31

پروکیریوٹس سے یوکیریوٹس کا ارتقاء

پروکیریوٹس سے یوکیریوٹس کا ارتقاء
Evolution from Prokaryotes to Eukaryotes

تحریر: ڈاکٹر نثار احمد
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ماہرین حیاتیات جانداروں کو خلوی ساخت کی بنیاد پر دو گروپوں میں تقسیم کرتے ہیں یعنی کے پروکیریوٹس اور یوکیریوٹس۔ پروکیریوٹس وہ یک خلوی جاندار ہیں جن کے خلیے کے اندر نیوکلیس اور دوسرے عضویے نہیں پائے جاتے۔ ان کی مثال آرکیا، بیکٹیریا اور سائنوبیکٹیریا ہے۔ جبکہ یوکیریوٹس میں یک خلوی اور کثیر خلوی دونوں طرح کے جاندار پائے جاتے ہیں جن کے خلیے میں نیوکلیس اور دوسرے عضویے جیسا کہ مائٹوکانڈریا، کلوروپلاسٹ، اینڈو پلازمک ریٹی کیولم وغیرہ موجود ہوتے ہیں۔ ان کی مثال یک خلوی پروٹسٹس، فنجائی، پودے اور جانور ہیں۔

خلوی ساخت کو بنیاد بنا کر ارتقائی سائینس دانوں کا یہ خیال ہے کہ سب سے قدیم جاندار آرکیا (Archea) ہیں۔ آرکیا ڈومین کے علاوہ دو مزید ڈومینز کا نام بیکٹیریا (Bacteria) اور یوکیریا (Eukarya) ہے۔ ان تینوں ڈومینز میں خلوی ساخت میں فرق ہے۔ حالانکہ آرکیا اور بیکٹیریا خلوی ساخت کے اعتبار سے پروکیریوٹس ہیں لیکن آرکیا کی بہت سی خصوصیات یوکیریا سے ملتی ہیں۔

پروکیریوٹس سے یوکیریوٹس کا ارتقائی خیال
Evolutionay explanation of eukaryotes

پروکیریوٹس سے یوکیریوٹس کے ارتقاء اور یوکیریوٹس کے اندر عضویوں کے بننے سے سے متعلق دو ارتقائی مفروضے پائے جاتے ہیں۔

1۔ خلوی جھلی کا اندر دھنس کر عضویے بنانا
Membrane invagination Hypothesis
2۔ اینڈو سمبائیونٹ مفروضہ
Endosymbiont Hypothesis

اس میں پہلا مفروضہ اب مسترد کر دیا گیا ہے اور ارتقائی سائینس دان اب صرف دوسرے مفروضے کو مانتے ہیں۔

اینڈو سمبائیونٹ مفروضے کے مطابق ایک پروکیریوٹ نے کسی دوسرے پروکیریوٹ کو سالم نگل لیا لیکن نگلنے کے بعد دونوں بیکٹیریا میں دوستانہ تعلق بن گیا اور جس بیکٹیریا کو نگلا کیا وہ بیکٹیریا مائیٹوکانڈریا میں تبدیل ہوگیا۔ اسی طرح ایک دفعہ پھر اس بیکٹیریا نے کوئی فوٹو سنتھیٹک پروکیریوٹ کو نگل لیا اور دوستی کے بعد وہ پروکیریوٹ کلوروپلاسٹ میں تبدیل ہو گیا۔ اسی طرح دوسرے عضویے بھی وجود میں آئے۔

پروکیریوٹس اور یوکیریوٹس میں فرق
Differences between Prokaryotes to Eukaryotes

ارتقائی مفروضے بنانے والوں کو یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ پروکیریوٹس اور یوکیریوٹس میں مزید بہت سے فرق ہیں جن کے بارے میں آج تک کوئی ارتقائی وضاحت نہیں دی گئی۔
1۔ پروکیریوٹس میں 70S رائبوسومز پائے جاتے ہیں جبکہ یوکیریوٹس میں 80S .
2۔ پروکیریوٹس کی خلوی دیوار پیپٹائیدو گلائیکین سے بنی ہوتی ہے جبکہ یوکیریوٹس میں پودوں کی خلوی دیوار سیلولوز جبکہ فنجائی کی کائیٹن سے بنی ہوتی ہے۔
3۔ پروکیریوٹس میں ایک ہی سرکولر ڈی این اے پایا جاتا ہے جبکہ یوکیریوٹس میں کروموسومز موجود ہوتے ہیں۔
4۔ پروکیریوٹس میں پوسٹ ٹرانسکرپشنل موڈیفیکیشنز نہیں پائی جاتیں جبکہ یوکیریوٹس میں پائی جاتی ہیں۔
5۔ پروکیریوٹس میں ڈی این اے بنانے والا ایک اینزائم ہوتا ہے جبکہ یوکیریوٹس میں تین۔

اس کے علاوہ بھی دونوں میں درجن بھر فرق ہیں جن کی کوئی ارتقائی وضاحت موجود نہیں۔

اینڈوسمبائیونٹ مفروضے کا تنقیدی جائزہ
Critical analysis of endosymbiont hypothesis

اب ہم دیکھتے ہیں کہ کیا سائینسی اصولوں کے تحت اینڈوسمبائیونٹ مفروضہ ممکن ہے یا نہیں۔ ہم یہ تمام باتیں پوائنٹس کی شکل میں لکھتے ہیں۔

1۔ سب سے پہلے میں ماہر ارضیات چارلس لائل کی ایک بات دہرانا چاہوں گا کہ اگر کسی کے پاس کوئی مضبوط سائینسی دلیل نہ ہو تو پھر کوئی بھی مفروضہ احتیاط سے پیش کرنا چاہیے تاکہ یہ نہ ہو کہ بعد میں شرمندہ ہونا پڑے۔

2۔ مائیٹوکانڈریا کے ارتقاء میں پہلا سوال یہ ہے کہ کس نے دوسرے کو نگلا؟ کیا آرکیا نے بیکٹیریا کو نگلا کیونکہ یوکیریوٹس بیکٹیریا کی نسبت آرکیا سے زیادہ ملتے جلتے ہیں یا بیکٹیریا نے کسی ایسے خلئے کو نگلا جس میں مائیٹوکانڈریا موجود تھا۔ کیونکہ سائینس دانوں کا خیال ہے کہ نیوکلیس آرکیا میں وائرس انفیکشن کی وجہ سے پیدا ہوا۔ مختصر یہ کہ نیوکلیس اور مائیٹوکانڈریا اکھٹے کیسے ہوئے؟

3۔ 1990 کی دہائی میں سائینس دان اس بات پر متفق ہوگئے جسے آرکی زوا مفروضہ کہا جاتا ہے۔ اس کے مطابق ایک آرکیا جس میں نیوکلیس تھا اس نے مائٹوکانڈریل اینسسٹر کو نگلا۔ اس کی سپورٹ میں ایسے یوکیریوٹک آرکی زوا موجود ہیں جن میں مائٹوکانڈریا تو نہیں ہوتا لیکن نیوکلیس ہوتا ہے۔

4۔ اس لئے آرکی زوا مفروضہ جس کو اب ارتقائی سائینس مانتے ہیں اس کے دو حصے بنتے ہیں (a) ایک پروٹویوکیریوٹک ہوسٹ جس میں نیوکلیس موجود تھا نے ایک مائٹوکاندریل اینسسٹر کو نگلا (b) موجود آرکی زوا گم شدہ کڑیوں میں سے ایک ہیں۔

5۔ اوپر والے پوائنٹ کا پارٹ b اب مکمل مسترد ہوگیا ہے کیونکہ آرکی زوا میں ویسٹیجیل مائیٹوکانڈریا دریافت ہوگئے ہیں اور ان میں مائیٹوکانڈریا سے حاصل شدہ جینز بھی پائی جاتی ہیں۔

6۔ لیکن ارتقاء کے حامیوں کے لئے ڈرائونا خواب یہ ہے کہ پوائنٹ ‘a’ بھی مسترد ہوچکا ہے۔ کیونکہ پروٹویوکیریوٹک ہوسٹ اگر ہو سکتا ہے تو صرف آرکیا ہوسکتا ہے جن سے یوکیریوٹس زیادہ ملتے جلتے ہیں۔ مزید یہ کہ نگلنے کا کوئی ثبوت نہیں۔

7۔ سائینسی طور پر نہ کوئی بیکٹیریا آرکیا میں رہ سکتا ہے اور نہ کوئی آرکیا بیکٹیریا میں۔

8۔ ایسا کوئی آرکیا یا بیکٹریا آج تک دریافت نہیں ہو سکا جس میں نگلنے کی صلاحیت ہو۔ اب یہاں ارتقائی سائینس دانوں کا یہ کہنا کہ وہ صلاحیت ایک دفعہ پیدا ہوئی پھر ختم ہوگئی بالکل مضحکہ خیز ہے۔

آپ نے دیکھا کہ کس طرح سائینسی شواہد اس بات کی نفی کرتے ہیں کہ پروکیریوٹس سے یوکیریوٹس پیدا نہیں ہو سکتے۔ مزید میں یہ کہنا چاہوں گا کہ اگر میں کہوں کہ سورج پر انسان رہتے ہیں اور اس کا ثبوت یہ دوں کہ جا کر دیکھ کر آ جائو اگر نہ ہوئے تو کہنا۔ ظاہر ہے اپنی بات کو ثابت کرنے کیلیے مجھے ثبوت دینے ہیں ناکہ اوپر والی سٹیٹمنٹ۔

اس بارے میں آپ یہاں سے پڑھ سکتے ہیں۔

https://www.researchgate.net/publication/6254851_Eukaryote_evolution_Engulfed_by_speculation

https://www.facebook.com/ilmkijustju/

https://www.facebook.com/groups/AutoPrince/

http://justju.pk

اس مضمون پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں