294

جستجو_تحریری_مقابلہ- وقت

#جستجو_تحریری_مقابلہ۔۔

تحریر : زینب سلیم

۔۔۔۔۔وقت۔۔۔۔۔۔۔
سائنس کی تاریخ میں وقت بہت دلچسپ رہا ہے۔ وقت کیا ہے یہ سوال سب سے پہلے ارسطو نے خود سے کیا تھا جس کا جواب شاید ہم آج بھی نہ بتا پائے۔ ارسطو نے کہا کہ وقت چیزوں کا بدلنا ہے اگر ہر چیز ساکن ہے کچھ نہیں بدل رہا تو وقت کا کوئی وجود نہیں۔ جبکہ نیوٹن کا نظریہ اس کے الٹ تھا اس کے حساب سے وقت حقیقی تھا ہر چیز سے آزاد اگر کوئی حرکت کچھ نہ ہو تو بھی وقت لازمی ہوگا۔
کائنات بھی being کے بجائے becoming کے قانون پہ چلتی ہے نیوٹن ہو یا میکس ویل ان تمام کی equations ہمیں یہ بتاتی ہے کہ واقعات یا چیزیں کیسے ہو رہی ہیں نہ کہ وہ کیا یا کیسے ہیں۔
آسان الفاظ میں اگر کہا جائے تو وقت کسی بھی دو واقعات کے درمیان دورانیے کو کہا جاتا ہے۔ اور ہم نے وقت کو جاننا اور ترتیب دینا بھی ایسے ہی بہت سے واقعات کے دورانیے پہ غوروفکر کر کے سیکھا۔اور پھر ہم وقت کو منٹ سیکنڈ گھنٹے دن ہفتے اور سال وغیرہ کے یونٹس میں ناپنے لگے یہاں ہم سورج کے نکلنے اور غروب ہونے کے حساب سے وقت کو ناپتے ہے جس کی وجہ سے زمین کے الگ حصوں پہ الگ وقت ہوتا ہے کیونکہ زمین گول ہے اور اپنے محور کے گرد گھوم رہی ہے ( یہاں ایک چکر کو ہم ایک دن کہہ رہے ہیں۔) جس وجہ سے سورج کی روشنی مختلف حصوں پہ پڑتی ہے جسے ہم دن کا نام دیتے ہے اور جہاں نہیں پڑتی وہاں ہم نے رات کہہ دیا اور یوں الگ الگ ٹائم زونز کی بنیاد پڑی۔ ( یاد رہے یہاں ہم صرف زمین کے وقت کی بات کر رہے ہیں وگرنہ زمین کی گردش رکنے سے وقت کا فلو نہیں رکتا )۔ لیکن چونکہ ہم جانتے کہ جتنا یونٹ چھوٹا اتنی ( accuracy ) زیادہ تو یہاں ہم سیکنڈ کو زیادہ ایکیوریٹ تصور کرتے ہیں۔ ( یاد رہےسیکنڈ سے بھی چھوٹے یونٹس موجود ہے۔) پھر انسانون نے جب الگ الگ ( fundamental quantities ) کو ناپنے کے لئے ( standard ) بنایا تو وقت کو ناپنے کے لئے سائنسدانوں نے کہا کہ جب ( cesium ) ایٹم 9 ارب دفعہ اپنی وائبریشن مکمل کرے گا تو اس دورانیے کو ایک سیکنڈ کہا گیا۔ اور پھر اسی کو اسٹینڈرڈ رکھ کے تمام بڑے یونٹس کو تشکیل دیا گیا مثال کے طور پہ ساٹھ سیکنڈ کے دورانیے کو منٹ کہا گیا اور 3600 سیکنڈ کے دورانیے کو گھنٹہ۔
Leap Year.
جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ تقریبا ہر چار سال بعد فروری میں ایک دن کا اضافہ ہوتا ہے اور اس سال میں 365 نہیں بلکہ 366 دن ہوتے ہیں اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایسا کیوں ہے۔ اصل میں زمین سورج کے گرد اپنا ایک چکر 365 دن نہیں بلکہ اس میں ایک چوتھائی دن کا اور اضافہ ہوتا ہے اور اس حساب سے چار چکروں میں ایک دن کا اضافہ ہو جاتا ہے اور یوں ہم اس سال کے کیلنڈر میں ایک دن کا اضافہ کر کے اسے لیپ ایئر کا نام دیتے ہیں ۔

اب آتے ہے وقت کی تاریخ کی طرف آئنسٹائن سے پہلےتو نیوٹن کے مطابق وقت کو ہم یونیورسل مانتے تھے
لیکن جب آئنسٹائن نے اپنی ( theory of relativity ) پیش کی تو سائنس کی دنیا میں ایک تہلکہ سا مچ گیا خیر اس تھیوری کے مطابق وقت ( absolute ) نہیں بلکہ ( relative ) ہے اور فریم آف ریفرینس پہ ڈپینڈ کرتا ہے۔
یہ ایک حقیقت ہے کہ سمندری سطح سے پہاڑوں پہ وقت تیزی سے گزرتا ہے کیسے۔؟ آئیے سمجھنے کی کوشش کرتے ہے
آئنسٹائن کے مطابق کائنات ایک4D زمان و مکان کی چادر ہے جو پھیل رہی ہے جس میں 3D space ہے اور باقی ایک ڈائمنشن وقت کی ہے جسے ہم محسوس نہیں کر پاتے کیونکہ ہم خود 3D ہے لیکن یہ اپنا اثر ہر شئ پہ چھوڑتا ہے۔
اب ماس جو ہے چاہے وہ ستارے ہو سیارے ہو یا دیو ہیکل بلیک ہولز وہ اس اسپیس ٹائم فیبرک میں ( curvature ) پیدا کرے گا جسے ہم گریوٹی کہتے ہے۔
اب جہاں ماس زیادہ ہوگا وہاں گریوٹی یعنی کشش ثقل بھی زیادہ ہوگی اور وقت کی رفتار آہستہ ہو جائے گی یعنی اگر اس وقت آپ زمین پہ کھڑے ہے تو آپ کے پاوں کے قریب وقت سست ہوگا آپ کے سر سے۔ کیونکہ ہم جانتے ہے کہ سرفیس پر گریوٹی زیادہ ہوتی ہے اور جیسے جیسے ہم اوپر جائیں گے یہ کم ہوتی جائے گی۔
( اس مثال میں فرق ناقابل اثر ہوگا مگر ہوگا ضرور۔) یعنی ہمارے پاس دو الگ الگ وقت ہو گے اب یہاں سوال یہ آتا ہے کہ ان میں سے اصل یا حقیقی وقت کونسا ہے تو اس کا جواب یہ کہ یہاں حقیقت کا کوئی تصور نہیں ہوگا دونوں ہی وقت اپنے (frame of reference ) کے حساب سے بلکل درست ہیں۔

آئنسٹائن کی یہ تھیوری ہمیں یہی بتاتی ہے کہ ( how times evolve relative to each other.)
چیزیں ہمیشہ وہاں سفر کرتی ہیں جہاں وقت کا فلو آہستہ ہو۔زمین پہ چیزیں اس لیے گرتی ہے کیونکہ زمین کا ماس وقت کی رفتار کو آہستہ کرتا ہے۔لیکن اگر ہم زمین سے باہر کی بات کریں تو وہاں یہ فرق بہت واضح ہوتا ہے۔
اور زمین سے باہر خالی اسپیس میں چیزیں گرتی نہیں بلکہ تیرتی ہے کیونکہ وہاں وقت یونیفارم ہے۔
اس کے کچھ عرصے پہلے ہی آئنسٹائن نے دنیا کو یہ بتایا تھا کہ نہ صرف ماس وقت کی رفتار کو سست کرتا ہے پر اسپیڈ بھی وقت کو سست کرتی ہے یعنی کہ کسی بھی دوڑتے انسان کا وقت ایک خالی کھڑے انسان سے سست گزرے گا۔ البتہ (observable effects ) کے لیئے اسپیڈ کا زیادہ ہونا ضروری ہے۔
اور یہ 1971 میں ثابت بھی ہوا جب دو ہوائی جہازوں پہ (precise clocks ) استعمال کیے گئے
جن میں سے ایک پرواز میں تھا جبکہ دوسرا وہی تھا۔اور یہ دیکھا گیا کہ جو جہاز ( onboard ) تھا اس کی گھڑی کا وقت نیچے والی گھڑی سے سست تھا۔

ہم وقت کو تین حصوں میں تقسیم کرتے ہے جو گزر گیا وہ ماضی۔ جو ہے وہ حال اور جو ہوگا وہ مستقبل۔ سائنس میں کوئی exact ماضی حال یا مستقبل نہیں ہے بلکہ وہ بھی relative ہے۔
مثال کے طور پہ اگر میں آپ سے پوچھوں کہ اس وقت آپ کی بہن جو کہ کسی دوسرے ستارے یا سیارے پہ موجود ہے وہ کیا کر رہی ہے۔؟ یعنی میں آپ سےاس کا حال پوچھ رہی ہوں
تو شاید بلکہ یقینا آپ نہیں بتا پائے گے کیونکہ یہ سوال ہماری عقل سے بالاتر ہے۔
اب اگر میں آپ سے یہ پوچھوں کہ آپ کے ساتھ بیٹھی آپ کی بہن ابھی کیا کر رہی ہے تو آپ اسے دیکھ کے آسانی سے بتا دینگے۔ لیکن کیا آپ واقعی وہی دیکھے گے جو وہ ابھی کر رہی ہے کیونکہ آپ نے اسے تب دیکھا جب روشنی اس سے رفلیکٹ ہو کے آپ کی آنکھوں میں آئی۔ جس میں نینو سیکنڈ کو وقت تو لگا ہی ہوگا اور اگر وہ آپکے ساتھ نہیں اور آپ اس سے موبائل پہ پوچھتے ہے تو اس کی آواز پہنچنے میں بھی کوئی ملی سیکنڈ تو لگے ہوگے یعنی آپ وہ دیکھ یا سن رہے ہیں جو وہ کچھ نینو یا ملی سیکنڈ پہلے کر رہی تھی نہ کہ ابھی۔
اب اگر پھر بھی ہم اس کو حال تصور کر رہے تو ہمارا حال کسی اور ستارے یا سیارے کے حال سے مختلف ہوگا کیونکہ وہاں پھر فاصلہ اور بڑھ جائے گا۔
مطلب کہنے کا یہ ہے کہ ہمارا حال محدود ہے جس کی حد ہماری اپنی ( precision ) پر مبنی ہے یعنی ہمارے لیے جو حال ہے وہ کسی اور کا ماضی بھی ہو سکتا ہے۔ اس کو زیادہ اچھے سے سمجھنے کے لئے Arrow of time کا سمجھنا لازمی ہے لیکن مضمون پہلے ہی طویل ہو چکا ہے تو ابھی کے لئے اتنا ہی۔۔۔

نوٹ : اس تحریر میں موجود کچھ معلومات معروف سائنسدانوں کی کتابوں سے لی گئی ہے۔

اس مضمون پر اپنی رائے کا اظہار کریں

2 تبصرے “جستجو_تحریری_مقابلہ- وقت

تبصرے بند ہیں