60

چلو، دنیا تباہ کریں ۔ نمکین ایٹم بم – وہارا امباکر

ایٹم بم انسان کے تیارکردہ خطرناک ترین ہتھیاروں میں سے ہیں۔ سیکنڈوں میں پورے شہر ختم کر سکتے ہیں، بڑی تعداد میں جانیں لے سکتے ہیں اور ان سے بھی زیادہ وہ جو ریڈی ایشن کی بیماریوں سے اس کے بعد مرتے رہتے ہیں۔ لیکن ایٹم بم بنانے کے بعد ہم رکے نہیں۔ اس کے بعد فیوژن بم بنائے گئے۔ اس میں پہلے ایک عام ایٹم بم کو پھاڑا جاتا ہے۔ اس کے بعد اس سے بھی بڑا دھماکہ ہوتا ہے۔ لیکن یہ بھی سب سے زیادہ مہلک ہتھیار نہیں۔ یہ اعزاز نمکین ایٹم بم کے پاس ہے۔


ایٹم بم دو طریقے سے مارتا ہے۔ اگر آپ نے بہت سے لوگ مارنے ہیں، عمارتیں اور شہر تباہ کرنے ہیں تو وہ بڑا فلیش بینگ جو اپنے شکاروں کو دھواں بنا دیتا ہے لیکن اس کا ایک اور نتیجہ گاما ریڈی ایشن ہے۔ یہ شعاعیں اس ریڈیو ایکٹیویٹی کا نتیجہ ہیں۔ یہ لوگوں کو خوفناک طریقے دسے جلانے کے علاوہ ہڈیوں کے گودے میں گھس کر گڑبڑ مچا دیتی ہیں۔ خون کے سفید خلیوں کے کروموزوم تہہ و بالا کر دیتی ہیں۔ یا تو یہ خلیے مر جائیں گے یا بے قابو ہر کر بڑھنا شروع کر دیں گے یا کینسر پھیلا دیں گے۔

جرمنی سے نکالے گئے پناہ گزیں سائنسدان سیلارڈ، جنہوں نے ایٹم بم کی فزکس تلاش کی تھی، انہوں نے کیلکولیشن کی کہ اگر دنیا میں اوسطا ہر مربع کلومیٹر پر ایک گرام کوبالٹ 60 چھڑک دیا جائے تو نسلِ انسانی ختم ہو جائے گی۔ اس کو بکھیرنے کا طریقہ یہ کہ ایک عام فیوژن بم لیں اور اس کے گرد عام کوبالٹ کی جیکٹ چڑھا دیں۔ یہ دنیا سے انسانوں کو ختم کرنے کا موٗثر ترین طریقہ ہے۔ جیسے کھانے پر ڈالا اضافی نمک اس کا مزا دوبالا کر دیتا ہے اور زمین پر ہو تو زندگی ناممکن۔ ایسا نمکین بم کرتا ہے۔

ایک عام فیوژن بم میں بچے گئے نیوٹرون کے ذریعے پیدا کی ہوئی اضافی ریڈی ایشن اس کوبالٹ کو کوبالٹ 60 میں بدل دے گی۔ فیوژن بم میں ہائیڈروجن ہیلئم میں بدلتی ہے اور بڑا دھماکہ ہوتا ہے۔ اس میں بہت سے اضافی نیوٹرون بچ جاتے ہیں جو اس ری ایکشن میں استعمال نہیں ہوتے۔ سیلارڈ کے پیش کردہ بم کے آئیڈیا میں یہ اضافی نیوٹرون اس پر چھڑکے گئے “نمک” کی مدد سے مزید ریڈی ایشن پیدا کریں گے۔ یہ نمک دھماکے میں کردار ادا نہیں کرتا لیکن اس کا مقصد اضافی ریڈی ایشن پھیلا کر اس کو مہلک تر بنانا ہے تا کہ اس کا اثر زیادہ دیر تک رہے، زیادہ ہو اور دور تک پھیلے۔

گاما ریڈی ایشن دوسرے عناصر بھی پیدا کر سکتے ہیں لیکن کوبالٹ میں ایسا خاص کیا ہے؟ عام ایٹم بم سے محفوظ پناہ گاہوں میں رہ کر بچا جا سکتا ہے کیونکہ یہ اپنی گاما ریز کی قے جلد ہی کر کے ختم ہو جاتے ہیں۔ ہیروشیما اور ناگاساکی چند ہی روز میں رہنے کے قابل ہو گئے تھے۔ بہت سے عناصر اضافی نیوٹرون کو ہضم کر جائیں گے اور لمبے عرصے تک کچھ خارج نہیں کریں گے یا اتنا آرام سے کہ کوئی ضرر نہیں ہو گا۔ کوبالٹ ان دونوں انتہاوں کے درمیان میں ہے اور اپنی میانہ روی سے مارتا ہے۔ اس کے ایٹم باردوی سرنگوں کی طرح زمین میں بیٹھ جائیں گے۔ اس قدر خطرناک کہ رہنا ناممکن کر دیں لیکن ساتھ ساتھ اس قدر سست رفتار کہ پانچ سال کے عرصے میں ان کی تعداد نصف ہو۔ گاما رے کے اس اسلحے کو نہ برداشت کیا جا سکتا ہے، نہ ختم ہونے کا انتظار کیا جا سکتا ہے۔ زمین کو رہائش کے قابل ہونے میں انسانی عمر جیتنا عرصہ لگ جائے گا۔ اور صرف یہی نہیں۔ بارش اور ہوا سے یہ ذرات بہت دور دور تک پھیل کر زندگی بڑے پیمانے پر ختم کر دیں گے۔ یہ تابکاری زمین کی فضا میں شامل ہو کر یہ دنیا بھر میں اثرات دکھائی گے۔ ایک بار پھیل جائے تو اس کو صاف کرنے کا کوئی طریقہ نہیں۔

یہ ہتھیار بنانے کے لئے کوئی ایک جنونی چاہیے۔ سیلارڈ جنہوں نے پہلے نیوکلئیر بم کے پراجیکٹ پر کام کیا تھا، نیوکلئیر جنگ کے شدید مخالف تھے۔ نمکین بم کا خیال پیش کرنے کا مقصد ہتھیاروں کی دوڑ کے پاگل پن کو دکھانا تھا کہ یہ دوڑ ہمیں کہاں تک لے کر جا سکتی ہے۔ دنیا بھر سے انسانوں کو ہتھیاروں کی مدد سے ختم کرنا مشکل کام نہیں،

تو پھر کیا چند بموں سے دنیا میں سے زندگی کو ختم کیا جا سکتا ہے؟ شاید نہیں۔ سمندر کی تہہ میں رہنے والے بیکٹیریا پر شاید کوئی اثر نہ ہو۔ لیکن اگر جہاں تک انسانوں کا تعلق ہے، ان کے لئے ایسا کئے جانا اچھی خبر نہیں ہو گی۔

اس بم کے بارے میں
https://en.wikipedia.org/wiki/Cobalt_bomb

اس مضمون پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں