82

پودے…فرزندانِ نورِ خورشید

سورج کی روشنی پودوں کے لئے اپنی خوراک بنانے اور نشو و نما پانے کا ایک اہم ذریعہ ہے اگر یہ روشنی ان پودوں کو نہ ملے تو دوسرے جانورں کے لئے اس زمین پر قیام و طعام سب ختم ہو جائے. پودے سورج کی روشنی سے اپنے پتوں میں ضیائی تالیف photosynthesis کر کے خود اپنے لئے خوراک بنانے کا ہنر رکھتے ہیں.

☀ فوٹوسینتھیسز Photosynthesis :
یہ قدرت کا ایسا شاندار کیمائی عمل یا طریقہ ہے جو زندگی کو زمین پر قائم رکھنے کا باعث ہے. اس عمل میں پودے ہوا میں موجود گیس کاربن ڈائی آکسائڈ CO2 کو پانی کے ساتھ ملا کر فوٹوسینتھیسز کا عمل کرکے گلوکوز میں تبدیل کرتے ہیں. پانی اور CO2 پودوں کے پتوں کے خلیوں cells میں موجود کلوروپلاسٹ chloroplasts میں سورج کی روشنی کی مدد سے کیمائی عمل پیدا ہوتا ہے . ہر سیل کا کلوروپلاسٹ ایک طرح کاایک شمسی کارخانہ ہی ہوتا ہے اس میں خام مال لا کر اس کواہم قابل استعمال چیز میں تبدیل کیا جاتا ہے .
بنیادی طور پر اس عمل میں پانی H2O کے چھے مالیکیول اور ساتھ ہی کاربن ڈائی آکسائڈ کے چھے مالیکیول سورج کی روشنی میں گلوکوز,شوگر کا ایک مالیکیول C6H12O6 بناتے ہیں اور آکسیجن کے چھے مالیکیول کی ضمنی پیداوار by product کا اخراج کرتے ہیں. یہی شوگر کا مالیکیول زندگی کو جاری رکھنے کا سبب ہے. جانور ان پودوں کو کھا کر بھوک مٹاتے ہیں ,آکسیجن سے اپنی سانسیں قائم رکھتے ہیں. اور ان جانورں میں میٹابولزم کا نظام شوگر کو توڑ کر سورج کی توانائی کو آزاد کرکے اس کے نتیجے میں بننے والی ضمنی پیداوار CO2 کا اخراج کرتے ہیں اور یہی زندگی کی سائیکل ہے.

🌴 مائیٹوکونڈریا Mitochondria :
مائیٹوکونڈریا پودوں کے سیل میں توانائی کو پیدا کرنے کا ذمہ دار ہوتا. مائیٹوکونڈریا کو سیل کا پاورہاؤس بھی کہا جاتا یہ کلورروفل سے علیحدہ خود مختار حصہ ہے اور پودوں میں خام گلوکوز کو توانائی میں تبدیل کرتا ہے. مائیٹوکونڈریا ایک سیل اورگنیلی organelle ہے, (سیل کا وہ حصہ یا عضو organجو انفرادی طور پر ایک خاص کام انجام دیتا ہے اسے سیل اورگنیلی کہتے ہیں). یہ سیل میں نیوکلیس سے باہر بیضویoval شکل کے ہوتے ہیں. اس کی دو جھلیاں, ایک جھلی باہری طرف outer membrane جو بلکل ایک دیوار کی طرح ہموار ہوتی ہے اور دوسری اندرونی جھلی ناہموار یا خم دار ہوتی ہے. اس اندرونی جھلی میں میں موجود پتلا مائع جسے matrixکہتے ہیں میں ڈی این اے DNA اور رائبو زوم پایا جاتا ہے. رائبو زوم ہی فوٹو سینتھسسز کرتے ہیں. مائیٹوکونڈریا ہی پودے کے ہر سیل کو توانائی مہیا کرتے ہیں.

💐 پودوں کے پگمنٹ Pigments:
پودے جانوروں کی نسبت کئی قسم کے حیران کن پگمنٹ مالیکیول رکھتے ہیں. ان پگمنٹ کا ایک ظاہری و جسمانی مقصد اور دوسرا حیاتیاتی یا زندہ رہنے کے لئے کوئی کام کرنا ہوتا ہے. ان پگمنٹ سے یہ جانوروں کو اپنی جانب راغب کرتے ہیں اور اپنے بیجوں کو زمین پر پھیلاتے ہیں. دوسرے اس سے اپنے لئے خوراک تیار کرتے ہیں. یوں تو پودے کئی طرح کے پگمنٹ مالیکیول pigment molecules بناتے ہیں .پودوں کے پتوں میں تین اقسام کے پگمنٹ پائے جاتے ہیں اور پودوں سے ان پتوں کےجھڑ جانے تک ان کےپگمنٹ کے افعال کے مطابق پتوں کے رنگ نمایاں ہوتے ہیں.

🌲 کلورفل Chlorophyll پگمنٹ :
یہ پگمنٹ مالیکیول, سیل میں موجود chloroplasts میں بنتے ہیں . پودے کےسیل میں موجود کلورو پلاسٹ جو کلوروفل سے بھرا ہوتا ہے جوفوٹوسینتھیسز کے عمل کے ہونے کا مرکز ہے. کلوروفل pigments , روشنی میں موجود بنفشی violet, نیلا اور سرخی مائل اور نارنجی روشنی کو جذب کرتا ہے اور اور سبز رنگ کی روشنی کو منعکس reflect کر دیتا ہے دیتا. جو ہماری آنکھوں کو نظر آتی اور ہمیں پتے سبز رنگ کے دیکھائی دیتے ہیں. یہ تب ختم ہوتا ہے جب یہ اپنی زندگی پوری کر لیتا ہے. اس کے خاتمہ پر پودا اس میں موجود نائٹروجن کو جذب کرلیتا ہے.

پودوں میں کلوروفل پگمنٹ کے علاوہ بھی کئی دوسرے pigments ,مثلاً سرخ ,براؤن اور نیلے pigments جو پودےکے لئے سورج کی روشنی کی توانائی solar energy کو اپنے اندر جذب کرتےہیں یا پودےکو روشنی سے کسی بھی قسم سے پہنچنے والےنقصان سے محفوظ رکھتے ہیں

کاروٹنائڈ carotenoids پگمنٹ :
یہ اس بچی ہوئی سولر انرجی کو جذب کرتا ہے جو کلورفل پگمنٹ میں جذب نہیں ہوتی.تقریبا چھ سو کاروٹنائڈ پگمنٹ کو دریافت کیا جا چکا ہے. کاروٹنائڈ پگمنٹ کو پیلے , سرخ اور اورنج میں تقسیم کیا گیا ہے یہ نیلی روشنی کو جذب کرتے ہیں اور ہمیں پیلے سرخ اور اورنج رنگ کے نظر آتے ہیں .

انتھوسائنن Anthocyanin پگمنٹ :
یہ پودے کے Flavonoids مالیکیول کا ذیلی گروپ ہے. یہ نیلی,سبز روشنی کوجذب کرتا ہےاور پودے کے تنے,پتوں
,پھولوں اور پھل کو ہلکے سرخ رنگ دیتا ہے. موسم خزاں میں تقریباً تمام پتوں کو سرخ رنگ میں تبدیل کرنے کا باعث ہوتا ہےاور یہ پودے کو الٹرا وائلٹ شعاعوں سے محفوظ رکھتا ہے.

پودے جنکے پتے سبز رنگ کے نہیں ہوتے وہ بھی سورج کی روشنی سے توانائی کو باخوبی جذب کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں مگر کم روشنی میں یہ صلاحیت متاثر ہوتی جبکہ سبز پتے تھوڑی یا کم روشنی میں بھی پوری طرح توانائی جذب کرتے ہیں. سرخ پتوں میں الٹراوائلٹ شعاعوں سے پودے کو بچانے کی صلاحیت ہوتی ہےاور یہ پتے کھانے والے کیڑوں کو بھی دور رکھتے ہیں .

📖 پودے معمول کی روشنی اور اندھیرے کے نظام کو مکمل طور سے سمجتے ہیں سردیوں کے آتے ہی جب روشنی معمول سے کم وقت کے لئے ملتی ہے اور ان کے پتوں کے سیل کے جمنے یا ان میں خرابی پیدا ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے تو یہ خزاں کی تیاری میں اپنے پتوں کو گرانا شروع کر دیتے ہیں تاکہ ان کی جگہ آنے والےنئے اور تازہ پتوں کے ذر یعے زیادہ توانائی حاصل کر سکیں. سدا بہار پودے پورا سال یہ عمل مسلسل کرتےرہتے ہیں .

اس مضمون پر اپنی رائے کا اظہار کریں