18

کوانٹم میکینکس: الیکٹران نیوکلئیس کے گرد “محدود” آربٹس میں کیوں اور کیسے ہوتے ہیں؟ رضاالحسن

اس آرٹیکل میں نیل بوہر کے ایٹمی ماڈل کے ایک انتہائی اہم اور دلچسب پہلو پر بات ہو گی۔ جسے الیکٹران ویو کی کوانٹائزیشن

“Quantization of Electron Wave”
کہتے ہیں۔ اور ہم سمجھیں گے کہ نیوکلئیس کے گرد الیکٹرانز کے آربٹ “کوانٹائزڈ” کیسے ہوتے ہیں۔

اس کے لئے پہلے ردرفورڈ کے ایٹمی ماڈل اور اس میں موجود نقائص اور پھر بوہر کے ایٹمی ماڈل پر مختصر سی گفتگو کریں گے۔ اور پھر ہم دیکھیں گے کہ جب بوہر کے ایٹمی ماڈل پر “ڈی برائے ہائیپوتھیسس” لاگو کریں تو کیسے “کوانٹائزیشن” ہم پر آشکار ہو جاتی ہے۔

سنہ 1911 کی بات ہے جب ردرفورڈ نے یکے بعد دیگرے کئی تجربات سے پتہ چلایا کہ ایٹم کی زیادہ تر کمیت اس کے مرکز میں مرکوز ہوتی ہے جسے انہوں نے “نیوکلئیس” کا نام دیا۔ جہاں الیکٹران اس مرکز میں موجود نیوکلئیس کے گرد دائروی شکل میں بلکل اُسی طرح چکر لگاتے ہیں جیسے نظامِ شمسی میں سیارے مرکز میں سورج کے گرد کشش ثقل کے زیر اثر دائروی یا بیضوی مداروں میں محوِ گردش ہیں۔ یُوں ردرفورڈ صاحب نے دنیا کو اپنے “پلینیٹری ماڈل آف ایٹم” سے روشناس کرایا۔ اس وقت یہ ایٹم کا ایک بلکل نیا اور بڑا دلچسب ماڈل تھا لیکن اس میں موجود کوتاہیوں اور نقائص کی وجہ سے بہت جلد اسے ردی کی نذر ہونا پڑا۔

مثال کے طور پر برقی طور پر نیوٹرل اور انتہائی بڑے اجسام مثلاً سیاروں کے برعکس، برقی طور پر چارجڈ الیکٹران جب مثبت چارجڈ نیوکلئیس کے گرد گھومتے ہیں تو ان میں لگاتار اسراع پیدا ہوتا ہے۔ میکس ویل کے کلاسیکل الیکٹروڈائنامکس قوانین کے تحت اگر ایک چارجڈ پارٹیکل مسلسل اسراع پذیر ہے تو اسے برقی مقناطیسی ریڈی ایشنز کی شکل میں توانائی کھونی چاہئے۔ اور جوں جوں یہ پارٹیکل توانائی ضائع کرے گا اسے بلاآخر نیوکلئیس میں گر جانا چاہئے۔ اس صورت میں الیکٹران کا نیوکلئیس سے تصادم محض 1/10⁸ سیکنڈ (ایک سیکنڈ کے کروڑویں حصے) کے انتہائی مختصر لمحے میں ہو جانا چاہئے۔ لیکن ایسا ہوتا ہمیں دکھائی نہیں دیتا۔ ہم زیادہ تر عناصر میں ایٹمز کو بڑا مستحکم دیکھتے ہیں۔

ردرفورڈ کے ایٹمی ماڈل میں دوسرا بڑا مسئلہ یہ بھی تھا کہ یہ ماڈل مختلف کیمیائی عناصر کے “ایبزارپشن سپیکٹرا” اور “ایمیشن سپیکٹرا” کی درست وضاحت نہیں کرتا۔ جب کوئی ایٹم برقی مقناطیسی ریڈی ایشنز جذب یا خارج کرتا ہے تو یہ ریڈی ایشنز توانائی کے ایک خاص لیول کا اظہار کرتی ہیں یعنی ان میں توانائی discrete ہوتی ہے، ان سے حاصل ہونے والا سپیکٹرم مسلسل (Continuous) نہیں ہوتا۔
(جیسے تصویر نمبر 1 میں دکھایا گیا ہے)

اگر ہم ردرفورڈ کے ایٹمی ماڈل کو دیکھیں تو یہاں الیکٹران کے کسی بھی آربٹ میں ہونے پر کوئی پابندی نہیں ہے۔ الیکٹران نیوکلئیس کے گرد نظریاتی طور پر لامحدود ممکنہ آربٹس میں ہو سکتا ہے۔ اس نقطہ نظر پر تھوڑا غور فرمائیں تو نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ایسی صورت میں ایبزارپشن اور ایمیشن سپیکٹرا ہمیشہ ایک Continuous Spectra ہی ہو گا جبکہ ایسا نہیں ہوتا۔ ہم اچھی طرح جانتے ہیں کہ ہر عنصر کا سپیکٹرا الگ اور discrete ہوتا ہے۔

ردرفورڈ کے ایٹمی ماڈل میں موجود ان خامیوں کو دور کرنے کی ہمت نیل بوہر نے کی۔ اور اس کوشش کو ہم “بوہر کے ایٹمی ماڈل” سے جانتے ہیں۔ نیل بوہر نے اپنے ماڈل میں دو اہم پاسچولیٹ شامل کئے۔

ایک تو یہ کہ الیکٹران نیوکلئیس کے گرد دائروی مداروں میں گھومتے ہیں۔ یہ خیال یقیناً انہوں نے ردرفورڈ سے ہی ادھار لیا۔

دوسرا پاسچولیٹ یہ تھا کہ ردرفورڈ ماڈل کے برعکس الیکٹران نیوکلئیس کے گرد محدود آربٹس میں ہی ہو سکتے ہیں اور ان آربٹس کی بوہر کی جانب سے بتائی گئی حد کو ہم “کوانٹائزیشن پرنسپل”
Quantization Principle
کے نام سے جانتے ہیں۔ جس کے مطابق نیوکلئیس کے گرد الیکٹران کے لئے صرف وہی آربٹ قابلِ قبول ہو سکتے ہیں جہاں الیکٹران کا اینگولر مومینٹم “پلانک کانسٹینٹ اور 2π کی نسبت” کے integral multiple ہو گا۔ اسکی مساوات کچھ یوں بنتی ہے:

(L = n(h/2π

جہاں L الیکٹران کا اینگولر مومینٹم اور h پلانک کانسٹینٹ ہے۔ ان کا مزید یہ کہنا تھا کہ الیکٹران ایسے آربٹ میں رہ کر نیوکلئیس کے گرد گھومنے کے دوران توانائی بھی خارج نہیں کرے گا۔ ایبزارپشن اور ایمیشن سپیکٹرا کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ جب الیکٹران ایک چھوٹے انرجی لیول کے آربٹ سے بڑے انرجی لیول کے آربٹ کی طرف جائے گا تو اس دوران توانائی جذب یا خارج کرے گا۔ یہ خارج اور جذب شدہ توانائی برقی مقناطیسی ریڈی ایشنز کی شکل میں ہو گی اور یہ توانائی دونوں آربٹس کی توانائی کے فرق کے عین برابر ہو گی۔ یہ بلاشبہہ ایبزارپشن اور ایمیشن سپیکٹرا کی ایک بہترین وضاحت تھی۔

اس سے پہلے کہ ہم الیکٹران ویو کی کوانٹائزیشن پر آئیں۔ پہلے ایک چھوٹی سی مثال لیتے ہیں۔ ہمارے پاس گراؤنڈ سٹیٹ میں ہائیڈروجن کا ایک ایٹم موجود ہے۔ ایٹم کے پلینیٹری ماڈل کے مطابق الیکٹران نیوکلئیس کے گرد ایک دائروی حرکت سے گھوم رہا ہے۔ اس آربٹ کے مستحکم ہونے کی شرط یہ ہو گی یہاں کولمبک فورس اور سینٹری پیٹل فورس دونوں برابر ہوں، یعنی کچھ یوں:

F(e) = F (c)

1/4πε₀ . e²/r² = mv²/r

یہاں الیکٹران اور پروٹان کے بیچ کولمب فورس ایک سینٹری پیٹل فورس مہیا کر رہی ہے اور الیکٹران ایک مدار میں گھوم رہا ہے۔

یہاں (e) الیکٹرک چارج، (r) اس آربٹ کا رداس، (v) الیکٹران کی آربٹل ولاسٹی، (ε₀) فری اسپیس (ویکیوم) کی پرمیٹیویٹی، اور (m) الیکٹران کا ماس ہے۔

اس مساوات کو حل کر کے ہم الیکٹران کی ولاسٹی نکال سکتے ہیں۔ ہمیں ولاسٹی کیوں چاہئے یہ ہم تھوڑی دیر میں دیکھیں گے۔

1/4πε₀ . e²/r² = mv²/r

1/4πε₀ . e²/r = mv²

mv² = e²/4πε₀r

v² = e²/4πε₀rm

(v = e/√(4πε₀rm

اب بڑا دلچسب مرحلہ آنے لگا ہے۔ اب ہم اس پر “ڈی برائے ہائیپوتھیسس” لاگو کرنے جا رہے ہیں۔ لیکن پہلے ڈی برائے ہائیپوتھیسس کی مختصر وضاحت کر لیں۔

ڈی برائے صاحب نے فرمایا تھا کہ اگر ایک پارٹیکل کسی خاص ولاسٹی سے حرکت کر رہا ہے تو اس پارٹیکل کی حرکت کے ساتھ ایک لہر (wave) منسلک ہوتی ہے۔ ایسی لہر کو “Matter Wave” کہتے ہیں۔ اگر ایسا ہے تو جو الیکٹران نیوکلئیس کے گرد گھوم رہا ہے اسکی بھی ایک لہر ہونی چاہئے۔ ڈی برائے نے کہا تھا کہ پارٹیکل کی ایسی لہر کی طول موج (Wavelength) اس پارٹیکل کے مومینٹم کے معکوس متناسب ہو گی۔

ڈی برائے کی مساوات کچھ یوں ہے:

p = mv = h/λ
(λ = h/mv …….. (Eq.1

چلیں ڈی برائے ہائیپوتھیسس لگاتے ہیں اور دیکھتے ہیں ہمیں کیا ملتا ہے۔ اوپر ہم نے الیکٹران کی آربٹل ولاسٹی نکالی تھی اسے اگر ڈی برائے کی مساوات میں لگاتے ہیں۔

(v = e/√(4πε₀rm
λ = h/mv
اوپر والی مساوات سے (v) کی قیمت نیچے والی مساوات میں لگانے سے:

λ = h/m . √(4πε₀rm)/e
(λ = h/e . √(4πε₀r/m) …. (Eq.2

اب ہمارے پاس الیکٹران کی نیوکلئیس کے گرد حرکت کے دوران اسکی ویو لینگتھ کی مساوات آ گئی ہے۔ اس مساوات میں زیادہ تر تو کانسٹینٹس ہی شامل ہیں۔
ہم چونکہ ہائیڈروجن ایٹم کی مثال لے رہے ہیں تو ہمیں پتا ہے کہ ہائیڈروجن ایٹم کا آربٹ ریڈیس 0.53 اینگسڑام ہوتا ہے۔

r = 0.53 A⁰ ⁼ 5.3×10⁻¹¹ m

اب یہ سارے کانسٹینٹس کی قیمتیں مساوات نمبر 2 میں لگا دیں تو ہمارے پاس اس الیکٹران کی ویو لینگتھ کی قیمت کچھ یہ نکلتی ہے۔

λ = 33.27×10⁻¹¹ m

الیکٹران کی ویو لینگتھ کی اس قیمت کے متعلق ایک بڑی خاص اور دلچسب بات ہے۔ وہ یہ کہ جب آپ اس قیمت کو ہائیڈروجن کے آربٹل ریڈیس کو دوگنا کر کے تقسیم کرتے ہیں تو معاملہ کچھ یوں ہوتا ہے:

33.27×10⁻¹¹/2(5.3×10⁻¹¹)=3.14

یہاں ہم نے جب الیکٹران کی ویو لینگتھ کو آربٹل ریڈیس کے دو گنا سے تقسیم کیا تو جو نمبر ہمیں حاصل ہو رہا ہے یہ بڑا جانا پہچانا سا نمبر ہے۔ جی بلکل یہ π کی ہی قیمت ہے۔
اسکا مطلب کیا ہوا؟ اس کا مطلب یہ ہوا کہ اگر ایسا ہے تو ہم الیکٹران کی ویو لینگتھ کی قیمت کو یوں بھی لکھ سکتے ہیں۔

λ = 33.27×10⁻¹¹ m

λ = 33.27×10⁻¹¹ = 2πr

λ = 2πr
جہاں r کی قیمت 5.3×10⁻¹¹ میٹر ہے۔

اب یہاں ہم پر حیرت کا ایک پہاڑ ٹوٹ پڑتا ہے کہ الیکٹران کی ویو لینگتھ 2πr کے برابر آ رہی ہے جو ایک دائرے کا محیط ہوتا ہے۔ اس پر سوچیں ذرا۔ یہ بڑی دلچسب بات ہے کہ الیکٹران نیوکلئیس کے گرد گھوم رہا ہے، اس کے ساتھ ایک لہر منسلک ہے اور اس لہر کی ویو لینگتھ اس آربٹ کے محیط کے برابر ہے۔

اس بات کو تھوڑا اور آگے بڑھائیں تو مطلب یہ بھی نکلتا ہے کہ ہائیڈروجن ایٹم میں الیکٹران کا آربٹ ایک مکمل لہر کے مساوی ہے جو اپنے آپ سے ہی جڑی ہوئی ہے۔ یعنی الیکٹران کی لہر ایک مکمل “ساکن موج Standing Wave” کا پیٹرن بنا رہی ہے۔

کیا یہ محض اتفاق ہے؟ یا کہانی میں ابھی کچھ باقی ہے؟

چلیں ابھی بوہر کے خود کے دئیے “کوانٹائزیشن پرنسپل” کو دیکھتے ہیں۔ ہم نے اوپر بھی ذکر کیا کہ بوہر نے اپنا ایٹمی ماڈل دیتے وقت دوسرا اہم پاسچولیٹ یہ دیا تھا کہ نیوکلئیس کے گرد الیکٹران محدود آربٹس میں ہی ہو سکتے ہیں جہاں یہ شرط پوری ہونی چاہئے:

(L = n (h/2π

الیکٹران کی نیوکلئیس کے گرد دائروی حرکت کے دوران اینگولر مومینٹم کچھ یوں ہوتا ہے:

L = mvr
تو ہم اسے یوں لکھ سکتے ہیں:

(mvr = n (h/2π

مساوات کو تھوڑا rearrange کریں تو:

(2πr = n (h/mv

اس مساوات میں (h/mv) دراصل کسی حرکت کرتے پارٹیکل کی ویو لینگتھ ہی تو ہے جو ڈی برائے صاحب نے دی تھی (مساوات نمبر 1 دیکھیں)۔
اب اس مساوات کی شکل یوں ہو جاتی ہے:

2πr = n λ

یعنی اس آربٹ کا محیط جس میں پارٹیکل حرکت کر رہا ہے یہ اس پارٹیکل کی لہر کی ویو لینگتھ کے integral multiple کے برابر ہو گا۔

اس خیال کو بنیاد بنا کر ہم ایک اور اہم بات سمجھ سکتے ہیں کہ ایسا کیوں ہوتا ہے کہ الیکٹران کو نیوکلئیس کے گرد کچھ آربٹس کی تو اجازت ہوتی ہے اور کچھ کی نہیں۔

آپ اگر ایک رسی پر بنی “ساکن موج” کا تصور کریں تو پتا چلتا ہے کہ یہاں رسی کی لمبائی بھی اسکی ویو لینگتھ کے integral multiple ہی ہے۔ اگر اس رسی کے دو پوانٹس کو آپس میں ملا دیں اور ایک لُوپ(Loop) بنا دیں تو ہمارے پاس یہ جاننے کے لئے ایک بہترین تصور ہو گا کہ نیوکلئیس کے گرد الیکٹران بھی کچھ ایسا ہی منظر پیش کر رہے ہوتے ہیں۔

یہیں سے ایک اور اہم پہلو دیکھتے ہیں کہ اگر ہم اس لُوپ کے گرد ویو لینگتھ کا کوئی fractional نمبر رکھ دیں تو لامحالہ ہمارے پاس destructive interference آئے گی یعنی ایسی صورت میں بننے والی لہر لُوپ کے گرد سفر کر کے واپس اس نقطے پر نہیں ملے گی جہاں سے اس نے سفر کا آغاز کیا تھا۔ اور یوں یہ لہر تیزی سے ختم ہو جاتی ہے۔ اور ہمیں نتیجتاً یہاں کوئی آربٹ نہیں مل سکتا۔ یہ بڑا باریک اور اہم نقطہ ہے لہذا یہ بڑا غور طلب ہے۔

دوسری صورت میں جہاں الیکٹران لہر کی ویو لینگتھ ایک integral multiple ہوتی ہے تو یہ نیوکلئیس کے گرد گھوم کر واپس اسی جگہ آ کر ملتی ہے جہاں سے یہ شروع ہوئی تھی لہذا ہمیں یہاں constructive interference دیکھنے کو ملتی ہے اور یوں یہ لہر ختم نہیں ہوتی اور نیوکلئیس کے گرد چکر لگاتی رہتی ہے، گویا یہاں اسے ایک آربٹ میسر آ گیا ہے۔ (تصویر نمبر 2 ملاحظہ کریں)۔

اب آپ کو واضح ہو چُکا ہو گا کہ جیسے ہی ہم بوہر کی کوانٹائزیشن پر ڈی برائے ہائیپوتھیسس کا اطلاق کرتے ہیں تو یہ ایک نئی شکل لے لیتی ہے۔ اور ہمیں ایک نیا کوانٹائزیشن پرنسپل حاصل ہوتا ہے۔ جو اوپر نکالی مساوات کی شکل میں ہے:

2πrₙ = n λ

جہاں n کی کوئی بھی قیمت ہو سکتی ہے:
……….n = 1,2,3,4

اب چند لائنوں میں اس پوری کہانی کو قید کریں تو یوں بنے گی کہ:

ہر ایٹم میں discrete انرجی لیولز اور محدود آربٹس ہوتے ہیں جہاں الیکٹران کی لہر کی ویو لینگتھ کچھ یُوں بنتی ہے کہ یہ لہر نیوکلئیس کے گرد گھومتی ہے اور واپس آ کر اسی نقطے پر ملتی ہے جہاں سے یہ شروع ہوئی تھی۔ اور یوں ہمیں کنسٹرکٹو انٹرفئیرینس حاصل ہوتی ہے اور الیکٹران کا ایک آربٹ ملتا ہے۔

کوئی دوسرا آربٹ جہاں آربٹ کا محیط، ویو لینگتھ کے integral کی بجائے fractional ملٹی پل ہوتا ہے وہاں ہمیں ڈِسٹرکٹو انٹرفئیرینس ملتی ہے اور یوں یہاں کوئی آربٹ موجود نہیں ہو سکتا۔

لہذا اگلی دفعہ جب آپ ایٹم کے سٹرکچر کا سوچیں تو “تصویر نمبر 3” کو ذہن میں بٹھا لیں کہ ایٹم کا سٹرکچر کُچھ ایسا ہو گا۔

اس مضمون پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں