10

ڈننگ کروگر اثر 🌀 Dunning-Kruger effect تحریر سلمان رضا اصغر

ڈننگ کروگر اثر 🌀 Dunning-Kruger effect
تحریر
سلمان رضا اصغر

افلاطون نے سقراط کے اس مقدمے کا حال لکھتے ہوئے جس کے نتیجے میں سقراط کو زہر کا پیالا پینا پڑا اپنے مضمون ”Apology“ سقراط کے الفاظ کچھ اسطرح نقل کیئے ہیں.

”میں اس فرد سے زیادہ عقلمند سے ہوں. , گو کہ ہم دونوں ہی ایسا کچھ ایسا خاص اور زیادہ علم نہیں رکھتے, مگر وہ خیال کرتا ہے کہ وہ سب کچھ جانتا ہے جبکہ وہ کچھ نہیں جانتا جبکہ میں خیال کرتا ہوں کہ میں کچھ نہیں جانتا. اس چھوٹی سی بات سے میں اس سے عقلمند ثابت ہوتا ہوں کیونکہ میں یہ خیال نہیں کرتا کہ میں وہ جانتا ہوں جو میں نہیں جانتا. “

ڈننگ کروگر اثر Dunning-Kruger effect علم نفسیات میں کوگنیٹیو بائس cognitive bias کی ایک ایسی قسم ہے جس میں لوگ یہ خیال بلکہ یقین رکھتے ہیں کہ وہ بہت عقلمند اور بہت با صلاحیت ہیں جبکہ وہ اتنے عقلمند اور با صلاحیت نہیں ہوتے جتنا وہ اپنے بارے میں یقین کرتےاور بھرپور اعتماد رکھتے ہیں.

ویسے , ایسا ہونا لازمی سی بات ہے کیونکہ کم صلاحیت کے حامل افراد میں اپنی خامیوں کو ڈھونڈ پانے اور اس کو ختم کرنے کی صلاحیت نہیں ہوتی. انکی اپنی ذات کے بارے میں یہ خام خیالی اور کم معلومات کو زیادہ سمجھنے کا امتزاج ان کے اندر اپنے بارے میں خود کو سب سے زیادہ عقلمند اور با صلاحیت سمجھنے کی خوش فہمی کو جنم دیتا ہے. چارلس ڈارون اپنی کتاب The Descent of Man, میں لکھتا ہے. ”علم کی نسبت اکثر لا علمی انسان میں بھرپور اعتماد کو جنم دیتی ہے“

اس اہم انسانی نفسیاتی پہلو پر تحقیق اور مختلف تجربات کرکے دو سوشل نفسیات کےماہرین David Dunning and Justin Kruger نے اس کی وضاحت کی اسی وجہ سے یہ ان دونو ں ماہرین کے نام سے منسوب ہے.

اس نفسیاتی پہلو کا عام مشاہدہ و تجربہ, اکثر آپ اپنی زندگی میں ہوگا ہو سکتا ہے. آپ کسی محفل میں ہوں یا کسی عام تعطیل کےدن اپنی تمام فیملی کے ساتھ بیٹھے اہتمام کے ساتھ کھانا کھا رہے ہوں. اس ہی دوران کسی موضوع پر بات چل نکلے تو فیملی کا ایک ممبر اس پر بھرپور طریقے اپنی رائے اور معلومات کا اظہار کرتے ہوئے سب کی رائے کو نا صرف رد کرے گا اور ان کی معلومات کو غیر معقول, ناقص اور غلط کہہ کر صرف اپنی بات کو مستند ٹھرائے گا جبکہ ہو سکتا ہے وہاں موجود لوگوں پر یہ بات واضح ہو کہ وہ خود ہی بلکل غلط معلومات رکھتا ہے اور اسے اندازہ نہیں کہ وہ کس چیز کو کس چیز سے ملا کر بتا رہا ہے. مگر پھر بھی وہ خود کونہ صرف صیح اور دوسروں سے زیادہ عقلمند خیال کرتا ہے اور بہت با اعتماد بھی ہوتا ہے. اسے اپنی کم علمی یا لا علمی کا کوئی ادراک نہیں .

ریسرچرز نے پایا ہے ک نااہل یا کم صلاحیتوں کے حامل افراد نا صرف غیر معیاری کارکردگی دکھاتے ہیں بلکہ ان میں اپنے کئے گئے کام کے معیار کو سمجھنے اور اسکو وہ ٹھیک طریقے سے جانچنے سے بھی قاصر ہوتے ہیں. دوسرے یہ کسی دوسرے کے کام کے معیار یا اسکے ہنر کو نہیں پہچان پاتے. اس وجہ سے یہ خود کو باقی تمام لوگوں سے زیادہ باصلاحیت اور قابل سمجھتے ہیں اور ساتھ ہی یہ نااہل افراد ایک غیر موزوں بھرپور اعتماد سے مالا مال ہوتے ہیں.

بہرحال , کون لوگ اس Dunning-Kruger effect سے متاثر ہوتے ہیں اور اس قسم کا انداز اپناتے ہیں , بد قسمتی سے ہم سب ہی کے ساتھ ایسا ہے کیونکہ ہم جس قدر معلومات و تجربات کے حامل ہوں مگر ہم میں سے ہر ایک کا ہر ایک چیز یا فیلڈ کے بارے میں معلومات رکھنا ممکن نہیں مگر ہم اپنی تھوڑی سی حاصل معلومات کو بھی اس انداز سے لیتے ہیں کہ خود کو اس فیلڈ یا چیز پر ایک ایکسپرٹ سمجھنے لگتے ہیں . جبکہ ہم اپنی نا اہلیت اور نامکمل معلومات کا اندازہ بھی نہیں لگاتے اور بہت پٌر اعتماد ہو کر اپنی رائے کو سب سے برتر اور خود کو عقلمند سمجھتے ہیں .

جب لوگ کسی چیز یا موضوع کو اور زیادہ گہرائی و دلچسپی سے سیکھنے کا آغاز کرتے ہیں تو وہ جان لیتے ہیں کہ انکی معلومات کس قدر محدود اور انکی صلاحیتیں کتنی خام ہیں اس بات کو سمجھ کر وہ مزید اس موضوع پر معلومات حاصل کرتے ہیں اور اپنی صلاحیتوں کو اور بڑھانے کی کوشش کرتے ہیں جوکہ ایک کبھی نہ ختم ہونے والا سلسلہ ہوتا ہے اس سب میں وہ اس موضوع یا کام میں ماہر ہو جاتے ہیں ان کے اندر اعتماد و یقین صیح معنوں میں بہتر ہوتا ہے . ہر ایک خود اپنے آپ کو جانچ سکتا ہے کہ وہ کسی موضوع پر کتنی دسترس رکھتا ہے اگر وہ مسلسل اسموضوع یا کام کو اس کی گہرائی میں جا کر سیکھتا اور اس کی پریکٹس کرتا رہے .

ہDunning-Kruger effect کا کسی دوسرے میں مشاہدہ کرنا یا جان لینا آسان ہے مگر ہمیشہ یاد رکھنا چاہیئے کہ یہ کسی بھی شخص میں ہوسکتا ہے اور اس کو اچھی طرح سمجھ کر آپ خود اپنی ذات میں چھپے اس ایفیکٹ کو ختم کرکے اپنے آپ کو بہتر بناسکتے ہیں .

👣 سلمان رضا

اس مضمون پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں