہ نہیں دے گی (یہ بیماری وائرل ہے، بیکٹیریا کی نہیں)۔ نقصان کا امکان ہے کیونکہ یہ دفاعی نظام پر اثرانداز ہو سکتی ہے۔

کیا کوئی بھی ادویات اس سے بچا سکتی ہیں یا محفوظ رکھ سکتی ہیں؟
کچھ گھریلو ٹوٹکے کچھ دیر کے لئے سکون پہنچا سکتے ہوں گے۔ لیکن اس کے علاج کا کوئی بھی روایتی یا غیرروایتی طریقہ ابھی معلوم نہیں۔

کیا کوئی ویکسین دستیاب ہے؟
نہیں۔ اس پر کام کیا جا رہا ہے۔ ٹیسٹنگ کی جا رہی ہے لیکن اس وقت کوئی بھی ویکسین دستیاب نہیں۔ اس کے ملنے کا کوئی ٹائم ٹیبل نہیں کہ آیا ممکن ہو سکے گا اور اگر ہاں تو کب تک۔

کیا مجھے ماسک پہن کر رکھنا چاہیے؟
اگر آپ کھانس رہے ہیں یا کسی مریض کی تیمارداری کر رہے ہیں تو پھر ماسک پہننے کی ضرورت ہے ورنہ نہیں۔

وائرس کے جسم میں داخل ہونے سے علامات ظاہر ہونے تک کا وقفہ کتنی دیر کا ہے؟
یہ وقفہ انکوبیشن پیرئیڈ کہلاتا ہے۔ اس کا تخمینہ ایک سے چودہ روز کے بیچ کا ہے۔ عام طور پر یہ پانچ روز ہے۔ جس طرح ڈیٹا حاصل ہوتا جائے گا، اس کو اپڈیٹ کئے جاتا رہے گا۔

کیا کوئی ایسی چیز ہے جو مجھے نہیں کرنی چاہیے؟
جو چیزیں ممکنہ طور پر زیادہ نقصان دہ ہو سکتی ہیں؛
سگریٹ نوشی
اینٹی بائیوٹک کا استعمال

اس مضمون پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں